اتاترکؒ کی فکری عظمت اور جدید ترکی

مسلم سوسائٹی پاک و ہند کی ہو یا عرب و عجم کی ان سب کا مشترکہ المیہ حریت فکر یا آزادی اظہار کا فقدان ہے۔ حقیقت میں یہ عامة المسلمین یا ان سے فکری ہم آہنگی رکھنے والے راسخ العقیدہ اہل علم یا اسلامی روایات پر ایمان و ایقان رکھنے والے دانشوران کا ایشو نہیں ہے۔ وہ سب جاری و ساری چلن سے سہمت ہیں ۔

سیاسی حکومتوں سے انہیں بعض اوقات جمہوری حوالے سے تھوڑا بہت مسئلہ آ جاتا ہے  ورنہ نظریاتی سٹیٹس کو سے وہ مطمئن و یکسو ہیں۔ بلکہ ان کے اندر جدت و اجتہاد کا چھوٹا موٹا تڑکا لگانے والے کو بھی کسی پرابلم کی بجائے پذیرائی ملتی ہے۔ اصل مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو اپنی ان سوسائٹیوں کو جوہری طور پر تبدیل کرتے ہوئے فکری و عملی طور پر مغرب کے ہم پلہ لانے کا خواب دیکھتے یا دکھاتے ہیں۔ وہ اگر یہ بھی کہیں کہ ہم ماضی سے رشتہ یا تعلق توڑے بغیر روایتی فکر مذہبی کی تشکیل جدید کرنا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔

اس فکری تبدیلی کے دو مدارج ہیں ایک وہ جو اجتہادی و اصلاحی تبدیلی لانا چاہتے ہیں یا اس کا خواب دیکھتے یا دکھاتے ہیں۔ ہم اقبال کو یہاں مسلمانان جنوبی ایشیا کے لئے بطور ایک مثال پیش کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنے خطبات میں کھل کر اس سلسلے میں اظہار خیال فرمایا ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ اس بات پر پورا زور دیتے نظر آتے ہیں کہ  ’ماضی سے رشتہ توڑے بغیر....‘ اس کے پہلو بہ پہلو ، وہ اس حساس ایشو پر روایت پرستوں کے متوقع دبا کو اچھا خاصا محسوس کرتے ہیں۔ سوایک طرح سے مدافعانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ اجتہاد یا تبدیلی مذہبی عبادات کے مسئلہ کو نہیں چھیڑے گی یہ کہ وہ جیسی ہیں ویسی ہی رہیں گی تاکہ کوئی نزاعی صورتحال پیدا نہ ہو۔

مسلم سوسائٹیوں میں فکری تبدیلی کا دوسرا درجہ یا مرحلہ اتاترکؒ کی قیادت میں ترکوں کا شعوری و عملی انقلاب ہے جو دنیا بھر کی مسلم سوسائٹیوں کے لئے ایک طرح سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اتنی بڑی کایا پلٹ تھی جس نے ایک طرح سے روایت زدہ سوسائٹی کی چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں اور اسے نئی جوہری بلندیوں سے روشناس کروایا تھا۔ درویش بارہا یہ سوچ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے کہ اتاترکؒ کتنا گریٹ انقلابی تھا ۔آخر وہ اپنی ترک قوم کو قدامت پسندی کی اتنی گہری کھائی سے نکال لینے میں کیسے کامیاب ہو گیا؟ مشکلیں اس عظیم انسان کو بھی آئی تھیں۔ کفر اور قابل گردن زدنی کے فتاویٰ اس پر بھی لگے تھے اور ایک صدی ہونے کو آئی ہے وہ فتاویٰ آج بھی لگ رہے ہیں ۔

یہودی کہے جانے سے لے کر کون سا تہذیب سے گرا ہوا گھٹیا فقرہ ہے جو تبدیلی کے اس حقیقی معمار یا پیامبر پر نہیں کسا گیا۔ سستی شہرت کے بھوکے کولن جیسے سکالر و دانشور ہوں یا اقتدار کے حریص سیاستدان، اتاترکؒ کے جینیوئن انقلاب کو برباد کرنے کے لئے کیا کچھ حربے استعمال نہیں کئے گئے ہیں۔ ظلم و بربریت کی شدت کو خوشنما پیکنگ میں سنہری تاریخ بنا کر ڈرامائی تشکیل کی صورت دکھاتے ہوئے نئی نسلوں کے اذہان کو مسموم کیا جا رہا ہے لیکن سلام ہے اتاترکؒ اور اس کے انقلابی ساتھیوں کی پرعظمت جدوجہد پرکہ ان کے لگائے ہوئے شجر سایہ دار کو سوائے چند ٹہنیوں کے کوئی کاٹ نہیں پا رہا ۔

