بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی، آٹھ افراد ہلاک

  • اتوار 09 / اگست / 2020
  • 4620

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مون سون کی بارشوں کے باعث سیلابی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ پراونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بلوچستان میں بارش اور سیلاب سے آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پی ڈی ایم کے کنٹرول روم کے حکام نے بتایا کہ ہفتے کو تیز بارشوں کے باعث سیلابی صورتِ حال پیدا ہو گئی تھی جس کے باعث بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقوں زیدی اور وڈھ میں دو افراد پانی میں بہہ کر ہلاک ہوئے۔ کنٹرول روم کے اعداد و شمار کے مطابق ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے علاقے میں بھی تین افراد پانی میں بہہ کر ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ اتوار کے روز ضلع کچھی کے علاقے میں سیلاب میں بہہ جانے والے مزید تین افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سیلاب سے سب زیادہ نقصان ضلع کچھی کے علاقے بولان میں ہوا۔ جہاں دو مقامات پر پل جب کہ کئی جگہ سے سڑک پانی میں بہہ گئی ہے جس سے بلوچستان اور سندھ کے درمیان زمینی راستہ منقطع ہو گیا ہے۔ خضدار کے سیاحتی مقام مولہ چٹوک میں 80 سے 100 کے قریب پھنسے سیاحوں کو تاحال ریسکیو نہیں کیا جا سکا۔ حکام کے مطابق اس حوالے سے  اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ضلع قلات کے علاقے گزگ میں مقامی افراد کے مطابق چھ افراد سیلابی ندی میں پھنس گئے تھے۔ مقامی حکام کو ان کو ریسکیو کرنے کے لیے مطلع کر دیا گیا تھا۔ بلوچستان میں سیلابی صورتِ حال کے باعث محکمہ صحت نے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

بلوچستان کی پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے تمام ڈویژنل اور ضلعی اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کو موجود رہنے کی ہدایت کی گئی یے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتِ حال سے بر وقت نمٹا جا سکے۔۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کو صوبہ سندھ سے ملانے والی شاہراہ بولان کی بندش کے باعث کئی مسافر پھنس گئے ہیں جس کے بعد وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی خصوصی ہدایت پر وزارتِ ریلوے کے تعاون سے کوئٹہ سے سبی تک ریلوے سروس شروع کی جا رہی ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق خصوصی ٹرین مسافروں کو لے کر اتوار کی شام چار بجے سبی کے لیے روانہ ہوئی جو سبی سے مسافروں کو لے کر واپس آئے گی۔