برصغیر کو مذہبی جنونیت سے نکالا جائے

بد قسمتی سے پاکستان اور بھارت کی قیادت اس وقت دو ایسے کوتاہ بین رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے جو مذہبی اور جنگی جنون میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف ہندو توا ہے تو دوسری طرف ریاستِ مدینہ۔

دونوں اپنے اپنے مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ہندو مذہب کا تو مجھے اتنا عِلم نہیں کہ اُس پہ تبصرہ کر سکوں۔ لیکن نریندر مودی جیسے انسان کو دیکھتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ اپنے لوگوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔ اُس کی اِس حماقت نے بھارت میں اقلیتوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ اور وہاں آئے روز بنیاد پرست ہندوؤں

کے ہاتھوں انسانیت سوز مظالم دیکھنے کو ملتے ہیں۔

الحمدللہ میں چونکہ خود مسلمان ہوں۔ اور جانتا ہوں کہ ریاست مدینہ عدل و انصاف اور تکریمِ انسانیت کی علمبردار تھی۔ ہمارے ملک میں پچھلے دو سال میں کتنا عدل و انصاف ہوا۔ تکریم انسانیت کی کیا صورتِ حال ہے۔ وہ ہم روزانہ میڈیا میں دیکھتے رہتے ہیں. سانحہ ساہیوال ہو یا ماڈل ٹاؤن۔ نیب کے ہاتھوں اپوزیشن کا یک طرفہ احتساب ہو یا چینی و آٹا کمیشن۔ غیر جانبداری سے دیکھیں تو صادق اور امین حکومت کے لئے کوئی قابلِ فخر بات نہیں۔ آنکھیں اورذہن بند کر کے واہ واہ کرنی ہو تو آدمی کر سکتا ہے۔ چشمِ وا سے ایسا کرنا مُشکل ہے۔

دونوں رہنما نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں۔ دونوں ممالک غُربت کی جن اتھاہ گہرائیوں میں پڑے ہیں، اُس کا تقاضا ہے کہ ہوش کے ناخن لئے جائیں۔ اور دونوں رہنما مِل بیٹھیں۔ اور 70 سالہ دشمنی کم کرنے کی کوشش کریں۔ تاکہ اس خطے کے بد قسمت عوام کے بہتر مستقبل کی کوئی صورت نکل سکے۔

رافائیل اور جے ایف تھنڈر جب لڑ چُکیں گے۔ میزائیل اور ایٹم بم جب چل چُکیں گے ۔ تو اُس کے بعد کیا ہو گا۔ یہی نا کہ آپ کسی تاشقند یا کسی شِملہ میں بیٹھے مذاکرات کر رہے ہوں گے۔ معاہدے کر رہے ہوں گے۔ جنگ نہ کرنے کے وعدے کر رہے ہوں گے۔ تو یہ سب کچھ آپ اتنی تباہی آنے سے پہلے کیوں نہیں کر سکتے؟ اصل بہادری جنگ میں فتح نہیں، جنگ کو روکنا ہے۔ تاکہ انسانیت اُس تباہی سے بچے جو جنگ اپنے ساتھ لے کے آتی ہے۔

خُدارا اب بس کر دیجئیے. اس خطے کے مظلوم عوام پہ ظُلم اب بند کر دیجئیے۔ اپنے وقتی فائدے کے لئے عوام کو مذہبی اور جنگی جنون کا شکار مت کیجئیے۔ آپ کا اقتدار تو کچھ دیر بعد ختم ہو جائے گا۔ لیکن عوام اس جہنم میں برسوں جلتے رہیں گے۔

جو قوتیں ان کے پس پردہ کام کر رہی ہیں۔ اُنہیں اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کرنی چاہئے۔ کیا حاصل کر لیا آپ نے 70 سالوں میں؟ کتنی غُربت کم کی آپ کی پالیسیوں نے؟ کتنی عزت بڑھائی ٹانگیں اُٹھا اُٹھا کے مارچ کرنے کے عمل نے؟

ذرا سوچئے۔