مُستند مسلمان اور سیکنڈ ہینڈ مسلمان
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 09 / اگست / 2020
- 10750
درویش کا مذہب خالص اور غیر مشروط محبت ہے اور اس کے علاوہ اُس کے مذہب میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ مخلوق سے درویش کی محبت تصوف کا سماجی پہلو ہے جب کہ تصوف کے سکولوں کے علاوہ باقی فرقہ وارانہ سکولوں میں تصوف کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ہو بھی نہیں سکتی۔
کیونکہ اُن کے ہاں ہر فرقے کی اپنی اپنی شریعت کا کڑا پہرا ہے اور جب وہابی مکتبِ فکر کے لوگ بریلویوں کی مسجد میں نماز پڑھنے کو کُفر گرادنتے ہیں یا بریلوی اپنی مسجد کے باہر یہ تختی یہ آوایزاں کرتے ہیں کہ یہاں وہابیوں کا داخلہ منع ہے تو محبت مر جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اُن کے اپنے مسلک کے حق میں دلائل و براہین اور اپنے خلاف ہر اعتراض کا فقہی جواب موجود ہے جب کہ جہاں محبت ہو وہاں سوال و جواب کا جواز ہی نہیں رہتا اور اُن کی عقیدوں کی آویزش میں محبت مر جاتی ہے :
انّا للہ وانا الیہ راجعون ۔
وہ لوگ جو ایسا سوچتے ہیں اور نفرت کی مذہبی سیاست کرتے ہیں یہ بھول جاتے ہیں کہ خُدا کے ناموں میں سے ایک نام ودود ہے ۔ ودود یعنی محبت کرنے والا ۔ حضرت فضل شاہؒ نوروالے فرمایا کرتے تھے کہ ودود اسمِ اعظم ہے کیونکہ اس کا ظاہر و باطن ایک ہے ۔ اسلامی روایت میں خُدا سے جو رب العالمین ہے ، نفرت کی صفت منسوب نہیں ہے ۔ ودود ایک چہار حرفی اسم ہے جو صوفیا کے ہاں اربعہ عناصر کا استعارہ ہے ۔ ودود کے چاروں حروف الگ الگ لکھے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے نہیں ہیں ۔ واؤ وحدت و وحدانیت کا پہلا حرف ہے ۔ اس کی عددی طاقت چھ ہے جو چھ سمتوں کا اشارہ ہے ۔ ان چھ سمتوں کو ہم روز ازسرِ نو تعمیر کرتے ہیں ۔ ہفتے کے چھ دنوں میں ایک ایک کر کے ہر سمت تعمیر ہورہی ہے کیونکہ آسمانوں سے علمی برکات کے نزول کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔اس کائنات کا حکمران لمحہ بہ لمحہ اپنے مخلوق کے لیے مسلسل احکامات جاری کرتا رہتا ہے مگر اس عہد میں سماعتیں کُند ہو گئی ہیں اور کان اس طرح منجمد ہوگئے ہیں کہ اُن تک خُدا کی آواز پہنچ ہی نہیں رہی ۔
وہی آواز جو آدم ؑعلیہ السلام سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک محبت کی یکساں آواز ہے کیونکہ اس کا سرچشمہ ایک ہے ۔ یہ وہی آواز ہے جو آدم و حوا کی چہار رنگی اولاد کے لیے اُن کی اپنی اپنی زبانوں میں اتاری گئی ۔ہر قوم کو رسول اور ہر عہد کو کتاب ملی اور میرے آقائے نامدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے معتبر ترین گواہ ہیں ۔ یہ چھہ دن حواسِ خمسہ اور چھٹی حِس سے منسوب ہیں اور پھر ساتواں دن شکرانے محبت کے نوافل کا دن ہے ، جشن کا دن ۔ دال کے چار اعداد ہیں جو اربعہ عناصر پر دال ہیں لیکن اس عہد کے مذہبی آدمی کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ رنگوں ، نسلوں اور نام و نسب کی علامتوں کا قیدی روبٹ ہے جس نے فی زمانہ عادت کی غلامی کا جوا کندھوں سے نہیں اتارا اور وہ بزرگی کے منصب پر فائز نہیں ہوا ۔ اُس نے قرآن کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی جو اُس حقیقی معنوں میں مسلمان بنا سکتی ۔
آج کا مسلمان خطبہ ء حجتہ الوداع کے اُس پیغام سے نا واقف ہے جس نے کالے کو گورےپر ، گورے کو کالے پر ، عجمی کو عربی پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت دینے کو انسانیت کے حق میں جرم قرار دیا تھا۔ ہم تو صرف اسلام کے نام لیوا ہیں اور اُس نام میں کیا رکھا ہے جس کے تناظر میں علم و حکمت ، اعمالِ صالح اور جوشِ کردار نہ ہو ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی جاہل علم کے ہجے سیکھ کر اُس کی درست املا کرنے لگے تو اس سے وہ عالم اور مہذب نہیں ہوجاتا ۔ اور ہم جو ناموں ، ہجوں اور املا کی دنیا کے مجاہدین ہیں مگر عمل سے فارغ ہیں ۔ یہی وہ بے عملی ہے جس کی بنا پر ہم نہ خود کو شناخت کر پاتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کا لازمی باہمی احترام روا رکھتے ہیں ۔
