بیروت میں پرتشدد مظاہروں کے بعد لبنان کی حکومت مستعفی ہوگئی
- منگل 11 / اگست / 2020
- 5540
لبنان کی حکومت نے منگل کے ہلاکت خیز اور تباہ کن دھماکے کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد استعفی دے دیا ہے۔ لبنان کے وزیر اعظم نے پیر کی رات کو یہ اعلان کیا۔
وزیر اعظم حسان دیاب نے ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی تقریر میں کہا کہ 'میں اس حکومت کے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ خدا لبنان کی حفاظت کرے'۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں تا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو سکیں اور ان کے ساتھ مل کر تبدیلی کی جنگ لڑ سکیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نئے انتخابات کب ہوں گے۔
انہوں نے ملک کو درپیش لاتعداد مسائل کا ذمہ دار سیاسی اشرافیہ کو قرار دیا جس نے 30 سال پہلے خانہ جنگی کے اختتام تک لبنان پر حکمرانی کی تھی۔ حکومت کے مستعفی ہونے کا فیصلہ کئی وزیروں اور قانون سازوں کے استعفوں کے بعد ہوا۔ ان کے استعفوں کے باوجود پوری حکومت کی برطرفی کے مطالبے جاری تھے اور اس دوران ہفتے اور اتوار کو بڑے پیمانے پر مظاہرے بھی ہوئے۔
دارالحکومت بیروت میں اتوار کو دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس جانے والی شاہراہ پر احتجاج کیا جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ اسکوائر پر تعینات سیکیورٹی اہل کاروں کا حصار توڑنے کی بھی کوشش کی۔ مشتعل مظاہرین نے تعمیرات اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف وزارتوں کے دفاتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔
گزشتہ ہفتے بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے طاقت ور دھماکے میں اب تک 158 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ 6000 سے زائد شہری زخمی ہیں۔ دھماکہ بیروت کی بندرگاہ پر قائم ایک گودام میں رکھے گئے دو ہزار ٹن سے زائد امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں ہوا تھا۔
اس دھماکے کے بعد لبنان میں جاری معاشی بحران اور حکومت کی اصلاحات کے نفاذ میں ناکامی کے خلاف پہلے سے جاری احتجاج مزید شدید ہو گیا ہے۔ مظاہرین حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ احتجاج کے بعد اتوار کو وزیرِ اطلاعات منال عبدالصمد نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا جس کے کچھ دیر بعد ہی کابینہ کے دوسرے رکن وزیر برائے ماحولیات دمیانوش قطار نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
گزشتہ دو روز سے جاری احتجاج گزشتہ سال اکتوبر میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا احتجاج ہے۔ اتوار کو سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا جب کہ ریڈ کراس کے حکام نے 170 مظاہرین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
احتجاج کے بعد لبنان کے وزیرِ اعظم حسان دیاب نے قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ ان کے بقول لبنان اس بحران سے قبل از وقت انتخابات کے علاوہ کسی صورت باہر نہیں آ سکتا۔