چمن میں دھماکہ، 5 افراد ہلاک اور 20 زخمی

  • سوموار 10 / اگست / 2020
  • 5880

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے شہر چمن میں ایک دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے ہیں۔

پیر کی صبح ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کے دھڑے حزب الاحرار نے قبول کر لی ہے۔ حزب الاحرار کے ترجمان ڈاکٹر عبدالعزیز یوسف زئی نے ذرائع ابلاغ کو ایک پیغام میں چمن دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔ ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دھماکے میں پاکستان کے خفیہ ادارے کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام سویلین ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے چمن دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔

پولیس افسر محمد محسن نے بتایا ہے کہ نامعلوم شرپسندوں نے سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل میں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور زخمیوں کو سول ہسپتال چمن منتقل کیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر ذکا اللہ درانی نے کہا کہ دھماکے میں انسداد منشیات کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سمیت دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

خیال رہے کہ بلوچستان گزشتہ کچھ عرصے سے بدامنی کا شکار ہے، جس کے پیچھے بیرون دشمنوں کا ہاتھ ہونے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے۔ چمن بلوچستان کا حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی سرحدیں افغانستان کے صوبے قندھار سے لگتی ہیں۔

گزشتہ ماہ صوبہ بلوچستان کے شہر تربت کے بازار میں دھماکے کے نتیجے میں ایک فرد جاں بحق جبکہ 7 افراد زخمی ہو گئے تھے۔