باصر سلطان کاظمی: سرزمین شعر کا اجنبی مسافر
- تحریر ڈاکٹر ساجد علی
- بدھ 05 / اگست / 2020
- 22740
1971 کا سال تھا جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کا طالب علم تھا۔ باصر سے دوستی کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک دن باصر نے پہلی بار مجھے اپنی وہ غزل سنائی جس کا مطلع ہے :
دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے
وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے
غزل مجھے بہت ہی پسند آئی اور اس کا مطلع تو حواس پر اس قدر چھا گیا کہ کئی دنوں تک ہر وقت دماغ میں گردش کرتا رہتا تھا۔اس وقت سے اب تک تقریباً چار دہائیوں پر محیط دوستی کا یہ سفر جاری ہے۔ شیخ صلاح الدین نے ناصر کاظمی کے بارے میں ایک دھیان میں لکھا ہے کہ ناصر سے ان کی دوستی کے ابتدائی زمانے میں بہت خوں ریز بحثیں ہوا کرتی تھیں۔ میری اور باصر کی دوستی کا آغاز بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ رات گئے تک کرشن نگر کی گلیوں میں ہمارا بحث مباحثہ جاری رہتا تھا۔ ان بحثوں کا ایک خاموش سامع وحید رضا بھٹی ہوتا تھا۔ وحید میرا کلاس فیلو تھا اور اسی نے باصر سے تعارف کروایا تھا۔ میرا تعلیمی، مذہبی، ادبی اور سیاسی پس منظر چونکہ باصر سے بہت مختلف تھا اس لیے ہمارے درمیان اختلافی نکات بھی بہت ہوتے تھے۔ دو بڑے اختلافی موضوعات اسلامی تاریخ اور اقبال کی شاعری تھے۔ بعض اوقات تو بحث میں تلخی کا رنگ بھی نمایاں ہو جاتا تھا جس پر وحید کو بڑی پریشانی ہوتی تھی اور وہ شاید اس اندیشے میں گرفتار گھر جاتا تھا کہ معلوم نہیں صبح یہ آپس میں ملیں گے یا نہیں۔ مگر صبح ہمیں کالج میں اسی خلوص اور گرم جوشی سے ملتے دیکھتا تو ابتداً تو وہ حیران ہوتا مگر پھر وہ اس کاعادی ہوتا چلا گیا۔
ان مباحثوں میں تو کوئی بھی دوسرے کے نقطۂ نظر کا کبھی قائل نہ ہوا مگر دھیرے دھیرے ہمارے بھیتر میں تبدیلی آتی چلی گئی جس کے نتیجے میں غیر محسوس طور پر ہمارے خیالات اور افکار تبدیل ہوتے گئے۔ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم دنوں نے ہی اپنے ماضی کے بہت سے ترکے کو خیر باد کہہ دیا۔ باصر نے اقبال کو بطور شاعر از سر نو دریافت کیا اور اس کے اثرات اس کی شاعری میں دیکھے جا سکتے ہیں اور اب اس نے اقبال کی اسرار خودی کے ایک حصے کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ کالج کے زمانے میں ہم چند دوستوں کا جو گروپ تھا اس میں سبھی لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے تھے مگر ہم سب میں یہ بات مشترک تھی کہ ایک دوسرے کی تحریر کو سخت سے سخت تنقیدی معیار پر پرکھنے کی کوشش کرتے تھے، اس میں غلطیوں کی نشان دہی کرتے تھے، اس پر بحث کرتے تھے۔ اس طرز عمل نے ہمیں بہت فائدہ دیا اور ہم نے واقعتا ً ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھا۔
ستر کی دہائی ہماری آوارہ گردیوں اور رتجگوں کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں شاعری کے علاوہ باصر کو شطرنج سے جنون کی حد تک عشق تھا۔ وہ یا تو ہر وقت شطرنج کی بساط سامنے رکھے اکیلا ہی کسی گرینڈ ماسٹر کی گیم کو سمجھنے میں دماغ سوزی میں مصروف ہوتا یا پھر شطرنج کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کے بارے میں کتب کا مطالعہ کرتا رہتا۔ اسی زمانے کو یاد کرتے ہوئے اس نے یہ شعر کہے ہیں :
