ایوان اقتدار میں انسانی خدمت کی مثال ؟

انسانیت کے پچھلے پانچ ہزار سالہ ادوار کا مطالعہ کریں تو سب سے درد ناک المیہ جبر اور طاقت کا اندھا استعمال جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا جنگلی اصول ہے۔ اقتدار یا حکمرانی کی ہوس نے ملک گیری یا فتوحات کی راہ اپنائی جس سے انسانیت پے در پے کچلی جاتی رہی۔

 یونانی فلاسفرز کی فکری عظمت کو سلام ہے جنہوں نے صدیوں قبل تہذیبی و جمہوری حوالوں سے انسانیت کی رہنمائی کی۔ یوں تہذیب حاضر نے ان بنیادوں پر عصری تقاضوں کی مناسبت سے جدید ترقی یافتہ جمہوری ریاستوں کا ہمہ گیر تصور اپنا لیا۔ ظاہر ہے یہ برسوں نہیں صدیوں کا شعوری و ارتقائی سفر ہے۔ بلاشبہ ماضی میں بڑی بڑی سلطنتیں قائم ہوئیں لیکن ان سب کی بنیادیں ظلم ، جبر، استحصال اور طاقت کے اندھے استعمال پر رکھی گئیں جس فرد یا قوم کے پاس کسی بھی ذریعے سے طاقت آ جاتی تھی وہ اس کے

زور پر دوسرے افراد اور اقوام کے خلاف جارحیت کرنا اپنا حق سمجھتا تھا۔لونڈیوں اور غلاموں کا بدترین استحصالی سماج اسی جبر پر استوار تھا۔ اقوام دیگر پر حملوں قبضوں اور لوٹ مار جیسی حرکتوں کو پوری ڈھٹائی کے ساتھ روا رکھا جاتا رہا۔

صدیوں کا سفر طے کرنے کے بعد آج کی تہذیب انسانی، ترقی کے جس مقام پر پہنچی ہے۔ بلاشبہ یہ آئیڈیل نہیں ہے اس میں ہنوز کئی خامیاں اور کوتاہیاں موجود ہیں جن کی تطہیر کے بعد ہی قومیت انسانیت کا روپ دھار سکے گی۔ لیکن عصر حاضر کی خوبیوں سے درگزر کرنا بھی بددیانتی و بے انصافی گردانی جائے گی۔

بالخصوص ان مہذب اقوام اور ان کے باشعور شہریوں کا ان کے اپنے ماضی یا اپنی تاریخ کے متعلق حقیقت پسندانہ انسانی رویہ و جائزہ۔ اپنے سفر برطانیہ میں درویش کو ایسے برٹش لوگوں سے مل کر خوشی ہوئی جو اپنے کالونیل ادوار کو اپنی قوم کے لئے قابل فخر قابل مذمت گردانتے ہیں۔ ان کے بقول وہ اپنے تعلیمی اداروں میں اپنے نونہالوں کے سامنے جارحیت کو جارحیت اور استحصال کو استحصال ہی پڑھاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارا رویہ کس قدر افسوسناک ہے کہ آج اکیسویں صدی کے بیسویں سال بھی ہم اپنی زیادتی کو زیادتی کہنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اپنے بڑوں کے مظالم کی داستانوں کو ہم خوشنما ڈرامائی تشکیل دیتے ہوئے اپنے نونہالوں کے معصوم اذہان میں انڈیل رہے ہیں۔ ہم میں سے کتنوں میں یہ انسانی اخلاقی بلندی موجود ہے کہ وہ لوٹ مار کو لوٹ مار ہی قرار دیں اور یہ تقاضا کریں کہ ہمارے سلیبس میں معصوم اذہان کو جھوٹ کی بجائے سچ پڑھایا جائے۔ کتنے ہیں جو یہ مطالبہ کریں گے کہ ہم نے اپنے میزائلوں تک کے نام بیرونی حملہ آوروں اور لٹیروں کے ناموں پر کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ ہم کیوں مصر ہیں کہ ہم نے اپنے اجتماعی قومی شعور کو آٹھویں صدی سے آگے نہیں جانے دینا؟

ماضی کاہی نہیں اگر ہم نے آج کی حکمرانی کا تنقیدی جائزہ لینا ہے تو اس کے کم از کم دو موٹے یا بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔ اول یہ کہ وہ حکمرانی کیا عوام کی آزاد مرضی سے قائم ہوئی ہے اور دوم یہ کہ وہ عوامی بہبود و ترقی یا عوام کے انسانی حقوق اور آزادیوں کے لئے کس قدر مفید ہے اس کے ساتھ ہی دیکھنے والی بات یہ ہو گی کہ اس حکمرانی خود اپنے کمزور طبقات، ہمسایوں یا دیگر اقوام عالم کے ساتھ طرز عمل انسان نوازی کا ہے یا جارحیت پسندی و مفاد پرستی؟

