آ اک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں

ہماری اردو شاعری میں کافر یا بت کے الفاظ محبوب کیلئے استعمال ہوتے ہیں کیونکہ محبوب کی توبہ شکن اداﺅں کے سامنے چنگا بھلا باشعور انسان بھی جان ہی نہیں ایمان کی بھی پروا نہیں کر پاتا۔

سچا عاشق اتنی بڑی نعمتیں نظر ناز پر قربان کر دیتا ہے۔ محبوب کوصنم یا بت اس لئے کہا جاتا ہے کہ عاشق سچا پجاری بن کر اپنا تن من دھن اس کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے حالانکہ وہ ظالم اس کی بات بھی سن نہیں رہا ہوتا۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:

ہم پوچھتے ہیں مسلم عاشق مزاج سے

الفت بتوں سے ہے تو برہمن سے بیر کیا

اے عاشق مزاج مسلمان! اگر آپ بتوں (یعنی معشوقوں) سے اتنی الفت رکھتے ہیں تو پھر آپ ہندوﺅں یا برہمنوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟”زہد اور رندی“ میں اقبالؒ خود اپنے متعلق فرماتے ہیں:

 ہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانی

سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا

اقبال ہندوﺅں کو کافر نہیں سمجھتے تھے اور کیوں نہیں سمجھتے تھے؟ اس پر عامة المسلمین تو رہے ایک طرف، سکہ بند علما نے بھی شاید ہی کبھی غور فرمایا ہو۔  جن لوگوں نے اقبال کو گہرائی سے پڑھا ہے وہ ضرور جانتے ہوں گے کہ اقبال نے کسی بھی مذہب کی عبادت گاہوں بالخصوص ہندو مندروں سے کبھی حقارت یا اجنبیت نہیں برتی۔ بلکہ اپنے کلام میں جابجا وہ جس طرح مساجد کا ذکر کرتے ہیں اسی طرح مندروں کی بھی عزت افزائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جس طرح ہمارے قابلِ صد احترام صوفیا کرام بشمول بابا بلھے شاہؒ ، پیر وارث شاہؒ اور حضرت مادھو لعل حسین شاہؒ نے اپنے اپنے کلام میں مندروں کے تذکرے مساجد کی طرح اپنائیت سے کئے ہیں۔ اسی طرح ہمارے عظیم اردو شعرا بشمول میر، غالب اور اقبال دیر و حرم کی اصطلاح بکثرت استعمال فرماتے رہے ہیں۔ اگر اس کی تفصیل جمع کی جائے تو پوری کتاب بن سکتی ہے اور یہ سب ہماری برصغیر جنوبی ایشیا کی صدیوں پر محیط تاریخ و تہذیب کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے۔ اقبال جب یہ فرماتے ہیں:

 بلا کے دیر سے مجھ کو امام کرتے ہیں

جو بے نماز کبھی پڑھتے ہیں نماز اقبال

مدعا جو بھی ہے مندر سے اقبال کی اپنائیت اور انسیت واضح ہے۔ اسی طرح ایک جگہ وہ کیا خوب فرماتے ہیں:

            میں امتیازدیر و حرم میں پھنسا ہوا

کعبے میں بت کدے میں ہے یکساں تری ضیا

درحقیقت اقبال خود پر تنقید کرتے ہوئے قوم کو سمجھا رہے ہیں کہ خدا کے بندو امتیازِ دیر و حرم نہ کرو اپنے ہم وطنوں سے امتیازی رویے نہ اپناﺅ۔ کعبے وبت کدے سے یا ایمان و کفر کی تنگناﺅں سے بلند ہو کر کل عالم کیلئے رحمت روشنی اور فیض کا باعث بنو۔ اگر وہ کہیں اہل دیر پر تنقید کرتے ہیں تو کیا اہل حرم کو معاف فرما دیتے ہیں:

   گلیم بوذرؓ و دَلقِ اَویسؓ و چادرِ زہرا ؑ

یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے

ہندی تہذیب کی رعنائی کو سمجھے بغیر کوئی شخص اقبال کی حقیقت تک پہنچ ہی نہیں سکتا جو اپنے دین و ایمان کو بھی ہندی اسلام قرار دیتے ہوئے قطعاً نہیں شرماتا۔ اپنے ہم عقیدہ لوگوں کو بھی وہ پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ ”دیا اقبال نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا“ وہ اپنے پیر رومی کے بالمقابل ”مرید ہندی“ بن کر کھڑے ہو جاتا ہے۔ اس کے نزدیک میر عرب کو ٹھنڈی ہوا ہند سے ہی آئی تھی:       

                                    نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا

چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا

                                    ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا

یونانیوں کو جس نے حیراں کر دیا تھا

 اقبال تو اپنی اولین کتاب بانگ درا کا آغاز ہی اس شعر سے کرتا ہے:

                                    چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

اے ہمالہ! اے فصیل کشورہندوستاں

                        تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے

ایک جلوہ تھا کلیم ؑ طور سینا کے لیے

                        پاسباں اپنا ہے تو، دیوارِ ہندوستاں ہے تو

امتحانِ دیدہ ظاہر میں کوہستاں ہے تو

درویش عرض کرتا ہے کہ پوری نظم میں اقبال عقیدتِ ہند سے کس قدر سرشار دکھائی دیتا ہے۔ آج ہمیں شاید اس کا ترانہ ہندی اچھا نہ لگے مگر اقبال نے اسے تا ابد اپنے کلام میں اپنے ہاتھوں شامل فرمایا ورنہ وہ اپنی دیگر باقیات کی طرح اسے باہر بھی رکھ سکتا تھا۔ جب انہوں نے خود شامل کر رکھا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں ناک بھوں چڑھانے والے۔ آپ فرماتے ہیں:

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بَیر رکھنا

                                    ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا

یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے

                        اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا

 

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری

                                    صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

                                    ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا

نقطہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ یہ اقبال کی اولین شاعری ہے بعد میں وہ پان اسلام ازم کے تحت مسلم وطنیت پر آ گئے تھے جیسے کہ انہوں نے فرمایا ہے:

مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

چین و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا

درویش کا جواب عرض ہے کہ اگر یہ توجیہ ہے تو اقبال ٹھہرے اس پر بھی نہیں وہ اس سے بھی آگے گزر کر ”قید ِ مقام سے گزر“، ”حور و خیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر“ کر فرماتے ہیں:

تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سرور     

ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر

وہ طرزِ کہن کو چھوڑ کر آئین نوکی طرف بڑھتے ہوئے اگر اپنی مذہبیت سے فارغ نہیں ہوتے تو چین و عرب یا یونان و مصر یا عالم انسانی کی طرف بڑھتے ہوئے ان کی عقیدت ہند بھی ختم نہیں ہو جاتی۔ مگر اس  میں کوئی شک نہیں کہ وہ اتاترک جیسا جدیدیت کا علم اٹھانے کا داعیہ ظاہر کرتے ہوئے ماضی و قدامت پرستی کی بجائے حقائق کی جدید بستیاں بسانا چاہتے ہیں:

کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد                  

مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد

یہاں وہ صاف مسلم ادوارِ ملوکیت و جبر کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وہ تاریخی و تہذیبی حوالوں سے مذاہب کا احترام کرتے ہیں تو وہ اتنے تنگ نظر نہیں ہیں کہ وہ ایک کا اثبات اور دیگر کی نفی کریں ان کا تو ملاﺅں سے ساری زندگی جھگڑا ہی اس بات پر رہا کہ ”میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد

اسی لئے وہ حرم کے ساتھ دیر اور مسجد کے ساتھ مندر کا یکساں احترام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ہندوﺅں کے مذہبی اوتار سری رام چندر جی کو کن پاکیزہ الفاظ میں ہدیہ عقیدت پیش فرماتے ہوئے انہیں ”چراغِ ہدایت“ اور ”امام ہند“ قرار دیتے ہیں:

لبریز ہے شرابِ حقیقت سے جامِ ہند                

سب فلسفی ہیں خطّہ مغرب کے رامِ ہند

ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز

اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند

اعجاز اس چراغِ ہدایت کا ہے یہی         

روشن تر از سحر ہے زمانے میں شامِ ہند

اس کے بالمقابل اقبال نے واعظ، حضرت، خطیب اور ملا کے بارے میں جو کچھ لکھا یا کہا ہے۔ کاش کوئی صاحب نظروہ سب جمع کر دے۔ اقبال ہی کیا امام الشعرا مرزا اسد اللہ غالب اور میر تقی میر جیسے عظیم مسلم شعرا جس طرح ہندو مندروں کا احترام کرتے رہے بلکہ قشفہ کھینچ کر دیر میں بیٹھتے رہے۔ کاش مطالعہ پاکستان کی ماری ہماری نئی نسل اس وسعت فکر کا ادراک کر سکے۔ برصغیر پاک و ہند میں یہ ہمارے عظیم الشان علمی و ادبی اسلاف ہندوﺅں یا ان کے مندروں کے متعلق ہرگز وہ مغائرت نہیں رکھتے تھے جس کے مظاہر آج ہم اسی قدیمی تہذیبی خطہ ارضی کے اہم مقامات پر دیکھ رہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اپنے نونہالوں کے کچے اذہان سے نفرت انگیز زہریلے پروپیگنڈے کو نکالا جائے جو انہیں شاہ دولے کے چوہے بنا دینا چاہتا ہے۔

ہم اپنی نئی نسلوں کے اذہان میں منافرت کی جگہ محبت اور جھوٹ کی جگہ سچائی کو آنے دیں اس کیلئے جبر و جہالت کی اندھی دیواروں کو توڑنا ہو گا اور آزادی اظہار کی راہوں کو کھولنا ہوگا۔

آخر میں اقبال کی نظم ”نیا شوالہ“ یعنی نئے ہندو مندر کی تعمیر کے حوالے سے اقبال کی تمنا یا آرزو پیش کئے دیتے ہیں جس میں وہ اپنے دیس میں دنیا بھر کے مندروں سے اونچا مندر تعمیر کروانا چاہتے ہیں:

آ، غیریت کے پردے ایک بار پھر اٹھا دیں

بچھڑوں کو پھر ملا دیں، نقش دوئی مٹا دیں

سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی

آ، اک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں

دنیا کے تیرتھوں سے اونچا ہواپنا تیرتھ

دامانِ آسماں سے اس کا کلس ملا دیں

ہر صبح اٹھ کے گائیں منتر وہ میٹھے میٹھے

سارے پجاریوں کو مے پیت کی پلا دیں

شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے

 دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے