یک منفرد کانفرنس کی روداد

شعبہ اردو جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی جانب سے ایک دو روزہ عالمی آن لائن کانفرنس بعنوان اکیسویں صدی میں اردو ادب منعقد ہوئی۔ جس میں پاکستان، ہندوستان، جموں و کشمیر، ڈنمارک، جرمنی، برطانیہ، فرانس، مصر اور ماریسیش سےچیدہ چیدہ مندوبین شریک تھے۔

اس کانفرنس کا انعقاد جامعہ  کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ کوثر ، جامعہ کے صدر شعبہ اردو پروفیسر ڈاکٹر افضال بٹ  نے اپنی فعال اور محنتی ٹیم کے ساتھ مل کر خوش اسلوبی سے کیا اور شعبے کی پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ فردوس نے 7 اور 8 اگست کی اس دو روزہ کانفرنس کی نظامت نہایت احسن طریقے سے کی۔ کانفرنس میں کلیدی خطبہ جو نہایت پر مغز اور فکر انگیز تھا، جواہر لال یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام نے پیش کیا- دنیا کے مختلف ممالک سے آن لائن سے جڑے مندوبین نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے جو بہت اعلی اور فکر وفن کی صناعی کا پرتو تھے۔

اس کانفرنس میں ڈنمارک سے نصر ملک نے ‘ڈنمارک میں اردو ادب اکیسویں صدی میں‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ آپ نے اپنی کانفرنس کے آخری اجلاس کی صدارت اور کانفرنس کے ایک سیشن کے مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے، ڈنمارک اور ناروے کا ادبی پس منظر پیش کیا۔ نصر ملک  اردو ادب کے ایک منجھے ہوئے ادیب ہیں۔ ان کا تجربہ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ اردو کے لئے  ان کی گرانقدر  خدمات کا سلسلہ بہت طویل ہے۔ کانفرنس کے دوران انہوں نے اردو ادب کی یورپی تاریخ کا احاطہ جس خوش اسلوبی سے کیا، اس نے ناظرین کے دل جیت لیے۔ انہوں نے ناروے سے شائع شدہ سید مجاہد علی کی کتاب کا خصوصی طور سے ذکر کیا اور اسی طرح ناول نگار انیس صاحب کے دونوں ناولوں کا حوالہ دیا اور بلاشبہ وہ کانفرنس کے ہیرو کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔

لندن سے ڈاکٹر جاوید شیخ صدر اردو مرکز لندن نے لندن کی کئی دہائیوں پر محیط ادبی سرگرمیوں پر اپنا دقیق مقالہ پیش کیا۔  راقم الحروف  نے جرمنی میں اردو زبان و ادب کی تاریخ کا مطالعاتی محاکمہ پیش کرتے ہوئے اینی میری شمل، کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ اور ڈاکٹر نسپٹل کے ساتھ ساتھ ہندوپاک سے ہجرت کر کے آنے والے چیدہ چیدہ لکھاریوں کے نام پیش کیے۔ کانفرنس میں پاکستان سے مختلف پروفیسر صاحبان اور پی ایچ ڈی اسکالرز شریک تھے، جن میں ڈاکٹر ضیاءالحسن، ڈاکٹر نیئر عباس کے نام شامل ہیں۔ اس کانفرنس کا ایک سیشن اقبال کی ادبی و شعری اور فکری نظریات کے مطالعہ کے لیے مختص تھا۔ جس میں نظریہ اقبال پر مضامین پیش کیے گئے۔ اس حوالے سے جموں و کشمیر میں اقبال شناسی کے عنوان سے، جموں کشمیر ہی سے شریک ڈاکٹر ریاض توحیدی نے اپنا مقالہ پیش کیا۔

ایک سیشن میں فراز کے متعلق بات چیت ہوئی۔ اور اردو ادب میں فیض و فراز کے پیش کردہ مزاحمتی ادب کا احاطہ کیا گیا۔ جنوبی ہندوستان، ماریسیش اور دنیا کے دور دراز کے خطوں میں پھیلے اردو ادب کے سلسلہ کو سمیٹا جانا اس کانفرنس کی خاص بات تھی۔  دنیا کے مختلف ممالک میں بے شمار منعقدہ کانفرنسوں کے برعکس جس خوش اسلوبی سے اس کانفرنس کا انعقاد جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے شعبہ اردو نے اکسیوں صدی میں عالمی طور پر اردو کا مقام طے کرتے ہوئے کیا، ایسی محنت، توجہ اور یکسوئی سے منعقد ہونے والی بہت کم کانفرنسوں کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔

بلاشبہ یہ کانفرنس منتظمین کی انتھک محنت، کام کرنے کی صلاحیت اور تمام منبدوبین کے فکر و فن سے بھر پور پیش کر دہ مقالات کا ثمر تھی۔ اس سلسلے میں اس کانفرنس کے روح رواں افضال بٹ صدر شعبہ اردو، اس کانفرنس میں نظامت کے فرائض، نہایت متانت اور سنجیدگی و شگفتگی سے ادا کرنے پر شگفتہ فردوس، فکر انگیز کلیدی خطبہ کے خالق خواجہ محمد اکرام، تجزیہ نگار  و ادیب نصر ملک  اور کانفرنس کی ٹیم کے جملہ افراد مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یہ ایک مثالی کانفرنس برسوں یاد رکھی جائے گی۔ اور اس میں پیش کردہ بحث ومباحث، مقالہ جات اور سفارشات آئندہ منعقد کی جانے والی کانفرسوں کے لیے مشعل راہ کا کام دیں گی۔

اس کانفرنس نے کئی سال قبل استنبول میں منعقدہ اردو کانفرنس کی یاد تازہ کر دی۔ آن لائن تقریبات میں لی گئی کمپوٹر اسکرین سے تصاویر بدقسمتی سے اتنی معیاری نہیں ہوتیں کہ کانفرنس کی شان بڑھا سکیں تاہم پھر بھی یہاں یادگار کے طور پر ایک تصویر پیش کی جارہی ہے۔