تیری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام
- تحریر افضال ریحان
- منگل 11 / اگست / 2020
- 8830
ہماری مذہبی جماعتیں ہوں یا سیاسی ان کا ا یک المیہ یہ ہے کہ اندرونی یا بیرونی ہر دو حوالوں سے جو شخص زیادہ شدت سے بولتا ہے، پارٹی یا جماعت میں اس کی وفاداری کو زیادہ مانتے ہوئے اس کی پذیرائی بھی اسی ریشو سے زیادہ کی جاتی ہے۔
اندرونی سے ہماری مراد ہے اندرونی پالیسی یا پارٹی کا سسٹم ہے اور بیرونی سے مراد ہے جماعت سے باہر کے لوگ یا ناقدین و مخالفین۔ مثال کے طور پر مسلم لیگ ن ہماری قومی سیاست میں ایک پاپولر جماعت ہے جس کا نظم جماعت اسلامی کی نسبت خاصا لچکدار یا ڈھیلا ڈھالا ہے۔ لیکن یہاں بھی جو شخص پارٹی کی قیادت یا پالیسیوں کی غیر شعوری و غیر متوازن حد تک بڑھ چڑھ کر وکالت کرے گا اور مخالفین پر لاجیکل یاشعوری سطح سے بڑھ چڑھ کر وار کرے گا، پارٹی اور پارٹی کے ہمدرد حلقوں میں اس کی زیادہ پذیرائی ہو گی۔ کچھ ایسا ہی حال پیپلز پارٹی اور شاید ان ہر دو سے بھی بڑھ کر تحریک انصاف کا ہے۔ جہاں ون مین شو ہو یا نظم زیادہ سخت ہو، وہاں یہ سوچ دوچند ہو جاتی ہے جو کارکنان یا ہمدردوں کو شدت پسندی کی طرف لے جاتی ہے۔ کسی پارٹی کا چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی، عوامی کینوس جتنا چھوٹا ہو گا یہ شدت اس میں اتنی زیادہ ہو گی۔ جس لیڈر کا جتنا وژن کم ہو گا اور اسے ناموری کی تمنا جتنی زیادہ ہو گی، وہ اتنا ہی اس پالیسی کا سہارا لے گا۔
سید منور حسن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ مولانا کی طرح سید تھے جس سے عامة المسلمین بہت متاثر ہوتے ہیں لیکن جو شخص نسلی برتری و امتیاز کے خلاف ہو وہ اس سے متاثر نہیں ہو گا۔ آپ کی دوسری خوبی یہ تھی کہ آپ نماز روزے کی شدید پابندی کرتے تھے اور احباب کو بھی اس کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ اس لئے جماعت میں آپ کو صاحب تقویٰ قرار دیتے ہوئے بڑی تحسین کی جاتی تھی جبکہ اس خاکسار کی نظروں میں یہ خصوصیت یا خوبی تو ہمارے گاﺅں کے امام مسجد میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ کئی بزرگ جن میں علمی فکری یا صلاحیتوں کی کمی یا عدم دلچسپی ہوتی ہے، وہ تقوے کا رعب ڈال کر اپنی شخصی عظمت کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ حالانکہ اگر تنقیدی زاویے سے پرکھا جائے تو کسی کا نماز روزہ اس کا ذاتی فعل ہے جس کا اجر یقیناً اس کے رب کے پاس ہے مگر عامة الناس کیلئے اس میں آخر کون سی جاذبیت ہو گی۔ عام لوگ تو آپ کی کارکردگی حسن سلوک اور خدمت خلق سے خوش ہوں گے۔ عبدالستار ایدھی کوئی مولوی تھے ، نہ علمی شخص اور نہ ہی نماز ، روزے جیسے تقوے کا بوجھ اٹھائے پھرتے تھے۔ انسانیت سے ان کی محبت اور خدمت نے ہی انہیں جہاں بھر کی آنکھوں کا تارا اور سچا ہیرو بنا دیا تھا۔ لیکن اگر آپ کہیں انسانیت جائے بھاڑ میں آپ اللہ کے دین کی سرفرازی کیلئے اٹھ کھڑے ہوں اور جو بھی راستے میں آتا ہے اس کا تیا پانچہ کرتے چلے جائیں تو بظاہر یہ بات بڑی اچھی اور متاثر کن لگتی ہے، مگر ذرا سوچئے کہ اگر دیگر مذاہب والے بھی اسی سوچ کے زیر اثر آپ ہی کی طرح جہادی جذبے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں اور راستے میں کھڑے ہونے والے ہر انسان کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے جائیں تو نتیجہ کیا نکلے گا؟
