اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امن معاہدہ
- جمعرات 13 / اگست / 2020
- 5500
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان امن معاہدہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک نے باہمی تعلقات استوار کرنے پر اتفاق کا کرلیا ہے۔
خبررساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانا ایک بہت بڑی پیشرفت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'یہ ہمارے دو عظیم دوستوں کے درمیان تاریخی امن معاہدہ' ہے۔
بعدازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے خطے میں مسلمان پڑوسیوں میں مزید سفارتی کامیابیاں متوقع ہیں۔ کچھ ایسی پیش رفت متوقع ہیں جس کے بارے میں ابھی بات نہیں کرسکتا۔
امریکا کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان امن معاہدے کو 'تاریخی دن اور مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک اہم قدم' قرار دیا۔ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا کو امید ہے کہ یہ قابل تحسین قدم خطے میں 72 برس کی دشمنی کو ختم کرنے والے معاہدوں کے سلسلے میں پہلا ہوگا۔
امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف ال اوطیبہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ 'سفارتکاری اور خطے کے لیے ایک فتح' ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عرب اسرائیل تعلقات میں ایک اہم پیشرفت ہے جس سے تناؤ کم ہوتا ہے اور مثبت تبدیلی کے لئے نئی توانائی پیدا ہوتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں ٹوئٹ کیا کہ 'یہ تاریخی دن' ہے۔ علاوہ ازیں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد النہیان کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں امید ہے کہ 'یہ تاریخی پیشرفت مشرق وسطیٰ میں امن کو آگے بڑھائے گی'۔
امریکا کے صدر نے کہا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کی حمایت سے امریکی صدر کی درخواست پر اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو منسلک کرنے کے اپنے منصوبوں کو معطل کردے گا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل، عرب اور مسلم دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے پر اپنی کوششوں پر توجہ دے گآ۔ امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو یقین ہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی کامیابیاں ممکن ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے مل کر کام کریں گے۔