یوم آزادی پر صدر و وزیراعظم کے پیغامات، قوم کو متحد رہنے کی اپیل
- جمعہ 14 / اگست / 2020
- 4210
پاکستانی قوم کورونا وائرس کے اثرات کے باوجود آج اپنا 74 واں یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منارہی ہے۔ اس روز کی مناسبت سے صدر مملک ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے پیغامات جاری کیے۔
دونوں رہنماؤں نے قوم و ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متحد رہنے پر زور دیا۔ صدر عارف علوی نے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کے منصفانہ حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ صدر نے قوم کو جشن آزادی کی مبارک باد دیتے ہوئے پاکستانیوں پر زور دیا کہ ہر فرد ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرنے کا پختہ عزم کرے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متحد رہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی قوم کو یوم آزادی کی مبارک باد دی اور اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن قوم کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع ہے۔ یہ دن مٹی کے ان بیٹوں کو سلام پیش کرنے کا موقع ہے جنہوں نے مادر وطن کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ دن توقف کرنے اور یہ ظاہر کرنے کا ایک موقع ہے کہ ہم ان نظریات کے حصول میں کتنے کامیاب ہوئے جس کے لیے ایک آزاد ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ 7 دہائیوں کے سفر میں ہم نے مختلف چیلنجز کا سامنا کیا، ہم نے اندرونی اور بیرونی دونوں محازوں پر مشکلات کا مقابلہ کیا۔
عمران خان نے کہا ہمسایہ ملک کی دشمنی سے لے کر اس کے مذموم ارادوں کے ساتھ، دہشتگردی کی لعنت اور قدرتی آفات سے نمٹنے سے لےکر وبائی امراض تک ہماری قوم نے ہمیشہ استقامت کا مظاہر کیا ہے۔ ہمیں آج ہمارے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ثابت قدم رہنا ہے اور 'ایمان، اتحاد اور تنظیم' کی روشنی میں ہر چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس موقع پر ہمارے دل مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ ایک سال سے فوجی محاصرے کا سامنا کرنے والے بھائیوں کے لیے بہت غمزدہ ہیں۔ ہم حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم ہر دستیاب فورم پر بے بس کشمیریوں کی آواز اٹھاتے رہیں گے۔
ہم بین الاقوامی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بی جے پی حکومت کی جانب سے آر ایس ایس نظریہ اپناتے ہوئے خطے کی سلامتی اور امن کو لاحق خطرات سے آگاہ کرتے رہیں گے۔
جشن آزادی کے موقع پر ملک کی تمام اہم اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرایا گیا اور جشن آزادی کی مناسبت سے انہیں خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