مودی جی! رام کا نام بدنام نہ کرو

تہذیبی و ثقافتی اہمیت بلکہ مذہبی حوالے سے بھی بھارتی ریاست اتر پردیش کو ہندوستان کا دل ہی نہیں دماغ بھی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ 75اضلاع پر مشتمل یہ اکیلی ریاست آبادی کے لحاظ سے قریباً پورے پاکستان کے برابر ہے ۔

ہندوﺅں اور انڈین مسلمانوں کا تہذیبی سنگم ہے ۔ خطے کی زرخیزی بڑھانے کے لئے یہاں رام کی گنگاہی نہیں بہتی، سری رام چندر جی کی جنم بھومی ایودھیا بھی یہیں اس عظیم “چراغ ہدایت” کی کرنیں بکھیر رہی ہے ۔ مسلمانوں کے عظیم مصلح سرسیدؒ بھی یہیں علی گڑھ میں اپنے جدید افکار اور ماڈرن ایجوکیشن کے دیے جلاتے آسودہ خاک ہیں۔ پورے ہندوستان میں شیعہ مکتب فکر کا مرکز لکھنو اپنی خوبصورت امام بارگاہوں کے ساتھ نوابی رکھ رکھاﺅ اور وضع داری کے ساتھ یہاں اپنی ادبی و علمی دھاک جمائے ہوئے ہے ۔ ہمارے سنی مکتب فکر کے دونوں بڑے فرقوں “بریلوی” اور “دیوبندی” کی جنم بھومیاں رائے بریلی اور دیوبند بھی یہاں پوری آن بان اور شان سے ایستادہ ہیں۔ 

مغل سلطنت کا شاہکار تاج محل بھی یہیں آگرہ میں پریم روگیوں کیلئے عشق و محبت کی داستانیں بکھیر رہا ہے ۔ مرزا غالب سے لے کر کن کن شاعروں، ادیبوں، نوابوں، عالموں، جوگیوں، سادھوﺅں اور رشیوں کا تذکرہ چھیڑیں۔ المختصر ان سب تہذیبی عظمتوں کا منبع و محور بلکہ ہمارے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے بقول اس وسیع و عریض پورے ہندوستان کا امام سری رام چندر جی “چراغ ہدایت” بن کر اس خطہ ارضی میں اپنی روشنیاں بکھیر گیا کہ اس کی بدولت آج بھی ”روشن تر از سحر ہے زمانے میں شامِ ہند“ ”پاکیزگی اور جوش محبت“ میں جو ہستی منفرد اور بے مثال تھی، آج کتنے دکھ کی بات ہے اسی کے جنم استھان میں اسی کے مقدس نام پر دلوں کو توڑا جا رہا ہے اور منافرتوں کو بانٹا جارہا ہے ۔

ہمارے مسلمانوں میں کتنے دانشور، محقق اور عالم گزرے ہیں جنہیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں تھا کہ ہزاروں برس قبل عین ممکن ہے کہ سری رام چندر جی اس خطہ ہند کے پیغمبر ہوں کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ کوئی قوم ایسی نہیں جس کے پاس اپنے فرستادہ نہ بھیجے ہوں۔آج کا پڑھا لکھا کوئی بھی مسلمان اپنے بادشاہوں کا قطعی طور پر ناجائز دفاع نہیں کرتا ان کی جارحیت کو جارحیت اور ان کے مظالم کو مظالم ہی قرار دیتا ہے بلکہ ہمیں تو درس ہی یہ دیا گیا ہے کہ بہترین جہاد جابر سلاطین کے سامنے حق سچ بولنا ہے ۔ جب سامنے حق سچ بولنا ہے تو پیچھے کیوں نہیں بولنا ہے ؟ یہ بادشاہ لوگ تو ایسے تھے جو اقتدار کی لذت میں اپنی اولادوں، اپنے سگے بہن بھائیوں کو قتل کروا دیتے تھے یا ان کی آنکھیں نکلوا دیتے تھے ۔ کچھ بعید نہیں ہے اگر کسی سنگ دل بادشاہ یا سلطان نے طاقت و اقتدار کے نشے میں دوسروں کی عبادت گاہ کو توڑ کر اپنی مسجد بنا لی ہو لیکن یہ صدیوں قبل کا شعور و چلن تھا جسے آج کا شعور قبول نہیں کرسکتا۔