کھلاڑی مجھ سے بہتر بیسیوں پیدا ہوئے ہیں
مگر شطرنج سے جو عشق مجھ کو تھا کسے تھا
یہی بچائے گا تم دیکھنا مری بازی
بساط پر جو یہ ناچیز سا پیادہ ہے
مگر ستر کی دہائی کے آخری برسوں میں باصر نظام ہضم کی خرابی کا شکار ہو گیا جس کا سلسلہ کئی برس تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں اس نے اپنے طرز زیست کو بہت تبدیل کیا اور اپنی خوراک میں ازحد احتیاط اور اعتدال کی راہ اختیار کی مگراس نے شطرنج کھیلنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ تاہم کسی نہ کسی سطح پر اس کھیل میں اس کی دلچسپی برقرار رہی۔شاعری اور شطرنج کے علاوہ باصر کو پتنگ بازی کا بھی بہت شوق تھا۔ وہ بڑے اہتمام سے بسنت منانے کی تیاری کرتا، ڈور کو مانجھا بھی خود لگاتا تھا۔ بسنت کے دن سب دوست اس کے گھر کی چھت پر جمع ہوتے اور خوب ہلہ گلہ ہوتا۔ میں اور بعض دوسرے دوست تو محض باصر کی خوشی کے لیے شریک ہوتے تھے کیونکہ ہمیں پتنگ بازی کے بارے میں سرے سے کچھ معلوم نہ تھا۔
اسی زمانے کی بات ہے کہ ایک رات حسب معمول باصر کے گھر پر دوستوں کی منڈلی جمع تھی۔ نصف شب گزر چکی تھی جب اس نے یہ اعلان کرکے سب کو چونکا دیا کہ وہ ایک ڈرامہ لکھ رہا ہے۔ اور اس نے زیر تصنیف ڈرامے کے کچھ مکالمات اور سین پڑھ کر سنائے۔ ان مکالموں میں حکمت و دانش کی بہت گہری باتیں تھیں اور نثر اتنی زورد ار تھی کہ سب دوست حیران رہ گئے۔ اب اگلے کئی برس باصر ڈرامے کے مطالعے میں ہمہ تن غرق رہا۔ اس نے اردو کے سارے ہی طبع شدہ ڈرامے پڑھ ڈالے اور انگریزی زبان میں بھی بہت سے ڈرامہ نگاروں کا مطالعہ کیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب مجھے تشویش ہونے لگی کہ کہیں وہ شاعری کو ہی خیر باد نہ کہہ دے کیونکہ کچھ بیماری کے سبب اور کچھ ڈرامے میں انہماک کے باعث باصر نے 1976 سے 1979 تک چار برسوں میں صرف نو غزلیں کہی تھیں۔
باصر کی یہ عادت ہے کہ تخلیقی کام میں وہ کبھی بھی جلدی کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ بڑے صبر اور بڑی استقامت کے ساتھ کھیتی کے پھلنے پھولنے کا انتظار کرتا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنا ڈرامہ بساط تقریباً دس برس کے عرصے میں مکمل کیا جو ایک شاہ کار تصنیف ہے۔ اگرچہ بعض لوگوں کواس پر یہ اعتراض تھا کہ اس میں فلسفہ بہت زیادہ ہو گیا ہے اور وہ ڈرامے کی بجائے مکالمات افلاطون کی قبیل کی کوئی چیز لگتا ہے۔ جب یہ ڈرامہ کتابی صورت میں شائع ہوا تو ادبی حلقوں میں اس کی بہت پذیرائی ہوئی تھی۔
نوے کی دہائی میں باصر نے مزید تعلیم کے لیے انگلستان کا سفر اختیار کیا۔ قیام انگلستان کے دوران میں اسے علمی اور ادبی سرگرمیوں کے لیے ایک وسیع میدان میسر آ گیا اور اس نے نئے علاقے فتح کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ تعلیمی ڈگریوں کے حصول کے ساتھ ساتھ اس کی ادبی سرگرمیاں زیادہ بھرپور طریقے سے جاری رہیں۔ اس نے ڈرامے بھی تصنیف کیے جو وہاں کے بہت اعلی تھیٹروں میں اسٹیج ہوئے۔ اس کے دوسری قوموں اور زبانوں کے شاعروں اور ادیبوں سے روابط استوار ہوئے۔