عقیدہ یا مذہب ایک ایسی چیز ہے جو ہر صاحب ایمان کو بہت پیاری اور عزیز ہوتی ہے۔ ہر مذہب کے ماننے والا یہ گمان کرتا ہے کہ وہ کامل سچائی پر ہے اس لئے اس کا عقیدہ نظریہ یا مذہب پوری دنیا میں رائج و غالب ہونا چاہیے۔ مگر اکیسویں صدی کا شعور یہ کہتا ہے کہ نہیں صاحب آپ کی آزادی وہاں تک ہے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے۔ اپنے اپنے دائرے میں رہ کر اپنے نظریات و خیالات کا پرچار کیجئے اور پلیز دوسرے کو بھی وہ حق اتنا ہی اور ویسا ہی دیجئے جو آپ اپنے لئے چاہتے ہیں۔
کہا تو یہ گیا تھا کہ تم میں سے کوئی شخص اتنا ہی بہتر ہے جتنا وہ انسانوں کیلئے نفع بخش ہے اور جو شخص جس قدر انسانوں کے لئے برا یا موذی ہے اتنا ہی برا یا موذی قرار پائے گا، اس لئے ہم نے ایدھی صاحب کی مثال دی یا دنیا مدر ٹریسا کی مثالیں دیتی ہے۔ سرگنگا رام اور شریمتی گلاب دیوی جیسی شخصیات کو بطور آئیڈیل پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے انسانیت کو کاری زخم لگائے، چاہے وہ اپنی قوم کی محبت میں لگائے ہوں جیسے کہ ہٹلر یا اپنے مذہب کی محبت میں لگائے ہوں جیسے کہ بن لادن، ہمیں ایسے موذی لوگوں کی بہرصورت مذمت کرنی چاہیے۔ کھلے اور واضح لفظوں میں کرنی چاہیے۔ چونکہ چنانچہ جیسی گری ہوئی پوزیشن اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ ایسے لوگ اپنے نظریے سے خواہ کتنے ہی مخلص ہوں انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں۔ جو معصوم اور بے گناہ انسانوں کی زندگیاں برباد کرتے ہوئے شرم کی بجائے فخر محسوس کرتے ہوں، انہیں کوئی بااصول انسان اپنا رول ماڈل یا شہید کیسے کہہ سکتا ہے؟
سمجھ نہیں آتی یہ چار دن کی زندگی ہے جلد یا بدیر ہم سب نے اور آپ نے یہ جہاں چھوڑ جانا ہے۔ جب بیماری و بے بسی میں لیٹے ہوئے تصاویر دیکھیں تو ذہن میں یہ الفاظ نمودار ہوئے کہ اے انسان تجھے کس چیز نے اتنا گھمنڈی بنا دیا ہے کس بات پر تو اتنا اتراتا ہے زندگی کی حقیقت کو دیکھ! تو کس منہ سے قاتلوں اور دہشت گردی کے علمبرداروں کی ستائش کرتا ہے اور کھلے بندوں یہ اعلانات کرتا ہے کہ اگر قتالی جہاد میں لوگ مرتے ہیں تو پرواہ نہیں۔ اے انسان تو کس سنگدلی و بے دردی سے خود کش حملوں کی حمایت میں زبان کھولتا ہے جس سے ان گنت معصوم انسان پل بھر میں زندگی جیسی خوبصورت نعمت سے محروم کر دیئے جاتے ہیں۔
ایک اچھا انسان تو سوسائٹی کے کمزور طبقات کا ہمدرد ہوتا ہے چاہے وہ کمزور اقلیتیں ہوں یا خواتین اور بچے۔ آپ نے اقلیتوں کے متعلق جو کہا سو کہا درویش اس بات کو کیسے بھول سکتا ہے کہ آپ کمزور خواتین کا کیسے سہارا بن رہے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت کے ساتھ زنا بالجبر ہو جاتا ہے تو وہ عورت شرعی طور پر مطلوب چارچشم دید تزکیة الشہود پر پورے اترنے والے مرد گواہ پیش کرے۔ بصورت دیگر ”اپنے گھر کی راہ لے اور خاموش رہے“۔ کیا یہ انسانی سوسائٹی ہے؟ انا للہ و انا علیہ راجعون