پاکستان کے سرکاری نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو شامل کرلیا گیا

  • منگل 04 / اگست / 2020
  • 4750

وفاقی کابینہ نے پاکستان کے نئے سرکاری نقشے کی منظوری دے دی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیرسمیت دیگر متنازع علاقے بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم دنیا کے سامنے پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ لے کر آرہے ہیں جو پاکستانی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔

یہ نقشہ  پاکستان اور کشمیر کے لوگوں کے اصولی مؤقف کی تائید کرتا ہے۔ بھارت نے کشمیر میں پچھلے سال 5 اگست کو جو غاصبانہ اور غیرقانونی قدم اٹھایا تھا، یہ نقشہ اس کی نفی بھی کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج سے سارے پاکستان میں پاکستان کا سرکاری نقشہ وہی ہوگا جس کو آج وفاقی کابینہ نے منظور کیا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور عالمی سطح پر اب پاکستان کا یہ نقشہ ہوگا۔

مسئلہ کشمیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ میں پھر سے واضح کردوں کہ کشمیر کا صرف ایک حل ہے، وہ حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ہے۔ جو کشمیر کے لوگوں کو حق دیتی ہیں کہ ووٹ کے ذریعے فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ یہ حق انہیں عالمی برادری نے دیا تھا جو ابھی تک نہیں ملا اور ہم دنیا کو واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ اس کا واحد یہی حل ہے، اس کے علاوہ کوئی اور حل جیسا ہندوستان نے 5 اگست کو کیا اس سے کبھی بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لیے ہماری حکومت کوشش کرتی رہے گی۔ پاکستان کا نیا نقشہ منزل کی طرف پہلا قدم ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں اپنی زندگی کے تجربے سے بتانا چاہتا ہوں کہ انسان اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے ایک تصور کرتا ہے کہ وہ کدھر جارہا ہے، یہ نقشہ پہلا قدم ہے اور ہم سیاسی جدوجہد کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم فوجی حل کو نہیں بلکہ سیاسی حل کو مانتے ہیں، اقوام متحدہ کو بار بار یاد دلائیں گے کہ آپ کا ایک وعدہ تھا جس کو آپ نے پورا نہیں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 'مجھے اپنے اللہ پر یقین ہے کہ ہم ان شااللہ ایک دن اس منزل پر پہنچ جائیں گے'۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پوری قوم، وزیراعظم اور حکومت کو مبارک باد ہو، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کا حل نکلے گا جس کا وعدہ بھارت نے کیا ہے۔ اس نقشے میں درج کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک رائے شماری ہوگی کہ کشمیر کا مستقبل کیا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نقشے نے  پاکستان کے مؤقف کی مزید وضاحت کی ہے۔ نقشے میں پہلے ایک لکیر ہوتی تھی اورتاثر دیا جاتا تھا کہ جموں و کشمیر پر ابہام ہے۔ آج ہم نے بین الاقوامی سرحد کو واضح کردیا ہے۔ یہ علاقہ حل طلب ہے۔ نقشے میں واضح کردیا گیا ہے کہ سیاچن کل بھی ہمارا تھا اور آج بھی ہمارا ہے۔ ہم بھارت کے مؤقف اور ان کے غیر قانونی اقدامات کو چیلنج کررہے ہیں۔

نقشے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکریک میں ہندوستان جو دعویٰ کرتا تھا ہم نے اس نقشےمیں اس کی نفی کردی ہے اور ہم نے کہا ہے کہ پاکستان کا مؤقف یہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نقشے میں جو دکھایا ہے اس پر کوئی ابہام پیدا کرنے کی کوشش بھی نہیں کرسکتا اور پاکستانی قوم اس سیاسی نقشے پر متفق ہے۔ وزیراعظم نے پوری کابینہ کو اعتماد میں لیا اور کابینہ نے اس نقشے کی توثیق کی۔ کشمیر کی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا اور کشمیر کی قیادت نے کل اس نقشے کی مکمل توثیق کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قوم کو مبارک ہو۔ آج ایک تاریخی دن ہے۔