ان روابط کا ایک ثمر یہ ہے کہ اس نے بھارتی نژاد برطانوی شہری اور انگریزی زبان کی شاعرہ دیبجانی چیٹرجی(Debjani Chatterjee) اور انگریزشاعر سائمن فلیچر کے ساتھ مل کر منی مشاعرہ کی بنیاد رکھی۔ دیبجانی ہندو ہیں اور ان کی مادری زبان بنگالی ہے۔ وہ ہندی سے بھی بخوبی واقف ہیں اور انگریزی کی انعام یافتہ اور مشہور شاعرہ ہیں۔ سائمن بھی انگریزی کے مستند شاعر ہیں جن کی کتاب کے بارے میں Poet Laureate ٹیڈ ہیوز (Ted Hughes)نے تعریفی جملے لکھے۔ یہ تینوں شاعر برطانیہ کے متعدد شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں جا کے اپنی شاعری سناتے ہیں اور ورکشاپیں منعقد کرتے ہیں۔ ان کا مقصد فن کے ذریعے مختلف قومیّتوں، مذاہب اور نسلوں کے لوگوں میں بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔
ان دوستوں کی رفاقت نے باصر کو نظم لکھنے کی طرف راغب کیا اور اس سے غزلیں سن کر وہ غزل میں دلچسپی لینے لگے۔ انہوں نے انگریزی میں غزل کی طرزپہ نظمیں بھی کہیں اور باصر کے ساتھ مل کے اردو غزلوں کے تراجم بھی کیے جو مختلف ادبی جرائد اور anthologiesمیں شائع ہو چکے ہیں۔ باصرنے بھی ان کی نظموں کو اردو میں منتقل کیا ہے جواس مجموعے میں شامل ہیں۔ آرٹس کونسل انگلستان کی سپانسرشپ پر سائمن نے اپریل 1997 میں لاہور کا دورہ کیا اور ناصر کاظمی کی پچیسویں برسی کے موقع پر الحمرا میں جو تقریب منعقد ہوئی تھی اس میں اپنی نظم پیش کی۔ دیبجانی نے اپریل 2006 میں باصر کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا۔ لاہور میں مختلف ادبی تنظیموں، ثقافتی اداروں اور تعلیمی درسگاہوں نے ان مہمانوں کی بہت پذیرائی کی۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں بھی دیبجانی اور باصر کے ساتھ ایک محفل منعقد ہوئی جس میں دونوں نے اپنا کلام سنایا۔
دیبجانی نے باصرکے اشتراک سے ناصر کاظمی کی 25 اور باصر کی 24 غزلوں کا انگریزی میں منظوم ترجمہ کیا ہے جو Generations of Ghazal کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ان تینوں شاعروں کے کلام کا ایک مجموعہ A Little Bridgeکے نام سے بھی شائع ہو چکا ہے۔ اب ناصر اور باصر کے حوالے سے انگریزی خواں لوگ اردو شاعری اور بالخصوص غزل کے ذائقے سے آشنا ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ غریب الوطنی کے اپنے مسائل ہوتے ہیں مگر باصر نے رونے دھونے کی بجائے اس صورت حال کو قبول کرتے ہوئے ایک نیا جہاں تعمیر کرنے کا تہیہ کر لیا۔ اس مجموعے کی افتتاحی غزل میں اس صورت حال کو بہت ہی عمدگی سے بیان کیا گیا ہے:
دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
باصر نے اپنے پہلے مجموعہ کلام موج خیال کے دیباچے میں لکھا تھا کہ انگلستان آنے کے بعد ’جب مجھے یہ خیال آنے لگا کہ اب میں صرف ڈرامے لکھا کروں گا اور شعر کبھی کبھار ہی ہوا کریں گے، میری شاعری کا ایک نیا دور شروع ہوا جو شاید اب صرف غزل تک محدود نہ رہے۔ اگرچہ غزل اپنی جگہ ایک لامحدود صنف سخن ہے‘۔ باصر کے اس نئے مجموعہ کلام سے اس کی یہ بات درست ثابت ہوتی ہے۔ اس نے غزل کے ساتھ نظم نگاری کی طرف بھی توجہ کی ہے بلکہ نثری شاعری تک جا پہنچا ہے۔ نثری نظم کے بارے میں اگرچہ میرے تحفظات ہیں مگر منیر نیازی کی ایک پنجابی نثری نظم ”گان والے پنچھی دی ہجرت“ پڑھنے کے بعد میں اس امکان کو تسلیم کر چکا ہوں کہ ایک حقیقی شاعر نثری نظم میں بھی اعلیٰ درجے کی تخلیق پیش کر سکتا ہے۔
