تین ممالک تین کہانیاں

  • تحریر
  • ہفتہ 08 / اگست / 2020
  • 5520

یہ تین  مختلف ممالک  ہیں مگر پچھلی صدی کی پہلی چھ دِہائیوں میں حیرت انگیز حد تک تینوں ملکوں کی تاریخ میں مماثلت تھی۔ تینوں پر غیر ملکی تسلط قائم تھا، تینوں دوسری جنگ عظیم  کے بعد آزاد ہوئے، آزاد ہوئے  تو ایسے کہ دو لخت تھے۔

ابتدائی دور انتہائی غربت، پسماندگی اور مشکلات سے اٹا ہو تھا،  تینوں بنیادی طور پر زرعی ملک تھے،  اپنے وجود   اور معاشی  بقا کے لئے ایک  سپر پاور کا سہارا لینا پڑا۔ آزاد ہونے کے چند سال بعد ہی تباہ کب جنگ کا حصہ بننا پڑا یا اس کے سائے مسلط رہے۔ تینوں ممالک  پر جنگ اور بقا کے خطرات مسلسل منڈلاتے رہے۔  یہ تب تھا۔ یہ تین ممالک  ہیں: تائیوان، جنوبی کوریا اور پاکستان۔ ایک سے پسِ منظر اور اپنے دفاع کے خطرات کے ساتھ آج بھی نبرد آزما ان تینوں نے اپنے مستقبل   کے راستے کا انتخاب مختلف انداز میں کیا  اور آج   دنیا کی اسٹیج پر  حیرت انگیز طور پر مختلف مقام اورانداز میں جلوہ گر ہیں۔

تائیوان ایک چھوٹا سا ملک ہے، اس کی آبادی اڑھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے، رقبہ36  ہززار مربع کلو میٹر ہے۔  یہ جزیرہ ملک تاریخی طور پر چین کا حصہ تھا مگر  دورافتادہ اور غیر اہم سا۔ چین میں کمیونسٹ انقلاب رونما ہوا تو  بیجنگ میں قائم حکومت  اپنے حمائیتیوں سمیت بھاگ کر اس جزیرے میں پہنچی۔ اپنے آپ کو مجتمع کیا اور  خود کو ری پبلک آف چائنا قرار دیا۔ چین آج تک اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور سرکاری طور پر دونوں مسلسل حالتِ جنگ میں ہیں۔ امریکہ کے فوجی اڈے اور چھاؤں چھتر اس ملک کے دفاع کا لازمہ ہیں۔  تائیوان میں چین سے فرار قیادت نے اسے مسکن بنایا  تو ابتدا میں ایک زرعی ملک تھا۔ معاشی استحکام میں اپنے وجود کی بقا اور اسے اپنا بہترین دفاع جانتے ہوئے تائیوان نے پچاس اور ساٹھ  کی دِہائی میں چند بڑے فیصلے کئے اور ان پر جی جان سے عمل کیا۔ زرعی اصلاحات کرکے زرعی  پیداوار کو جدت سے روشناس کرایا۔ ستر کی دِہائی میں دس بڑے منصوبوں سے ماڈرن اور اپ گریڈڈ صنعتی اور ملکی انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھی۔

 ابتدائی صنعتی پیداوار ٹیکسٹائل اور  دیگر بنیادی اشیا پر مشتمل تھی لیکن ستر اور اسّی کی دِہائی میں  تائیوان نے  ہائی ٹیک صنعتی پیداوار کی اہلیت پیدا کرتے ہوئے اس میں اپنا ایسا مقام بنایا کہ کمپیوٹر و انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت بے تحاشا  ہائی ٹیک پراڈکٹس میں اپنا مقام بنا لیا۔  اس کی حالیہ برآمدات   300  اور درآمدات 270 ارب ڈالر  سالانہ  ہیں۔ جی ڈی پی کا حجم 882 ارب ڈالرز ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر 456 ارب ڈالرز ہیں۔ یہ آج کی کہانی ہے۔ چین کے مقابل  رسمی سفارتی تنہائی کے باوجود شاید ہی کوئی معروف ملک ہو گا جس کے ساتھ اس کے  تعلقات نہیں۔ 

