لاہور ہائی کورٹ نے جماعت الدعوة کے دو رہنماؤں کی سزا معطل کردی

  • جمعہ 14 / اگست / 2020
  • 4210

لاہور ہائی کورٹ نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور زمینوں پر قبضے کے کیس میں گرفتار جماعت الدعوۃ کے دو ارکان حافظ عبد الرحمٰن مکی اور حافظ عبد السلام کی سزا معطل کر دی ہے۔

عدالتِ عالیہ لاہور کے جج جسٹس اسجد جاوید گورال اور جسٹس وحید خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے مرکزی رہنماؤں کی سزاؤں کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔ اپیل میں دونوں ملزمان کے وکیل نصیر الدین نئیر نے عدالت سے سزاؤں کی معطلی کی استدعا کی۔ نصیر الدین نئیر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی سزا کے خلاف اپیل کے فیصلے تک سزائیں معطل کی جائیں۔

ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے حقائق کا جائزہ لیے بغیر فیصلہ سنایا جس پر عدالتِ عالیہ لاہور کے دو رکنی بینچ نے جماعت الدعوۃ کے حافظ عبدالرحمٰن مکی اور حافظ عبد السلام کی سزائیں معطل کر دیں۔ عدالت نے ملزمان کو مچلکوں کے عوض رہا کرنے کے احکامات جاری کیے۔ عدالت اِس کیس میں ضمانتی مچلکوں کا تعین بعد میں کرے گی۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس کے مطابق حکومت لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتی ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے احمد اویس نے کہا کہ جب بھی کسی کیس کا ایپلٹ بینچ بیٹھتا ہے تو فوجداری قانون کے تحت بینچ کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کیس میں درخواست گزار کی میرٹ کے مطابق سزا کو معطل کر سکتا ہے۔

مبصرین سمجھتے ہیں کہ عدالت کے اِس فیصلے سے پاکستان کے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے معاملے پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ وائس آف امریکہ نے اِس سلسلے میں جماعت الدعوة کا موقف جاننے کی بھی کوشش کی لیکن جماعت الدعوة کے عہدیداران نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

سرکاری وکلا کے مطابق پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں ایک اراضی ہے۔ جس کے ایک حصے میں مسجد اور مدرسہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ اور کالعدم تنظیم الانفال ٹرسٹ کے زیرِ انتظام چلتے تھے۔ یہ اراضی ٹیرر فنانسنگ سے حاصل کی گئی تھی۔

یاد رہے پنجاب کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے جماعت الدعوۃ کے چاروں مرکزی رہنماؤں کو گزشتہ سال جولائی میں دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ سی ٹی ڈی نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور نائب امیر عبد الرحمٰن مکی سمیت 13 رہنماؤں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی کے لیے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے دو درجن سے زائد مقدمات درج کیے تھے۔ جس پر لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے  18 جون کو عبدِ الرحمن مکی اور عبد السلام کو ایک ایک سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