لویہ جرگہ کی سفارش پر افغان صدر تمام طالبان قیدی رہا کرنے کا اعلان کردیا

  • اتوار 09 / اگست / 2020
  • 4640

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اتوار کو مشاورتی لویہ جرگہ کی سفارش پر ان 400 طالبان قیدیون کو رہا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جن کی رہائی میں تعطل کی وجہ سے بین الافغان امن مذاکرات میں تاخیر ہو رہی تھی۔

صدر غنی نے اتوار کو کابل میں تین روزہ لویہ جرگے کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لویہ جرگے کی سفارش پر 400 طالبان قیدیوں کی رہائی کے حکم نامے دستخط کریں گے جن کو رہا کرنا صدر کے اختیار میں نہیں تھا۔

افغان صدر کا یہ بیان اتوار کو کابل میں ہونے لویہ جرگے کے تین روز اجلاس کے اختتام پر سامنے آیا ہے جس میں لویہ جرگہ نے ان 400 طالبان قیدیوں کی رہائی کی بھی سفارش کی ہے جن کی رہائی پر تنازع تھا۔ صدر غنی نے لویہ جرگہ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان عوام کو مخاطب کرکے کہا کہ میں رہائی کے حکم نامے پر آج دستخط کر دوں گا۔ اس حکم نامے پر میں دستخط کرنے کا مجاز نہیں تھا کیوں کہ ایسا کرنا میرے اختیار میں نہیں تھا۔

افغان صدر نے کہا کہ اب لویہ جرگہ کے اتفاق رائے اور آپ کے اخلاقی فیصلے کے بعد ان 400 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا جائےگا۔ یاد رہے کہ رواں برس فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت بین الافغان مذاکرات سے پہلے افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنا تھا جب کہ طالبان نے بھی اپنی قید میں موجود افغان حکومت کے ایک ہزار اہلکاروں کو رہا کرنا تھا۔

طالبان کے مطابق انہوں نے اپنی قید میں موجود تمام قیدی رہا کر دیے ہیں جب کہ افغان حکومت بھی طالبان کے پانچ ہزار کے قریب قیدی رہا کر چکی ہے لیکن 400 قیدیوں کے معاملے پر تعطل پیدا ہو گیا تھا۔

صدر غنی کا موقف تھا کہ یہ 400 قیدی بعض سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں اس لیے انہیں رہا کرنے کا اختیار انہیں نہیں ہے لیکن اب لویہ جرگہ کی سفارش کے بعد طالبان قیدیوں کی رہائی ممکن ہو جائے گی جس کے بعد بین الافغان مذاکرات کی راہ میں حال بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔

تین روز جرگے کے اختتام پر جاری ہونے والی 25 سفارشات پر مشتمل اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امن مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے، ملک میں خونریزی روکنے اور افغان عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے 400 طالبان قیدیوں کی رہائی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

جرگے نے حکومت کو دی گئی سفارشات میں واضح کیا ہے کہ اگر ان 400 قیدیوں میں کوئی غیر ملکی قیدی شامل ہے تو ان کی رہائی سے پہلے متعلقہ ملک کی حکومت کو مطلع کیا جائے کہ اس ملک کے شہری کا نام طالبان کی فہرست میں شامل ہے۔