باصر کا شعری سفر اب چار دہائیوں پر محیط ہے۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب گورنمنٹ کالج کے بعض اساتذہ اور شاعری سے شغف رکھنے والے طلبہ میں سے بہتوں کا خیال تھا کہ شاید وہ اپنے والد سے لکھوا کر لاتا ہے۔ والد کی وفات کے بعد جب باصر کہیں شعر سناتا تھا تو لوگوں کو اس میں ناصر کاظمی کا رنگ سخن خود بخود بولتا نظر آ جاتا تھا۔ ایک بڑے اور نامور باپ کا فرزند ہونے کے جہاں بہت سے فوائد ہوتے ہیں وہاں کچھ مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل سے عہدہ برا ہونے اور اپنی حیثیت منوانے کی خاطر بعض لوگ پدر کشی کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور بعض اس راہ سے ہی کنارہ کش ہو جاتے ہیں جو ان کے پدر کی راہ ہوتی ہے۔ باصر نے ایسا کوئی رویہ اختیار نہیں کیا۔ اسے جہاں ناصر کاظمی کا فرزند ہونے پر فخر ہے وہاں اس نے شعوری یا شاید لاشعوری طور پر یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس نے شاعری میں ناصر کا رنگ سخن اختیار نہیں کرنا۔ اس نے یہ شعر تو بہت بعد میں کہا ہے مگر اس کا عمل شروع سے یہی تھا:
بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی
ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ
میں وہ شخص ہوں جس کا تعارف باصر کی شاعری سے پہلے اور ناصر کاظمی کی شاعری سے بعد میں ہوا۔ اس لیے مجھے کبھی بھی باصر کی شاعری میں ناصر کا رنگ نظر نہیں آیا۔باصر نے اپنے والد سے شعر گوئی کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ لفظ کے استعمال کا سلیقہ بھی سیکھا ہے۔ ناصر کاظمی کے سب ملنے والے اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اس جیسا لفظ شناس شاید ہی کوئی اور ہو۔ ایک بار ہم ناصر کاظمی سے دوستی کے دعویدار ایک صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے ہمیں کوئی بات بتاتے ہوئے کسی قدر فخریہ انداز میں کہا کہ آخر ہم بھی ناصر کی صحبت میں بیٹھتے رہے تھے اور اس سے لفظوں کے استعمال کا ہنر سیکھا تھا۔ ہم نے یہی بات جب شیخ صلاح الدین صاحب سے بیان کی تو ان کا بے ساختہ جواب تھا کہ موصوف بالکل غلط بیانی سے کام لے رہے تھے۔ جب ان سے اس بات کی وضاحت مانگی تو شیخ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں کہا، ”بھائی اگر انہوں نے ناصر کاظمی سے کچھ سیکھا ہوتا تو اتنی گھٹیا شاعری کبھی نہ کرتے “۔ شیخ صاحب کے اس معیار سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ناصر کاظمی سے فیض یاب ہونے کا دعویدار خواہ بہت اعلیٰ شاعری نہ بھی کر سکے، مگر وہ گھٹیا شاعری کبھی نہیں کر سکتا۔ باصر اپنے اس دعوے میں سچا ہے کہ اس نے ناصر کاظمی سے تربیت حاصل کی ہے اور اس کا شعری سرمایہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کی شاعری میں بے ڈھب اور بھرتی کالفظ نہیں ملے گا۔ وہ لفظوں کی اداؤں کی مکمل جانکاری رکھتا ہے۔ خامہ بگوش نے ایک بہت مشہور شاعر کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ لفظ کو نگینے کی طرح جڑتے تھے مگر یہ نہیں دیکھتے تھے کہ نگینہ انگوٹھی میں جڑا جا رہا ہے یا انگوٹھے میں۔ باصر کے کلام کا قاری یہ جاننے میں غلطی نہیں کر سکتا کہ وہ انگوٹھی اور انگوٹھے کا فرق بخوبی سمجھتا ہے۔
