سوشل میڈیا، یوٹیوب اور سائبر کرائم
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 09 / اگست / 2020
- 7270
دنیا میں ابلاغ کے نظام میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت بن کر ابھرا ہے۔اس سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل نظام میں بڑی تیزی سے نئی نئی جہتیں، ترقی او رکمالات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ پرنٹ او رالیکٹرانک میڈیا سے وابستہ لوگ بھی اب اپنی بات کو آگے پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔
یہ نظام محض میڈیا سے جڑے افراد تک محدود نہیں بلکہ اب تو دنیا میں موجود تمام فریقین طاقت ور ہوں یا کمزور، خواندہ ہو یا ناخواندہ سب ہی اس سوشل میڈیا کے انقلاب سے جڑے نظر آتے ہیں اور اسے اپنی طاقت سمجھتے ہیں۔کیونکہ سوشل میڈیا نے روائتی میڈیا کے مقابلے میں لوگوں کو جہاں نئی جہتیں دی ہیں وہیں یہ موقع بھی فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی بات بہتر اور موثر انداز میں آگے تک پہنچاسکیں۔دنیا میں جو سیاسی، سماجی،اقتصادی یا علمی و فکری بڑی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اس میں سوشل میڈیا ایک بڑا کردار ادا کررہا ہے۔جو لوگ اس نظام پر تنقید کرتے ہیں عملی طور پر وہ بھی اس نئی ابلاغ کی ترقی سے نہ صرف جڑے ہوئے ہیں بلکہ خود کو تنہا نہیں کرسکے۔ترقی کے عمل میں نئی چیز آتی ہے اس کو اول قبول کرنا آسان نہیں ہوتا اور دوئم جب وہ آتی ہے تو اس کے کچھ مثبت اثرات کے ساتھ ساتھ ہم کو منفی اثرات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔لیکن اس کے باوجو د ہم ترقی کے اس جدید دور میں اس ابلاغی انقلاب سے نہ خود کو علیحدہ کرسکتے ہیں او رنہ ہی دوسروں یا بالخصوص نئی نسل کو۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا یہ نظام جہاں نئے نئے انقلابات لارہا ہے وہیں اس نے باقاعدہ ایک پروفیشن کا درجہ حاصل کرکے نئی نسل کے لوگوں کو ایک بڑا معاشی روزگار بھی فراہم کیا ہے۔
حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک معزز جج نے کافی عرصہ سے سوشل میڈیا او ربالخصوص یوٹیوب چینل پر ہونے والی گفتگو پر سخت تنقید کی ہے اور اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ہم بطور عدالت یوٹیوب چینل کو بند کرسکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہاں سوشل میڈیا یا یوٹیوب چینل پر ہونے والی گفتگو پر بہت سے فریقین یا لوگوں میں سخت تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔مسئلہ محض ریاستی یا حکومتی حساس اداروں پر تنقید کا ہی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی و اخلاقی معاملات پر بھی بہت سے لوگوں کے سنجیدہ نوعیت کے سوالات موجود ہیں۔اصل مسئلہ آزادی اظہار سے جڑا ہوا ہے او ر اس پر یقینی طور پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ ہمارا آئین ہمیں بنیادی حقوق کی ضمانت کے طور پر آزادی اظہار کی مکمل آزادی دیتا ہے۔لیکن اس آزادی اظہار کا ایک پہلو ذمہ داری کا بھی ہے۔ یعنی جو لوگ بھی آزادی اظہار کا استعمال کررہے ہیں یہ ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ”اظہار آزادی بذریعہ ذمہ داری“ کا مظاہرہ کریں۔
اس وقت ہمیں مجموعی طور پر سوشل میڈیا کے تناظر میں پانچ بڑے چیلنجز درکار ہیں۔اول ہم اس کا استعمال تو کررہے ہیں لیکن ایک بڑا طبقہ اس عمل میں نہ صرف غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے بلکہ تنقید اور تضحیک کے بنیادی فرق کو بھی سمجھنے سے قاصر ہے۔ دوئم سوشل میڈیا کو بنیاد بنا کر سیاسی، سماجی، مذہبی،اخلاقی و علمی و فکری بنیاد پر انتہا پسند رجحانات، نفرت، تعصب، غصہ اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا، اپنی سوچ فکر کو محض درست سمجھ کر دوسروں پر زبردستی مسلط کرنا، دوسروں کی سوچ او رفکر کو نہ صرف تسلیم نہ کرنا بلکہ ان کی رائے کو احترام بھی نہ دینا، الزام تراشی، کردار کشی اور مختلف نوعیت کی محاذ آرائی کو فروغ دینا شامل ہے۔سوئم ریاستی و حکومتی سطح پر تنقید کرتے ہوئے حساس معاملات پر ہونے والی گفتگو میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا او راداروں کی تضحیک کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ چہارم مسائل یا ایشوز کی بنیاد پر مکالمہ کے کلچر کو فروغ دینے کی بجائے گھر، خاندان، بچوں، بچیوں اور گھروں میں موجود افراد سے جڑی ذاتیات پر مبنی گفتگوجس کا مقصد سوائے کردار کشی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔پنجم شواہد، حقائق، تحقیق کو بنیاد بنانے کی بجائے فرضی گفتگو،خبر یا تجزیہ کے مقابلے میں خواہشات اور سوشل میڈیا کو باقاعدہ ایک پروپیگینڈا مہم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کیونکر ہورہا ہے او رہم بطور ریاست، حکومت اور معاشرہ سوشل میڈیا سے جڑے مسائل پر بہتر انداز میں قابو پانے کی بجائے مسلسل مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔ جو لوگ سوشل میڈیا یا اسے جڑے یوٹیوب یا دیگر ذرائع پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں وہ درست حکمت عملی نہیں۔کیونکہ مسئلہ پابندی کا نہیں ہے او ردنیا میں اس ابلاغ یا جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں پابندی لگا کر ہم ترقی کے بڑے دھارے میں شامل نہیں ہوسکیں گے۔ بدقسمتی سے جب بھی ہمیں کسی بھی معاملے میں بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو فوری طور پر ہم پابندی کو مسئلہ کا حل سمجھتے ہیں جو مسئلہ کے حل کی بجائے اس میں اور زیادہ بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔بنیادی طور پر ہمیں اس مسئلہ کو محض جذبات کی بجائے ٹھوس عقلی و عملی و فکری بنیادوں پر طے کرناہوگا او رایک ایسی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی جو ریاست، حکومت سمیت سب اداروں اور میڈیا سے جڑے افراد یا دیگرطبقات کے لیے قابل قبول ہو۔
اصل میں اب وقت آگیا ہے کہ سوشل میڈیا سے جڑے افراد یا اداروں کے لیے ہمیں اس نظام میں ریگولیٹ کرنا ہوگا۔ یعنی نظام میں موثر پالیسی بنائی جائے اور قانون سازی ہو۔ نگرانی کا موثر اور شفاف نظام کو ترتیب دیا جائے، شفافیت او رجوابدہی کا نظام ہع،لوگوں میں سوشل میڈیا کے استعمال پر سیاسی، سماجی و علمی وفکری شعور کی آگاہی کو یقینی بنایا جائے۔ قومی وصوبائی سطح پر سائبر پالیسی اور قانون سازی کا نفاذ او راطلاق، سوشل میڈیا سے جڑے اداروں کو موثر و مضبوط کرنا اور انہین خود مختاری دینا شامل ہے۔ کیونکہ کوئی بھی نظام مادرپدر آزادی کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر انہوں نے اس نظام سے فائدہ اٹھانا ہے تو خود بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور قانون کے تابع بنائی گئی پالیسی پر عملدرآمد کریں۔
پاکستان نے اگر انتہا پسندی سے باہر نکلنا ہے تو ہمیں سوشل میڈیا کے محاذ پر موجود انتہا پسندی پر مبنی رجحانات کو ہر صورت ختم کرنے کے لیے اپنی ترجیحات کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا۔ اول ہمیں موثر قانون سازی او راس پر عملدرآمد سے یقینی بنانا ہوگا اوردوئم ہمیں لوگوں کو یہ بات سمجھانی ہوگی یا ان کے شعور کو پختہ کرنا ہوگا کہ وہ انتہا پسندی کے مقابلے میں خود میں اعتدال پسندی اور قبولیت کا مزاج پیدا کریں۔تعلیمی اداروں او رمدارس کو اس کی بنیاد بنانا ہوگا۔ تعلیمی نصاب اسکولوں سے لے کر مدارس اور کالجوں سے یونیورسٹیوں تک سوشل میڈیا اور سائبر کرائم پالیسی یاقانون سازی کوتعلیمی سطح پر ہر ڈسپلن میں عملی طور پر لاگو کرنا ہوگا۔کیونکہ بچے، بچیاں، استاد سمیت کوئی بھی نہ تو سوشل میڈیا کے تناظر میں بنائے گئے پالیسی یا قانون سازی سے آگاہی رکھتا ہے اور نہ ہی ان معاملات میں ان میں پختگی نظر آتی ہے۔
ہمیں پابندی کے مقابلے میں اس چیلنج کو بطور ریاست اور معاشرہ قبول کرنا ہوگا کہ ہم اس نئے ابلاغی نظام میں اصلاح کے تمام امکانات کو مضبوط بنائیں گے۔کیونکہ بطور معاشرہ ہمیں سوشل میڈیا کی طاقت کو استعمال کرکے معاشرے میں موجود مختلف مسائل کا حل تلاش کرنا ہے اور ریاست سمیت حکومتوں پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ عام آدمی کے معاملات کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنائے۔دنیا میں ہمارے خلاف جو ایک منفی مہم چلتی ہے جس کے پیچھے خاص مقاصد ہوتے ہیں ہمیں اس کا بھی موثر جواب دے کر اپنے ملک کا مقدمہ بھی لڑنا ہے۔ بالخصوص نوجوان نسل کو اس ملک کے سفیر کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے۔ خرابیاں ہر معاشرے میں ہوتی ہیں لیکن اس کا ہم کو علاج بھی تلاش کرنا ہے او ریہاں جو مثبت تصویریں ہیں ان کو بھی دنیا میں اجاگر کرنا ہے۔کیونکہ ہم انفرادی سطح پر ریاست کا متبادل نہیں ہیں بلکہ ریاست کے شہری ہیں اور ریاست کے مفادات کے ساتھ خود کو جوڑنا ہے۔ ریاستی سطح پر جو مسائل ہیں ان کو بھی اجاگر کریں لیکن اس کا مقصد کسی کی تضحیک کرنا، منفی مہم چلانا یا اسے کمزور کرنا نہیں ہونا چاہیے۔