  جنوبی کوریا  آزاد ہوا تو بڑی طاقتوں نے  صدیوں سے قائم  ملک کو دو حصوں میں بانٹ کر تقسیم کا ایسا زخم لگایا جو آج بھی رِس رہا ہے۔ امریکی فوج کے اڈے آج بھی قائم ہیں۔  جنگ کے سائے مسلسل منڈلا رہے ہیں  ساٹھ کی دہائی میں  ملک کی معاشی حالت نحیف اور نازک تھی۔ ملک کا کل رقبہ بمشکل ایک لاکھ  مربع کلو میٹر ہے جو ستر فی صد رقبہ  پہاڑی ہے، صرف تیس فیصد میدانی رقبے  پر بو دو باش، زراعت، انفر ا  سٹرکچر اور زراعت کا دارومدار تھا۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں جاپان کی صنعتی ترقی کے ماڈل کو اپناتے ہوئے کچھ اس انداز  صنعتی ترقی کی  کہ  پندرہ بیس سالوں میں کایا پلٹ گئی۔ اسّی اور نوے کی دہائی میں کوریا  ایشیائکا ایک معاشی ٹائیگر بن کر ابھرا۔ آج یہ دنیا کے بیس موثر ترین معاشی ممالک کلب کا ممبر اور دنیا کے ہر فورم پر نمایا ں ہے۔ اقوام متحدہ کے پچھلے سیکریٹری کا تعلق جنوبی کوریا  سے ہی تھا۔  جنوبی کو ریا کی برآمدات 604  اور درآمدات 535 ارب  ڈالرز سالانہ ہیں، زرِمبادلہ کے ذخائر370 ارب ڈالرز سے زائد ہیں۔ شمالی کوریا کے ساتھ حالت جنگ آج بھی اسی طرح سوہان روح بنی ہوئی ہے۔ سفارتی طور پر  آج پوری دنیا جنوبی کوریا کی  ہمنوا ہے۔

پاکستان آزاد ہوا تو دنیا کی تاریخ کا ایک انوکھا تجربہ تھا کہ ملک کے دو حصے ایک ہزار میل کے فاصلے پر تھے جس کے درمیان ایک دشمن ملک قائم تھا جس نے اس کے وجود کو کبھی قبول نہ کیا۔ زراعت پر انحصار تھا، صنعتی انفراسٹرکچر مفقود۔ ساٹھ کی دِہائی میں ملک نے  صنعتی پیداوار میں انقلابی اقدامات اٹھائے۔ 65 کی پاک بھارت جنگ اور بعد ازاں 1971 میں  خوفناک  خون ریزی  کے بعد مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہو گئی۔ باقی ماندہ ملک ہی پورا پاکستان کہلایا۔ اس کے بعد کی کہانی سب کو معلوم ہے۔ اس وقت ہماری برآمدات  بائیس ارب ڈالرز اور درآمدات پینتالیس ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہیں۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر انیس ارب ڈالرز ہیں جس میں  غالب حصہ دوست ممالک کی امانت ہے۔

گزشتہ سال   پانچ اگست  کو بھارت  نے کشمیر  کی آئینی پوزیشن یک طرفہ طور پر ختم کرتے ہوئے اسے بزور بھارت کی ایک  عام ریاست کا درجہ دے دیا۔ شدید عوامی ردِ عمل سے بچنے کے لئے مقبوضہ کشمیر مسلسل محاصرے اور سنگینوں کے سائے میں ہے۔ اس جبر پر دوست مسلم ممالک میں سے دو ایک کو چھوڑ کر کسی نے پاکستان کی سفارتی مدد نہ کی، امریکہ اور یورپ  نے بھی چپ سادھے رکھی۔  اس کی توجیہ یہ بتائی گئی کہ دنیا کے معاشی مفادات بھارت جیسی  بڑی معیشت سے وابستہ ہیں، اس لئے  وہ سپورٹ حاصل نہ ہوئی جو اس سانحے پر اسے عالم میں ملنی چاہئے تھی۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے، اچھا ہے کہ اس کا ہمیں ادراک ہو گیا۔ باقی دو ملکوں کی کہانی بیان کرنے سے مقصود یہ تھا کہ  دنیا کے ممالک مفادات کے ساتھ کھڑے  ہوتے ہیں، باقی باتیں  سب بھرے پیٹ کی خماریاں ہیں۔

کشمیر ہائی وے کا نام سری نگر رکھنے اور نئے پولیٹیکل نقشے کی اپنے تئیں سفارتی اہمیت ہو گی مگر  اصل نکتہ بھی تو زیرِ غور آنا چاہئے کہ ملکی معیشت کی مضبوطی  اور قرضوں کی بیساکھی کے بغیر یہ دنیا یونہی بے نیاز رہے گی۔  جنگ کی تیاری اور اہلیت بھی تو سفارت کاری کا ایک اہم  ستون ہے،  مضبوط معیشت ہی اس کو بھی ممکن بنا سکتی ہے۔ اگر  دس  بیس سالوں میں یہ اہلیت پیدا کرلی جائے تو  عالمی سفارتی سپورٹ کا منظر بدل  بھی سکتا ہے۔ دوسری دو کہانیوں کا نتیجہ سامنے ہے۔ اپنی کہانی ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