لاقانونیت کا سیلاب
- تحریر سرور غزالی
- بدھ 05 / اگست / 2020
- 10000
جب عدالتیں صرف طاقتور اور دولت مندوں کی مرضی کے مطابق فیصلے کریں اور ان میں بھی طاقتور ترین کو فوقیت دیں تو معاشرے سے انصاف کا بھرم ختم ہوجاتا ہے۔
جس معاشرے سے انصاف اٹھ جائے وہ انارکی کے ایک نہ ختم ہونے والے بھنور میں پھنس جاتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں جو امہ کا تصور ہے وہ بین المذہب معاشرے میں ہم آہنگی اور باہم اتفاق سے مل جل کر ایک کنبے کا تشکیل دیناہے۔ جبکہ اس کنبے یا معاشرے کو انارکی اور تشدد پسندی کی جانب دھکیلنا شرپسندوں کا کام ہے جنہیں خارجی اور کافر کا نام دیا گیا ہے۔ لیکن معاشرے میں ہم آہنگی تب ہی پیدا ہوسکتی جب معاشرے میں قانون سازی کا عمل پورے شعور اور ایمانداری سے کیا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قانون کی پاسداری اور اس پر عمل درآمد کو اہمیت دی ہے۔ اور نظام کو ایک بنیادی اصول کا اہم ستون بتایا ہے۔ نظام کی مربوطی سے تنظیم اور معاشرتی نظم و ضبط معاشرے کا جز لاینفک ہیں۔ کسی معاشرے کی اساس انصاف پر رکھنے کے لیے ایسے قوانین کا وضع کرنا نہایت ضروری ہے جس کے دورس نتائج معاشرے پر امن و آتشی کی صورت میں ظاہر ہوں۔ اور ایسے قوانین جو معاشرے میں کمزور اور اقلیتوں کو تحفظ دیں انہیں معاشرے میں لاگو کرنا ہر مہذب کنبے کا خاصا ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں قانون سازی اور قانون کی بالادستی میں ہمیشہ ہی سے معاشرتی ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ اور کمزورں کی اعانت کو پس پشت ڈال کر صرف اور صرف طاقتور کے مفاد کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ جب جب عدالتوں نے کسی فوجی بغاوت کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا ہے تب تب انصاف اور قانون نے دراصل طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ اور پھر ظلم و جبر کے دور میں اس طاقت کے منبع کی تعریف و توصیف میں، بے تکی خواہش اور بے جا ضد نے قانون سازی کو مذاق بنا کر قانون کی دھجیاں بکھریں ہیں۔
گزرتے وقت کے ساتھ قانون سازی اور قانون کی بالادستی شخصی اور ذاتی خواہش کا پر تو بن کر معاشرے کو بے چینی اور ہیجان کے راستے پر ڈالتے رہے۔ قانون سازی کو کٹھ پتلی کا تماشہ بناکر نت نئی شقیں حزب مخالف کو زیر کرنے اور دورانیہ حکومت کو طول دینے کے لیے گھڑی جانے لگیں۔ پے درپے قانون کی بالادستی کو ناکارہ بنانے کی وجہ سے صرف فوجی ہی نہیں گنی چنی سیاسی حکومتوں نے بھی قانون کو اپنی سہولت اور مخالفوں کے پیر کی بیڑی بنانے پر ہی اکتفا کیا ہے۔ اور نتائج، سمری عدالت، خصوصی عدالت، فوجی عدالت، شرعیت بنچ اور نیب وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔
قانون کے الگ الگ دھڑے ایک دوسرے سے متصادم پیرا گراف، عصبیت اورمذہبی، علاقائی انتہا پسندی کی صورت میں معاشرے کوانارکی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ اس ملک کی بد قسمتی سے یہاں نہ صرف نظریہ ضرورت کی عجیب و غریب اصطلاحات ایجاد کی گئیں بلکہ ایسے ایسے فیصلے بھی منظر عام پر آئے جن میں جج صاحبان کسی ایک فیصلے پر متفق نہ ہو سکے مگر ملزم کو شک کا فائدہ دینے کے بجائے سزا پر عملدرآمد کیاگیا۔
کمزور اور ناقص قانون سازی کے ساتھ ساتھ قانون کا نفاذ پاکستان میں ایک اور بڑی کمزوری پاکستانی معاشرے کو لاقانونیت اور قانون کی بالادستی سے آزاد معاشرے کی جانب دھکیلنے کا سبب بن رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے جب خود ہی اس قانون کی پاسداری نہ کریں تو قانون کی افادیت معدوم ہوجاتی ہے۔ لوگوں کو یہ احساس ہوتا کہ قانون صرف اور صرف پیسے اور طاقت کے ذریعہ اپنے مفاد کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
ایسی صورت میں معاشرے میں ایسی سوچ جنم لیتی ہے اور ہر کس نا کس کے دماغ میں پلنے والا اس کا مفاد ہی انصاف ہوتا ہے۔ اور ملک میں جنگل کا قانون بھی نافذ نہیں رہتا۔ ایسے میں جس کا جہاں زور، اثرورسوخ یا بس چلتا ہے وہ قانون کو اس سمت موڑ کر اپنی من مانی کرتاہے۔ اور ایسی ہی صورتحال میں علم دین اور قادری جیسے لوگ سامنے آتے ہیں۔ اور عام آدمی کا انصاف و قانون سے اعتبار اس قدر اٹھ چکا ہوتا ہے کہ وہ حکومت، قانون اور عدلیہ کا ساتھ دینے کی بجائے مجرموں کی حمایت کو درست مانتے ہیں۔
لاقانونیت کے اس سیلاب میں پورا معاشرہ ڈوب جاتا ہے۔