بھارت کے جارحانہ عزائم علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں: ترجمان پاک فوج

  • جمعرات 13 / اگست / 2020
  • 5490

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ہمسایہ ملکوں کے خلاف بھارت کے جارحانہ عزائم علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ بھارت خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے۔ کسی بھی وقت یہ لاوا پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ آزادی ایک نعمت ہے۔ آزادی کی قدر مقبوضہ کشمیر کی ماؤں سے پوچھیں، بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ایک سال میں تین مرتبہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں زیرِ بحث آیا، یہ اس بات کی دلیل ہےکہ مقبوضہ کشمیرکا مسئلہ تصفیہ طلب ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ رواں سال بھارت نے927 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور  مقامی آبادی کو نشانہ بنایا۔ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف دنیا بھر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی قیادت ایک سال سے پابند سلاسل ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ  بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کسی غیر ملکی مبصر کو جانے کی اجازت نہیں اور نہ ہی عالمی مبصرین کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جانے کی اجازت ہے۔  پاکستان کی جانب سے عالمی مبصرین کو لائن آف کنٹرول پر جانے کی اجازت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام مظالم کے باوجود مقبوضہ کشمیرکے عوام جدوجہد آزادی کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے نفرت انگیزی کا جو بیج بویا وہ پورے بھارت میں پھیل چکا ہے۔ بھارت کی اسلحہ خریداری اس کے توسیع پسندانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے جو اسلحے کی خریداری میں سرِفہرست ہے۔ میجرجنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی حفاظت ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں کہا کہ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر ناکام حملے اور دہشت گردوں کے لیے منی لانڈرنگ میں بھارت ملوث ہے۔  پوری قوم نے دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی۔ بھارت کی ہر جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہم منظم اور تیار ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امن افغانستان میں امن سے منسلک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر 1700 کلومیٹر پر فینسنگ کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر عزم دہرایا کہ پاک فوج عوام کے ساتھ مل کر مادرِ وطن کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

صوبہ بلوچستان سے متعلق انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کچھ عرصے سے ملک دشمن قوتیں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے در پے ہیں لیکن پاکستان کے سیکیورٹی ادارے ان عزائم کو ناکام بنانے کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں۔ اس سلسلے میں بہت اہم پیش رفت ہوئی ہے جو مناسب وقت پر آپ کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت بلوچستان کے امن کے ساتھ ساتھ صوبے کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے مصروف عمل ہے۔ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے اور خوشحال بلوچستان ایک مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