آج کا شعور یہ کہتا ہے کہ اولین وارث ہی اصل وارث ہوتا ہے ناجائز قبضہ کو چاہے جتنی بھی صدیاں گزر جائیں وہ ناجائز ہی رہتا ہے ۔انڈین سپریم کورٹ نے بابر ی مسجد اور رام مندر تنازع میں جو فیصلہ صادر کیا، کھدائی کی گہرائی میں جن قدیمی مورتیوں کے نکلنے کی شہادتوں پر کیا، اسے ہر دو فرقوں ہندوﺅں اور مسلمانوں دونوں نے تسلیم کرلیا، یہی وجہ ہے کہ ابھی 5اگست کو جب آپ نے ایودھیا میں رام مندر کی بنیاد رکھی تو پورے اتر پردیش میں کہیں کوئی قابل ذکر احتجاج نہیں ہوا بلکہ یو پی کے سنی وقف بورڈ، نو تشکیل شدہ مسجد ٹرسٹ اور اسلامک کلچرل فاﺅنڈیشن سبھی نے مسجد کے لئے دی گئی پانچ ایکڑ زمین بھی قبول کرلی۔

مودی جی آپ کو اور سری رام چندر جی کے چاہنے والے تمام انسانوں کو نئے رام مندر کی تعمیر مبارک ہو مگر یہ درویش جاننا چاہتا ہے کہ آپ نے رام کے مقدس نام پر منافرتوں کا یہ سارا طوفان اٹھا کر رام کی شان بڑھائی ہے یا گھٹائی ہے ؟پہلے ہم کہتے تھے “رام تیری گنگا میلی” آج ہم پوچھتے ہیں کہ رام تیرا نام بدنام کون کر رہا ہے ؟ تو اتنا مہان تھا کہ زمانے بھر کو فیض بانٹتا رہا اور یہ تیرے نام لیوا تجھے اتنا چھوٹا، اتنا فرقہ پرست، اتنا تنگ نظر بناکر کیوں پیش کر رہے ہیں؟

رام تیرا ایک پیرو کار مہاتما گاندھی تھا جو ایک فرقہ پرست چھوٹی ذہنیت والے قاتل ناتھو کی گولی سینے میں کھانے کے باوجود تیرا نام جپتے “ہائے رام” کہتے تیرے پاس چلا گیا مگر اس نے تیرے نام کی لاج رکھی ، دکھ درد کی المناک گھڑیوں میں بھی وہ تیری تعلیمات پر چلتے ہوئے مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہوا، ان کے آگے ڈھال بن گیا، جان دے دی مگر تیری آن پر حرف نہیں آنے دیا۔تیرا ایک اور نام لیوا تھا جس نے کھلے بندوں یہ اعلان کیا کہ ایودھیا میں رام مندر ضرور بنے گا مگر مسجد پر خراش نہیں آنے دوں گا اور پھر اس کو بھی اڑا دیا گیا۔....

یہ کیسے تیرے جوگی (آدیتیہ) ہیں جو تیرے پاک نام پر دھن اور راج کا بیوپار کر رہے ہیں؟ درویش کو یقین ہے کہ اگر تو 92 میں سامنے آ جاتا تو ضرور یہ کہتا کہ مسجد بھی میری ہے مندر بھی میرا ہے ۔ میرے ہندوستان میں منافرتوں کی سوداگری نہیں ہوگی۔ عبادت گاہ کو توڑے بغیر ایک باڑ لگا لو۔ ایک طرف مسلمان اپنی عبادت کریں دوسری جانب ہندو اپنی پراتھنا۔ اگر جگہ کی تنگی لگے تو ہر دو اطراف جتنی چاہے جگہ شامل کرتے جاﺅ۔

مودی جی ! کیا رام کے ہندوستان کا آئین آپ کو یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنے تمام شہریوں کی دلجوئی کرو، کسی کی دل شکنی نہ کرو۔ مسجد کے پانچ ایکڑ دور دراز کی بجائے مندر کے ساتھ ہی رکھے جا سکتے تھے تاکہ دونوں بڑے فرقوں میں نفرت اور دوری کی بجائے محبت اور قربت پیدا ہو تی، باہم ایک دوسرے سے دوستانہ مکالمہ ہوتا، جس طرح آپ مندر کی سرپرستی فرما رہے ہیں کیا آپ کا دھرم اور آئین آپ سے انسان دوستی و انسان نوازی کے تحت یہ تقاضا نہیں کرتے ہیں کہ آپ مسجد کے لئے بھی اسی جذبے کے ساتھ سرپرستی و دلجوئی کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو توڑنے کی بجائے جوڑتے ۔ آپ کی اس نفرت والی سوچ سے محبت و دریا دلی کے پیکر سری رام چندر جی کبھی خوش نہ ہوں گے ۔