جب کہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ چونکہ خُدا نے انسان کو بنایا ہے اس لیے انسان کا احترام خُدا کا احترام ہے ۔ گویا مخلوق کا احترام خالق کا احترام ہے اور بطور مخلوق خود اپنا احترام کرنا اور اپنی ذات اور نفس کو برائی سے آلودہ نہ ہونے دینا احترام کی شرطِ اولیں ہے ۔اسی لیے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اُنہیں غلافِ کعبہ کی بے حرمتی سے زیادہ ایک انسان کے بے حرمتی کا دکھ ہوگا ۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اینٹوں اور پتھروں سے بنائی ہوئی اپنی مساجد کو خُدا سے منسوب کر کے اُس کی عزت افزائی کرتے ہیں مگر خدا کے بنائے انسان کو مسلسل ذلیل و رسوا کرتے رہتے ہیں ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے امیج کا پوسٹر بنا رکھا ہے ۔ ایک اچھے مسلمان اور نیک دل انسان کے امیج کا پوسٹر ۔ ہر شخص اپنا اپنا پوسٹر اٹھائے اٹھائے پھرتا ہے۔ وہ اس اچھے آدمی کی پروموشن کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا ۔ کوئی دقیقہ فرگذاشت نہیں کرتا اور اگر اس امیج کو کوئی خراش آ جائے تو اُس مرمت کرتا ہے اُسے اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ روزِ حساب وہ خدا کو کیا جواب دے گا ، بلکہ اُس کا سارا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کا سوشل امیج خراب نہ ہو ۔ حالانکہ یہ پوسٹر بردار شخص ایک سیکنڈ ہینڈ شخص ہوتا ہے جو دوسروں کی رائے کا بنا ہوا ہوتا ہے اور اس کا اپنا کوئی کنکریٹ وجود نہیں ہوتا۔
جب کہ فرد منفرد ہوتا ہے ۔ اپنی مثال آپ ہوتا ہے ۔ وہ منقسم نہیں مکمل ہوتا ہے ۔جو مکمل ہو وہ صحت مند ، ہوش مند ، دانا اور پاکیزہ باطن ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک اتھارٹی ہوتا ہے۔ وہ معاشرے کی عمارت کی بنیادی اینٹ ہوتا ہے اور جب معاشرہ ایسے منفرد افراد پر مشتمل ہو تو زندگی ایک خوبصورت گیت بن جاتی ہے مگر ہم سنی سنائی معلومات کی بنا پر اپنی شخصیت سازی کرتے رہے ہیں اور ایک کنفیوژن سے دوسرے کنفیوژن تک محوِ سفر رہتے ہیں ۔ ہماری بٹی ہوئی شخصیت کا ماحصل یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم ظالم حاکم کے سامنے کلمہ حق کو جہاد سمجھتے ہیں لیکن دوسری طرف ہر شاہ کے مصاحب پر تنقید کے ہلکے سے اشارے کو بھی برداشت نہیں کرتے اور تنقید کرنے والے کو بے دریغ غداری کا پروانہ جاری کردیتے ہیں ۔
ایسے لوگوں کے نزدیک حب الوطنی ظالم حاکم کے ظُلم کی تعریف و توصیف اور غیر مشروط حمایت کا نام ہے ۔ رہے غریب عوام تو وہ گئے بھاڑ میں ۔چنانچہ بیچاری غربت اور مفلسی ، فٹ پاتھوں ، جھگیوں اور جھونپڑیوں کا عذاب بنی ہوئی ہے ، کیونکہ ہم نے اپنے معاشرے میں وہ آدمی تعمیر ہی نہیں کیا جو اپنے آپ کو پورے مثبت اور منفی کے ساتھ جانتا ہو ۔اور جو نہیں جانتا اُس کی اوقات ہی کیا ہے؟ ایک صفر ۔ اپنے آپ کو جاننا ہی تو سب سے بڑا چیلنج ہے ۔ خود کو جاننا انسانی فکر کی بنیاد ہے اور عرفانِ ذات کے بغیر زندگی کی ساری بھاگ دوڑ لا حاصل ہے ۔ چنانچہ خود کو جاننے کی مشقت سے بچنے کے لیے میں دوسروں سے شناخت ادھار لیتا ہوں اور اپنا بوجھ دوسروں پر ڈال دیتا ہوں ۔
دوسرا کون؟مذہبی رہنما جو بے چارہ خود اپنا بوجھ اُٹھانے کی سکت بھی نہیں رکھتا مگر میں اپنے لیے اُسے پیر یا پیشوا منتخب کر لیتا ہوں اور یوں اپنی زندگی خود جینے کے بجائے دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہوں ۔ اور میں یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ جب تک میری ذات پر جہالت کا پردہ پڑا رہے گا میں زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ نہیں ہو سکوں گا ۔ تب تک میں نہ محبت ہی کرسکوں گا اور نہ ہی کوئی کام خواہ میں سارا دن یاودود کی تسبیح ہی کیوں نہ پڑھتا رہوں ۔