پاکستان میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے نئی قانون سازی
- ہفتہ 08 / اگست / 2020
- 4760
پاکستان میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پوری کرنے کے لیے قانون سازی کا عمل جاری ہے۔ حکومت نے اپوزیشن کی مدد سے باہمی تعاون کا ترمیمی بل پارلیمان سے منظور کرا لیا ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جمعرات کو 'میوچوئل لیگل اسسٹنس' ترمیمی بل 2020 کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ منی لانڈرنگ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی حوالگی اور ان کے جرائم سے متعلق معلومات کا باہمی تبادلہ کیا جا سکے گا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے 'لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنر شپ بل' منظور کر لیا ہے جس کے تحت بینکنگ ٹرانزیکشن کے 'بینی فیشل اونر' کا نام اور ملکیت ظاہر کرنا لازمی ہو گا۔ یہ بل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے پاکستان کو دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ضروری تھا۔ اس قانون سازی کے بعد پاکستان منی لانڈرنگ سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملزمان سے متعلق معلومات کا تبادلہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ دو طرفہ معاہدے کی بنا پر کر سکے گا۔
اس بل کے تحت کسی شخص کی حوالگی پاکستانی اور عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں شمار ہوگی تو اسے کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکے گا۔ ایم ایل اے ترمیمی بل کے تحت ایک اتھارٹی تشکیل دی جائے گی جس کی سربراہی سیکریٹری داخلہ یا ان کے برابر کا کوئی افسر کرے گا۔ اس اتھارٹی میں سیکریٹری خارجہ، سیکریٹری قانون اور چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز بھی شامل ہوں گے۔ یہ اتھارٹی ہر چھ ماہ بعد اپنی کارکردگی کی رپورٹ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کرے گی۔
باہمی قانونی معاونت کا بل سیاسی نوعیت کے معاملات پر لاگو نہیں ہو گا۔ اس قانون کے تحت پاکستان کسی دوسرے ملک یا کوئی دوسرا ملک پاکستان سے قانونی معاونت حاصل کر سکے گا جن میں گواہوں، مشکوک افراد، قصور وار یا مجرموں کی جگہ یا ان کی شناخت کے بارے میں پوچھا جا سکے گا۔