مریم نواز کی نیب دفتر آمد پر ہنگامہ آرائی، نیب اور مسلم لیگ (ن) کے ایک دوسرے پر الزامات
- منگل 11 / اگست / 2020
- 5260
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر قومی احتساب بیورو (نیب) کے لاہور دفتر پہنچیں تو اس موقع پر ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس اور لیگی کارکنان نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔
نیب نے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے مریم نواز سے پوچھ گچھ ملتوی کردی اور انہیں واپس جاتی عمری جانے کی اجازت دے دی گئی۔ نیب نے مریم نواز کو سرکاری زمین کی غیر قانونی فروخت کے کیس میں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے منگل کو طلب کر رکھا تھا۔
مریم نواز اپنے قافلے کے ہمراہ نیب کے دفتر پہنچیں تو اس موقع پر لیگی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ مشتعل کارکنان نے سڑک پر رکھی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے اُنہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان پتھراؤ کا تبادلہ بھی ہوا جس کے بعد مریم نواز واپس جاتی امرا روانہ ہو گئیں۔
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران اُن کی بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ ان کے بقول اُنہیں سخت نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ سب کا یہی کہنا ہے کہ پتھر سے بلٹ پروف کا شیشہ نہیں ٹوٹ سکتا۔ یہ واضح طور پر مجھے سخت نقصان پہنچانے کی کوشش تھی۔
دوسری جانب نیب نے اپنے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ مریم نواز کو ذاتی حیثیت میں مؤقف لینے کے لیے طلب کیا تھا لیکن کارکنان کے ذریعے منظم انداز میں غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نیب کی 20 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک آئینی ادارے کے ساتھ اس نوعیت کا برتاؤ روا رکھا گیا ہے جس میں نیب کی عمارت پر پتھراؤ کرتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشے توڑے گئے اور عملے کو بھی زخمی کیا گیا۔
نیب اعلامیے کے مطابق اس صورتِ حال میں مریم نواز کی پیشی کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ نیب نے مزید کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں اور دیگر عناصر کی جانب سے منظم انداز میں قانونی کارروائی میں مداخلت کی تحقیقات اور کارِ سرکار میں مداخلت پر مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس واقعہ پر مریم نواز نے کہا ہے کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے گھر سے نیب آفس بلایا گیا۔ مریم نواز نے نیب دفتر کے باہر اپنی گاڑی کے قریب کھڑے ہو کر نون لیگی کارکنوں اور میڈیا سےخطاب کیا۔ مریم نواز نے الزام عائد کیا کہ پولیس کے پتھراؤ سے میری بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ نیب آفس کے باہر کھڑی ہوں واپس نہیں جاؤں گی، بلایا ہے تو جواب بھی سنیں۔
انہوں نے کہا کہ جھوٹےالزامات کا جواب دینے آئی ہوں، مجھے سنا جائے۔ حوصلہ نہیں تو سوچ سمجھ کر بلانا چاہیے تھا۔ مریم نواز نے کہا کہ مجھے پیغامات مل رہے ہیں کہ میں چلی جاؤں، مگر میں یہاں موجود ہوں، یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر آپ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم سے اتنا ڈرتے ہو تو انہیں بلاتے کیوں ہو؟
اس موقع پر مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ پیشی کی ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نیب کے دفتر کے پاس موجود ہیں، آج قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہم پر پتھر مارے ہیں۔
وفاقی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے دفتر کے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد نون لیگی رہنما رانا ثنا اللّٰہ، طلال چوہدری اور جاوید لطیف کے نیب حکام سے مذاکرات ہوئے۔ ذرائع کے مطابق تینوں نون لیگی رہنماؤں نے نیب آفس میں نیب حکام سے ملاقات کی۔ ڈائریکٹر آپریشن نیب سے مذاکرات کے دوران رانا ثنا اللّٰہ اور جاوید لطیف تفصیلات سے مریم نواز کو آگاہ کرتے رہے۔
مذاکرات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ اب دوبارہ مزاحمت ہو گی تو ذمے دار نیب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو یہاں آنے میں مشکلات ہوئیں، کارکنوں پر کیمیکل اسپرے کیا گیا، آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے۔
رانا ثنا اللّٰہ نے مزید کہا کہ مریم نواز گاڑی میں موجود ہیں، نیب کہتا ہے کہ پیشی منسوخ کردی ہے، ترجمان نیب باضابطہ منسوخی کا پریس ریلیز جاری کریں۔ باضابطہ طوپر آگاہ کیا جائے کہ پیشی منسوخ کر دی ہے، پیشی کی منسوخی کے لیے ہم نے درخواست نہیں دی تھی۔ ہم لوگ یہاں موجود ہیں ہم سے جواب لیا جائے۔