اعلیٰ ادب اور دیگر فنون لطیفہ کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہر بڑا مصنف اور فن کار اپنی تخلیقی کاوشوں کے بارے میں خود انتقادی کا رویہ رکھتا ہے۔ قدرت کی طرف سے یہ صلاحیت بہت کم تخلیق کاروں کو عطا ہوتی ہے کہ ان کی اولین کاوش ہر اعتبار سے کامل ہو۔ شیخ صلاح الدین کے بقول ناصر کاظمی کا تخلیقی رویہ یہ تھا کہ وہ ”اپنے ہر شعر کو حق کے کڑے سے کڑے امتحان سے گزارتا اور جب کوئی شعر اس کے امتحان پر پورا اترتا تو وہ اس کو سناتا اور کئی کئی بار سنا کر اس کو پرکھ لیتا تو پھر اس کو شائع کرواتا۔ مگر وہ اس پر بھی مطمئن نہ ہوتا تھا“۔ کیونکہ اصلاح و ترمیم کا عمل اس کے بعد بھی جاری رہتا تھا۔ اس کے برعکس ہمارے بیشتر شاعر اور ادیب یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کے قلم سے جو کچھ کاغذ پر رقم ہوتا ہے وہ ان پر نازل ہوتا ہے۔ اور جو چیز اوپر سے نازل ہو اس میں کسی قسم کا تغیر کرنا یا اس کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا گناہ کبیرہ کے مترادف ہے۔ اس لیے جو وہ ایک بار لکھ لیتے ہیں نہ دوبارہ خود اسے پڑھتے ہیں اور نہ کسی دوسرے کی بات پر دھیان دینا گوارا کرتے ہیں۔ شاید اقبال نے انہی لوگوں کے لیے یہ شعر کہا تھا:
صاحب ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ رہے
گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے سروش
انیسویں صدی کے مشہور ولندیزی مصور وان گوخ(Van Gogh) کی تصویروں پر بعض ناقدین نے جب یہ اعتراض کیا کہ وہ بہت جلدی میں بنائی گئی ہیں، تو اس کا جواب یہ تھا کہ انہوں نے تصویروں کو بہت جلدی میں دیکھا ہے۔ تصویر بنانے کا عمل بے شک بہت جلدی میں ہوا ہے مگر ناقدین نے اس بات پرغور نہیں کیا کہ تصویر نے کتنے طویل عرصے تک مصور کے بطن میں پرورش پائی ہے۔خاموش آتش فشاں سے لاوا دفعتاً پھوٹ بہتا ہے مگر اسے بننے میں شاید صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ اس موقع پر ضمیر جعفری نے ملائی زبان کے پنتونوں کا جو اردو ترجمہ کیا تھا اس کا ایک مصرع یاد آ رہا ہے جس میں اس خیال کو بڑے خوبصورت انداز میں ادا کیا گیا ہے :
جب سب ٹیلا جل چکتا ہے تب جا کر لاوا بہتا ہے
وہ ناصر کاظمی کی تربیت کا فیضان ہے کہ باصر بھی لکھ کر کاٹنے کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ وہ اس بات کا شعور رکھتا ہے کہ ہیرا بھی ایک پتھر ہی ہے جب تک اس کو تراشا نہ جائے اور ہیرا تراشنا ایک بہت صبر آزما اور پر مشقت کام ہے۔ وہ اپنے لکھے کا خود بھی تنقیدی جائزہ لیتا ہے اور دوسروں کی بات کو بھی دھیان سے سنتا ہے۔ اگر کسی سقم کی طرف توجہ دلائی جائے تو اس پر غور کرتا ہے۔ اس کا عمومی رویہ یہ ہے کہ وہ اپنی تخلیق سے جب ایک حد تک مطمئن ہو جائے تو اسے قریبی دوستوں کو سناتا ہے اور اس پر رائے طلب کرتا ہے۔ دوستی کے اس طویل سفرمیں اس کے تازہ کلام کے اولین سامعین میں سے ایک میں بھی ہوں۔ یہ اس کا حوصلہ ہے کہ مجھ جیسے غیر شاعر کی بات کو بھی لائق توجہ گردانتا ہے۔ بلکہ ایک اعتبار سے اس نے مجھے ویٹو کا حق دے رکھا ہے۔ مجھے اپنی پسند ناپسند کا اظہار کرنے میں کبھی باک نہیں رہا۔ چنانچہ اگر کوئی شعر مجھے پسند نہ آئے تو میں بلاجھجک اپنی رائے کا اظہار کر دیتا ہوں۔ متعدد دفعہ ایسا ہوا ہے کہ اگر وہ قائل ہو گیا تو اس نے شعر کو یا تو بدل دیا یا حذف ہی کر دیا۔
