نریندر مودی نے ایودھیا میں متنازعہ رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا
- بدھ 05 / اگست / 2020
- 5040
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ملک کے شمالی شہر ایودھیا میں بابری مسجد کی متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔ نریندر مودی نے مندر کے سنگِ بنیاد رکھنے سے قبل خصوصی پوجا بھی کی۔
تقریب سے خطاب میں نریندر مودی کا کہنا تھا کہ آج کے اس خصوصی موقع پر دنیا بھر میں رام کے بھگت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ بھارت ایودھیا میں ایک سنہرا باب لکھنے جا رہا ہے۔ کئی صدیوں کا انتظار ختم ہو گیا ہے۔ ان کا خطاب بھارت کے بیشتر ٹی وی چینلز نے براہ راست نشر کیا۔
بھارتی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ مندر ہماری روایات کی نئی علامت ہو گا۔ اس کی تعمیر سے ہماری عقیدت اور قومی جذبات کی بھی عکاسی ہو گی۔ یہ مندر اس بات کی بھی علامت ہو گا کہ کروڑوں لوگوں کی مشترکہ کوششیں کتنی طاقت ور ہوتی ہیں۔
سنگِ بنیاد کی تقریب کے موقع پر ایودھیا شہر کی کئی اہم سڑکوں کو رکاوٹیں اور خاردار تاریں رکھ کر بند کر دیا گیا ہے جب کہ تمام دکانیں اور کاروبار بند ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ایودھیا شہر میں تین ہزار پیرا ملٹری اہلکار تعینات ہیں۔
یاد رہے کہ 16ویں صدی میں تعمیر ہونے والی بابری مسجد کو 1992 میں ہندو انتہا پسندوں نے مسمار کر دیا تھا۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے گزشتہ برس ایک حکم میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کا حکم دیا تھا اور حکام کو مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین دینے کی ہدایت کی تھی۔
ہندو تنظیموں کا مؤقف ہے کہ جس مقام پر بابری مسجد تعمیر کی گئی تھی وہ اُن کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اور اس عمارت کے اوپر مغل بادشاہ بابر نے مسجد تعمیر کر دی تھی۔
نوے کی دہائی میں رام مندر کی تحریک کا حصہ رہنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 92 سالہ رہنما لال کرشنا ایڈوانی نے کہا ہے کہ آج اُن کے لیے جذباتی اور تاریخی دن ہے جس کا اُنہیں کئی دہائیوں سے انتظار تھا۔ رام مندر کے سنگِ بنیادکی تقریب کو کورونا وائرس کی وجہ سے محدود رکھا گیا۔ دوپہر میں شروع ہونے والی اس تقریب میں محدود تعداد مذہبی رہنماؤں، پجاریوں اور معززین کو مدعو کیا گیا تھا۔
بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں تعمیر کیے جانے والے مندر کا رقبہ تقریباً 84 ہزار اسکوائڑ فٹ ہے۔ مندر کی چوڑائی 235 فٹ، لمبائی 300 فٹ اور اونچائی 161 فٹ ہو گی۔ مندر کے ساتھ ایک کمپلیکس تعمیر ہو گا جس میں لیکچر ہال، یاتریوں کے ٹھہرنے کی جگہ اور میوزیم ہو گا۔ مندر کی تعمیر ساڑھے تین برس میں مکمل ہوگی ۔
مسلم تنظیموں کا مؤقف ہے کہ رام مندر کی تعمیر کے بعد خدشہ ہے کہ اترپردیش میں مزید دو مساجد کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ہندو تنظیموں کا مؤقف ہے کہ وارانسی شہر میں موجود گیانوپی مسجد مندر کی جگہ تھی جو لارڈ شیوا کے لیے وقف تھی جب کہ متھورا شہر میں جس مقام پر شاہی عید گاہ مسجد ہے اس سے متصل مندر بھگوان کرشنا کی جائے پیدائش ہے۔
رام مندر کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست گزار اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کو یہ یقین دہانی کرانا ہو گی کہ ہندو تنظیمیں وارانسی اور متھورا شہر میں موجود مساجد پر مندر کی تعمیر کا مطالبہ نہیں کریں گی۔