بلاشبہ دنیا میں بڑے بڑے انقلاب آئے ہیں۔ میگنا کارٹا سے لے کر انقلاب فرانس تک ، تاریخ انسانی میں جدوجہد کی داستانیں بکھری پڑی ہیں لیکن مسلم اقوام میں اتاترکؒ کی قیادت میں ترکوں کے انقلاب جیسی مثال 14 صدیوں میں نہیں ملتی ۔ استنبول یونیورسٹی کی کانفرنس میں شرکت کے دوران درویش کو ایک ترک دوست کا یہ فقرہ نہیں بھولتا ہے کہ ”ہم ترک تو صرف دو ہی ہستیوں کو پہچانتے ہیں ایک محمد مصطفی ﷺ، دوسرے کمال مصطفی“۔ آپ اپنے خلیفوں کے چکروں میں جتنے مرضی ڈرامے بنا لیں مگر مت بھولیں اتاترک کا یہ انسانی جمہوری انقلاب پائیدار فکری بنیادی پراستوار ہے اور آنے والے برسوں میں پوری دنیا اس کا صد سالہ جشن منائے گی ۔کمال کے لبرل سیکولر آئین پر ہی جدید ترکی کی بنیاد رہے گی کیونکہ اس کے محافظ خود باشعور ترک عوام ہیں۔

بات شروع ہوئی تھی مسلم سوسائٹیوں میں تبدیلی کے دو مدارج سے ایک وہ جس کے علمبردار علامہ اقبالؒ تھے جو ”اسلام میں فکر مذہب کی تشکیل جدید“ چاہتے تھے اور اس کیلئے بہت پھونک پھونک کر بولتے تھے، قدم رکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔ بیسویں صدی میں دنیائے اسلام کے اندر سے جتنی بھی تحریکیں پھوٹی ہیں ان میں سے بیشتر تو سوائے ماضی کی جگالی کے اور کوئی سوچ نہیں رکھتی تھیں۔ اور جو فکری تبدیلی کے نعرے لگاتی پائی گئیں ان کی حدود اتنی محدود رہیں کہ وہ ایک مخصوص سرکل سے باہر قدم رکھنے کا حوصلہ نہیں کر پائی تھیں ۔یا پھر نظریہ جبر پر استوار جہادی تحریکیں تھیں اور ہیں۔

 سچ تو یہ ہے کہ مسلم سوسائٹی ان تمام تر ادوار میں راسخ العقیدہ سوچ کی یرغمالی بنی چلی آ رہی ہے۔ عصر حاضر میں سرسید اور ڈاکٹر طہٰ حسین جیسے چند بڑے سکالرز یا ان کے ہمنواں نے اس جبری مذہبی حصار کو توڑتے ہوئے انسانی حقوق اور آزادیوں کا نعرہ بلند کیا اور اپنی روایتی سوسائٹیوں کو افکار تازہ سے روشناس کروایا تو ان کا جینا اس طرح حرام کر دیا گیا ۔جس طرح کسی زمانے میں عظیم مسلم سائنسدانوں، داناں ، صوفیوں اور مدبروں کا کیا  گیا تھا۔ یہی وہ سماجی و مذہبی گھٹن ہے جس سے آج ہم نے اکیسویں صدی میں اپنی مسلم اقوام کو نکالنا ہے۔ یہی وقت کا اصل چیلنج ہے کہ کوئی دوسرا اتاترکؒ کب پیدا ہوتا ہے۔

تمامتر فکری و عملی کمزوریوں کے باوجود اقبال کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے ان نازک ترین لمحات میں نہ صرف یہ کہ خلافت عثمانیہ کی لاش کو اٹھانے سے انکار کر دیا بلکہ جب اتاترکؒ نے شخصی خلافت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے منتخب پارلیمنٹ کی اجتماعی ،عوامی جمہوری خلافت کو آئینی طور پر قائم کیا تو اقبال اس کی حمایت میں رطب اللسان ہو گئے۔ انہی دنوں انہوں نے ترکوں کیلئے کیا خوبصورت الفاظ کہے:

  If the renaissance of Islam is a fact and I believe it is a fact, we too one day, like the Turks, will have to re-evaluate our intellectual inheritance.