ناصر کاظمی سے اس نے ایک اور بات سیکھی ہے اور وہ ہے رائج الوقت فیشن کی پیروی سے حذر کرنا۔ ناصر کاظمی کے زمانے میں ایک طرف تو وہ لوگ تھے جنہوں نے آئیڈیالوجی اور کمٹمنٹ کا پرچم اٹھا رکھا تھا اور ہر ادیب اور شاعر سے یہ تقاضا کیا جاتا تھا کہ اسے وہ لکھنا چاہیے جو پارٹی کی آئیڈیالوجی کا مقتضا ہے نہ کہ جو وہ خود لکھنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ تھے جو پیرس کے تازہ ترین فیشنوں کی پیروی کرنے کو ہی تخلیق کی معراج جانتے تھے۔ ان میں پہلے گروہ نے جو ادب تخلیق کیا اس کا حسب خراب تھا تو جدید ادب کا نسب مشکوک تھا۔ ان کے برعکس ناصر نے کسی آئیڈیالوجی کو کبھی درخور اعتنا نہیں سمجھا تھا۔ اس نے وہی کچھ لکھا جو وہ خود لکھنا چاہتا تھا۔باصر نے بھی شعر گوئی میں نہ تو ان روایتی حربوں سے کام لیا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا برائے شعر گفتن خوب است اور نہ کسی آئیڈیالوجی سے فکر مستعار لی ہے، نہ کسی نام نہاد روح عصر کو اپنی شاعری میں سمونے کی کوشش کی ہے اور نہ کبھی کسی فیشن کی نقالی میں شعر کہے ہیں۔ اسی کا ایک شعر ہے :
کم لکھا ہے لیکن جتنا لکھا ہے
جیسا لکھنا چاہا ویسا لکھا ہے
اس نے صرف اپنے محسوسات، مشاہدات، تخیلات اور تجربات کو موضوع سخن بنایا ہے۔ اس کی شاعری کا منبع اس کی اپنی ذات اور باطن کی پکار ہے مگر وہ خارجی دنیا کے احوال و وقائع سے بے خبر بھی نہیں۔ آس یاس، یافت نایافت، مسرت الم یہ سب زندگی کے رنگ ہیں اور باصر نے کسی رنگ سے منہ نہیں موڑا۔ زندگی کے بارے میں اس کا رویہ رومانی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ ہے۔ وہ ایک صورت حال کو قبول کر لیتا ہے مگر اس میں بہتری کی آرزو سے دست بردار نہیں ہوتا:
یہاں نہ جینے کا وہ لطف ہے نہ مرنے کا
کہا تھا کس نے کہ آ کر رہو پرائی جگہ
گلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
وان گوخ کا کہنا ہے کہ مصور کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے چھ بنیادی رنگوں میں توازن قائم کرنا۔ شاعر کا میڈیم رنگ نہیں الفاظ ہیں۔ اس کے لیے چیلنج ہے کسی قلبی واردات، روحانی کیفیت، ذہنی خیال، نفسیاتی حال کو مناسب اور دلربا جامۂ حرف میں ملبوس کرنا۔ شاعر لسانی وجود خلق کرتا ہے۔ اس لیے شاعری میں زبان کی حیثیت بنیادی ہے جبکہ موضوعات کی حیثیت ثانوی ہے۔ شاعر اظہار کے جو سانچے استعمال کرتا ہے ان کی ہیئت کی ایک روایت موجود ہوتی ہے۔ یہ سانچے اگرچہ بے لچک نہیں ہوتے مگر کوئی بھی سانچہ لامحدود حد تک لچک دار نہیں ہو سکتا۔ اب شاعر ان سانچوں کی لچک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے لسانی وجود خلق کرتا ہے جنہیں ناصر کاظمی کی ترکیب استعمال کرتے ہوئے مانوس اجنبی قرارد یا جا سکتا ہے۔ بطور خالق ایک شاعر کا مقام و مرتبہ اسی سے طے ہو گا کہ اس نے کتنے ایسے وجود تخلیق کیے ہیں جو بیک وقت مانوس بھی ہوں اور اجنبی بھی۔ باصر کی شاعری کا مقام طے کرنا تو اس کے قارئین یا پھر ناقدین کا کام ہے مگر میری رائے میں اس کی شاعری میں مانوس اجنبی قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں۔ اس کی غزل اگرچہ روایت سے جدا نہیں مگر اس کے ایک ایک شعر پر باصر کی مہر موجود ہے کہ یہ صرف اسی کا شعر ہو سکتا ہے کسی اور کا نہیں۔ اس مجموعے میں دو ایسی غزلیں بھی شامل ہیں جنہیں میں تجرباتی غزلوں کا نام دوں گا۔ ایک غزل میں اس نے دو مختلف قسم کے قافیے استعمال کیے ہیں جبکہ دوسری غزل میں محض بصری قوافی استعمال کیے گئے ہیں۔
باصر کے اولین مجموعہ کلام موج خیال میں اگرچہ اس کی انفرادیت پوری طرح جلوہ گر تھی مگر اس میں روایتی تغزل کے آثار بھی نمایاں تھے۔ اردو غزل کے ساتھ المیہ یہ ہوا تھا کہ میر صاحب جیسے بحر پر شور کی موجودگی کے باوصف غزل کو معاملہ بندی اور مخصوص لفظیات کی تنگنائے میں قید کر دیا گیا تھا۔ لہٰذا اقبال کی غزل کو غزل ماننے سے ہی انکار کر دیا گیا۔ ایک مخصوص انداز اور لہجہ تغزل کا نشان بن گئے۔ ہم نے سنا بھی اور پڑھا بھی ہے کہ محمد حسن عسکری صاحب اردو کے بہت بڑے نقاد تھے۔ قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں وہ ناصر کاظمی کی غزل کے بہت مداح تھے۔ مگر جب ناصر نے اپنی غزل میں گھاس کا لفظ استعمال کیا تو عسکری صاحب بدک گئے کیونکہ ان کا شعری ذوق غزل جیسی نازک صنف میں اتنے کریہہ الصوت لفظ کا استعمال برداشت نہ کر سکا۔ انہیں لگا کہ شاعر نے تغزل کا اپمان کیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ عسکری صاحب اگر آج زندہ ہوتے اور ناصر کاظمی کے فرزند کا یہ شعر سنتے تو ان پر کیا بیتتی:
مشکل ہوا پتنگ کو اپنی سنبھالنا
الجھی ہوئی ہے ڈور سے کوئی دگاڑ سی
مشکور حسین یاد صاحب نے باصر کو اکڑفوں شاعر قرار دیا ہے۔ مجھے ان کی اس بات سے اتفاق ہے۔ اسے اپنی ذات پر اعتماد ہے اس لیے نہ وہ شعر گوئی میں اور نہ مقبولیت کے لیے مروجہ بیساکھیوں کا سہارا تلاش کرتا ہے۔ وہ روایت اور تجربے کی اہمیت اور ان کے سمبندھ کا مکمل ادراک رکھتا ہے۔ اس کی تازہ کتاب چمن کوئی بھی ہو میں اس حقیقت کے کتنے ہی شواہد موجود ہیں کہ اس نے نہ صرف نئی زمینیں دریافت کی ہیں بلکہ ان میں نئی فصلیں بھی کاشت کی ہیں۔انگلستان آمد کے بعد اس کی غزلوں کا نیا لہجہ اور منفرد ذائقہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا تخلیقی سفر ابھی جاری ہے اور اس نے خود کو دہرانا شروع نہیں کیا۔ البتہ اسے اس بات کا احساس ہے کہ شاعری ہو یا کوئی اور فن، اس میں کمال حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ ارتکاز کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے بہت کچھ قربان بھی کرنا پڑتا ہے۔ اسی بات کو اس نے یوں ادا کیا ہے :
رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ بات
کرتی ہے آرزوئے کمال ہنر خراب
دو مزید اشعار درج کرنے کے بعد اجازت چاہوں گا کہ پریشاں خیالی کا یہ سلسلہ بہت طویل ہو گیا ہے۔ مگر غور کرنے کی بات ہے کہ اس غزل کی ردیف نے (اس مجموعے میں ایسی کتنی ہی غزلیں اور بھی ہیں ) معانی کے کتنے در وا کیے ہیں :
حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری
ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں
باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں
کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں
پس نوشت:
مندرجہ بالا تحریر سن 2008 کی ہے اور اس وقت باصر کے دوسرے شعری مجموعے۔ ”چمن کوئی بھی ہو“ کے دیباچے کے طور پر شائع ہوئی تھی۔ میرے لیے یہ بڑی خوشی کا مقام ہے کہ ان گزرے بارہ برسوں میں باصر کی شعری اور ادبی کامرانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس نے اپنی شاعری کا لوہا منوایا ہے اور اب اس کا کلام سن کر ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ آپ کے کلام کا لہجہ اور انداز ناصر صاحب سے بالکل الگ ہے۔ 2015 میں اس کا شعری اور نثری کلیات۔ ”شجر ہونے تک“ لاہور سے شائع ہو چکا ہے اور 2018 میں اس کا شعری کلیات ”اب وہاں رات ہو گئی ہو گی“ کے عنوان سے بھارت سے بھی شائع ہو چکا ہے۔ اس کا ڈرامہ ”بساط“ برطانیہ کے اے لیول کے اردو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کی غزلوں اور نظموں کا انگریزی ترجمہ اردو متن کے ساتھ Passing Through (ہم وہاں بھی رہے ) کے ٹائٹل کے ساتھ 2014 میں انگلستان کے بہت معتبر اشاعتی ادارے کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔
اس کو ملنے والے اعزازات کا سلسلہ بھی کافی طویل ہے۔
اس کا شعر، ’دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو/ پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو‘ ، مع انگریزی ترجمہ، پتھر پہ کندہ کر کے ( 2008 ) میں لندن سے ملحق شہر سلاؤ کے میکنزی چوک میں نصب کیا گیا۔ سن 2001 میں باصر کی ایک غزل انگریزی ترجمے کے ساتھ برطانیہ کے ہسپتالوں اور انتظار گاہوں میں آویزاں کی گئی، جس کا مطلع ہے :
زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی
بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی
باصر اردو کا پہلا شاعر اور ادیب ہے جسے بحیثیت شاعر اس کی ادبی خدمات کی بنا پر ملکہ برطانیہ کی جانب سن 2013 میں ایم بی ای ( MBE ) کا ایوارڈ عطا کیا گیا۔ 2017 میں علی گڑھ الومینائی ایسوسی ایشن، ہوسٹن، نے باصر کوعلی سردار جعفری ایوارڈ اور 2018 میں قطر کی بزم صدف نے عالمی ایوارڈ عطا کیا۔
مضمون کا اختتام باصر کی اس غزل پر کرنا چاہتا ہوں جو اب اس کی نمائندہ غزل بن چکی ہے:
یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے
میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے
اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے
جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے
دوستی میں تو کوئی شک نہیں اس کی پر وہ
دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے
صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار
ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے
ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تل ہم نے بھی
ہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے
اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے
باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوس
ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے سنوارا کم ہے
آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ
کونسا کام ہے وہ جس میں خسارا کم ہے
(بشکریہ: ہم سب لاہور)