اس پس منظر میں درویش جب اپنے عالم اسلام پر اس حوالے سے نظرڈالتا ہے تو دکھ اور مایوس کے ساتھ تمنا کرنے لگتا ہے کہ اے کاش! ہماری مسلم ورلڈ بھی مہذب مغربی اقوام کے ہم پلہ ہو جائے۔ آخر کیوں مسلم اقوام اپنے بھیانک اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی ماضی کو خوش نما بنا کر پیش کرنے پر مصر ہیں۔ اور حال کا یہ عالم ہے کہ ملک در ملک آمریتیں چھائی ہوئی ہیں، انسانی حقوق اور آزادیاں پائمال ہیں لیکن گنواروں جیسا تفاخر ہے کہ جعلی تعلی کو ختم ہونے نہیں دیتا۔ اگر کسی کیلئے چند کلمات خیر بولے جا سکتے ہیں تو وہ بنگلہ دیش کی خاتون وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد ہیں۔

جبکہ ہمارے وسیع تر روایتی طبقات آج بھی عورت کی حکمرانی کے حوالے سے ہزار برس پیچھے کھڑے ہیں۔ شیخ حسینہ پوری مسلم ورلڈ میں اپنے ملک کی ہردلعزیز منتخب جمہوری رہنما ہیں۔ جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی قوم کو قوم کو آئینی و جمہوری حقوق کے ساتھ خوشحالی دلوائی ہے۔ ان کے والد محترم اور پورے کنبے کو جس سفاکی کے ساتھ معصوم بچوں سمیت قتل کر دیا گیا تھا اس سے شیخ حسینہ نے ہمت ہارنے کی بجائے عزم و عزیمت کے ساتھ جدوجہد کا راستہ اپنایا۔ اور جن کو ہم لوگ بھوکے بنگالی کہتے تھے شیخ حسینہ نے ان کے ٹکے کو دو روپے کے برابر لا کھڑا کیا۔

اسی طرح متذکرہ بالا اصولوں کی روشنی میں ہماری موجودہ دنیا کے تقریباً دو صد حکمرانوں میں اگر بہترین حکمرانی کا ایوارڈ دینا ہو تو وہ کینیڈا کے نوجوان وزیراعظم جسٹن ٹرﺅڈو کو بنتا ہے جو اپنے ملک میں دبے ہوئے کمزور طبقات کیلئے کسی نعمت و رحمت سے کم نہیں۔ جو  عوامی دکھوں کو اپنے دکھ سمجھتا ہے اور انہیں دور کرنے کیلئے ہر لمحے مستعد رہتا ہے۔ آج کا کینیڈا پوری دنیا کیلئے بلاتمیز مذہب و ملت رنگ و نسل بھرپور کشش رکھتا ہے تو اس کی وجوہ پر بھی بحث مباحثہ ہونا چاہیے۔

 آج کی دنیا میں بہترین حکمرانی کا ذکر کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم جیسنڈا  آرڈن کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ ابھی کورونا کے حوالے سے جب وہ یہ کہہ رہی تھیں کہ ہم نے اس بدترین وبا کے شکار آخری مریض کو بھی صحت یاب کرکے گھر پہنچا دیا ہے تو کتنا بھلا لگ رہا تھا۔ دنیا میں پہلا کورونا فری ملک، ہمارے جیسے ممالک اور ان کی قیادتوں کیلئے اس میں کتنا بڑا سبق ہے۔ یہ وہی وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنے ملک کی مسجد میں ہونے والی دہشت گردی کو بہترین اسلوب میں ہینڈل کرتے ہوئے اپنے ملک کی قلیل ترین اقلیت کی جس طرح دلجوئی کی تھی، اس سے پوری دنیا میں ان کا اور ان کے ملک کا سرفخر سے بلند ہوا تھا حالانکہ اپنی ذاتی زندگی میں وزیراعظم نیوزی لینڈ کوئی پارسائی یا پرہیز گاری کے تغمات لئے نہیں پھر رہی ہیں۔ جو باتیں ان کے حوالے سے کھلے بندوں بیان کی جاتی ہیں، وہ ہمارے ہاں کسی مرد و خاتون میں ہوں تو وہ الیکشن لڑنے سے ہی نااہل قرار دے دیا جائے کہ یہ صادق و امین کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔

 لیکن اصل ایشو یہ ہے کہ وہ عوام کے ساتھ چیٹنگ نہیں کرتی ان کی خدمت کو ہی عبادت سمجھتی ہے۔ یمارے لوگوں نے تو اسے اسلام قبول کرنے کی دعوتیں تک دے ڈالی تھیں۔ یعنی ہماری نظروں میں اچھائی کا معیار محض مسلمانی ہے آخر ہم کب ان تنگناﺅں سے اوپر اٹھ کر انسانی بنیادوں پر سوچیں گے۔ اسی چکر میں ہم آج تک عورت کی حکمرانی کو منفی نظروں سے دیکھتے ہیں حالانکہ فی زمانہ اگر خواتین کی حکمرانی کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو وہ کسی طرح بھی مردوں سے کمتر نہیں ہے۔اس حوالے سے جرمنی کی ہردلعزیز وزیراعظم انجیلامرکل کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