کراچی طیارہ حادثہ: لواحقین کو فی مسافرایک کروڑ روپے کی ادائیگی کا اعلان
- منگل 04 / اگست / 2020
- 4820
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی انتظامیہ نے کراچی میں طیارہ حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی مسافر ایک کروڑ روپے ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پی آئی اے کے مطابق سی ای او ائیر مارشل ارشد ملک اور انشورنس کمپنی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل تمام لواحقین کو پچاس لاکھ روپے ادا کیے جانے تھے جو کیرج بائی ائیر ایکٹ 2012 کے مطابق تھے۔ پی آئی اے کا کہنا تھا کہ اب تمام مسافروں کے قانونی ورثا کو ایک کروڑ روپے فی مسافرانشورنس کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔
پی آئی اے پہلے ہی دس لاکھ روپے فی مسافر جنازے اور تدفین کے زمرے میں ادا کر چکی ہے۔ ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ بڑھائی گئی انشورنس کی رقم پہلے سے ادا کی گئی رقم کے علاوہ ہے۔ پی ائی اے نے اس سلسلے میں کام مکمل کرلیا ہے اور اب اسے قانونی ورثا کی جانب سے جانشینی کے سرٹیفیکیٹ کا انتظار ہے۔
ترجمان نےکہا کہ اس سلسلے میں جاں بحق مسافروں کے ورثا کو خطوط ارسال کیے جارہے ہیں۔ یاد رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز رن وے سے محض چند سو میٹرز کے فاصلے پرماڈل کالونی میں رہائشی آبادی میں حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ جس کے نتیجے میں طیارے کے عملے کے 8 اراکین سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔
وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے 25 جون کو قومی اسمبلی میں مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کا ذمہ دار پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، ضرورت سے زیادہ اعتماد اور توجہ نہ ہونے کے باعث ہمیں سانحے سے گزرنا پڑا۔
غلام سرور خان نے کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے فائنل اپروج پر کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی تھی جب وہ لینڈنگ پوزیشن میں آیا تب بھی کسی خرابی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