کہ ہم تو رسم محبت کو عام کرتے ہیں

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن کی رحلت پر جماعت کے لوگ اور ان کے دیگر مداحین بہت کچھ لکھ رہے ہیں لیکن وہ سب زیادہ تر یک طرفہ ہے۔ توصیف و مدح سرائی پر محیط، جبکہ شخصیات کا جائزہ لیتے وقت ہمیں ستائش اور آن بان شان کے ساتھ شخصیت کے دیگر حقائق کو بھی نظرانداز نہیںکرنا چاہئے۔

 مثلاً شخصیت میں اگر کرختگی تھی یا مخالف نقطہ نظر کیلئے اگر شدت سے بھرپور سخت گیر رویہ رکھتے تھے تو ادب و احترام کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے نرم سے نرم الفاظ میں اگر حقیقت بیانی کر دی جائے تو اہل دانش کی نظروں میں یہ کوئی برائی نہ ہو گی۔ مثال کے طور پرمحترم مجیب الرحمان شامی نے ان کی وفات پر جو کالم تحریر فرمایا اور اس میں جو درد انگیز سماں باندھا کہ سجاد میر صاحب نے روتے ہوئے فون کیا پھر ان کی آواز بھی رندھ گئی۔ یوں پوری فیملی جمع ہو گئی، کسی سے بولا نہیں جا رہا تھا۔ درویش کو اس پر حیرت ہوئی کہ منور صاحب کی وفات اچانک نہیں ہوئی، وہ کافی عرصے سے صاحب فراش تھے آخری دنوں ہسپتال کے آئی سی یو میں بھی رہے۔ ان کی خبریں اور تصاویر تواتر کے ساتھ اخبارات میں شائع بھی ہو رہی تھیں اور پھر وہ ماشااللہ بہترین اور بھرپور زندگی گزار کر گئے۔ اس لئے شامی صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میں تو آپ کے ساتھ ان کی سوچ اور خیالات کے حوالے سے تنقیدی مباحثہ کرنا چاہتا تھا لیکن آپ کی ان کے ساتھ اس قدر قریبی و جذباتی محبت و اپنائیت دیکھتے ہوئے اب اس کا یارا نہیں رہا۔

جماعت اسلامی کے امرا میں سے مولانا مودودی کے بعد میاں طفیل محمد ایک ایسی شخصیت تھے جن کے ساتھ درویش کی بہت قریبی اور گہری اپنائیت ان کی وفات تک قائم رہی۔ ان کی للہیت ، عاجزی، انکساری، اپنائیت بالخصوص کھرے پن اور صاف گوئی کا خاکسار آج کے دن بھی معترف ہے۔ ان گنت ملاقاتیں بھی رہیں اور بحثیں بھی جبکہ مولانا مودودی سے ملنے کیلئے ناچیز دو تین مرتبہ حاضر خدمت ہوا لیکن سلام دعا سے آگے کسی نے لفٹ نہیں کروائی تھی، نہ مولانا صاحب نے اور نہ ان کے مصاحبین نے۔ مجھے چھوٹا سا بچہ جان کر یا مولانا کی بیماری و مصروفیت کا بہانہ بنا کر نظرانداز کیا گیا۔  البتہ بغیر سوال اٹھانے کے ان کی ایک طویل گفتگو یا تقریر سننے کا ایک موقع پوری تفصیل کے ساتھ آج بھی ذہنی کینوس پر نقش ہے۔

قاضی حسین احمد کے ساتھ معلوم نہیں نظری و فکری اختلاف زیادہ محسوس ہوا یا ان کی جاہ پسندی حائل ہوئی۔ سچی بات ہے کبھی نہ بنی۔ اس لئے ملنے کی کبھی خواہش ہی نہیں ہوئی۔ البتہ سید منور حسن  کے ساتھ کئی مواقع پر ہلکی پھلکی نوک جھونک کے علاوہ ایک طویل ملاقات اور بحث مباحثے کا شرف حاصل ہوا۔ آج افسوس ہے کہ یہ نہ ہی ہوتا تو اچھا تھا تاکہ ناچیز کی ان کے بارے میں رائے اتنی سخت نہ ہوتی اور دیگر دوستوں کی طرح ناچیز بھی ان کی شان میں قصیدہ لکھ رہا ہوتا یا اسی طرح خاموش ہوتا جس طرح سراج صاحب کے بارے میں ہے۔

سید منور حسن کے متعلق اولین آگاہی رفیق ڈوگر کی کتاب ”چالیس چہرے“ بنی۔ اس کے بعد جمعیت کے دور میں موقع بے موقع ان کے ان گنت خطبات سنے، جن میں وہ پہلے ایک مولوی صاحب اور مابعد ایک جہادی کے روپ میں سامنے آئے۔ دوستوں نے پروپیگنڈے کی حد تک یہ ذہن نشین کروایا کہ منور صاحب بڑے کھلے ذہن کے ہیں۔ وہ پہلے بڑے ماڈرن ہوتے تھے۔ کمیونسٹ یا سوشلسٹ خیالات کے حامل ہی نہیں، بلکہ طلبا سیاست میں وہ سرخے لیڈر کی حیثیت سے آئے تھے۔ مابعد مولانا مودودی کے لٹریچر نے انہیں ڈھیر کر لیا تھا۔ مگر اس تمام تر زور بیانی کے باوجود اپنا ذہن انہیں کبھی قبول نہ کر سکا۔

سماجی روایت ہے کہ مرنے والے کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں یہ بلاشبہ بہت اچھی روایت ہے اور ماشاءاللہ بشمول شامی صاحب درویش کے بہت سے قریبی احباب نے یہ فریضہ بطریق احسن ادا فرمایا ہے۔ مگر اپنی اپروچ یہ رہی ہے کہ کسی بھی ایشو کے اس پہلو پر روشنی ڈالی جائے جسے بالعموم نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا توجہ کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ ورنہ ایک ہی چیز کی جگالی قارئین کی اگر بوریت کا باعث نہ بھی بنے تب بھی علم میں کسی اضافے کا باعث تو بالکل نہیں بنتی۔ اگر بڑوں نے اجازت مرحمت فرمائی تو چند ایک اختلافی پہلوﺅں پر اگلے کالم میں اظہار خیال کی کاوش کی جائے گی۔