یوم آزادی اور احساس ذمہ داری

ہم پاکستانی جس سے محبت کرتے ہیں اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ویسے تو ہم نفرت کرنے والے لوگ ہیں نہیں لیکن جس سے کرتے ہیں اسے پاتال کی گہرائیوں میں دفن کردیتے ہیں۔ عدیم ہاشمی صاحب کایہ شعر پاکستانی مزاج کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے:          

محبت ہو تو بے حد ہو، نفرت ہو تو بے پایاں

کوئی بھی کام کم کرنا  مجھے ہر گز نہیں آتا!

بد قسمتی سے ہمارا یہ قومی مزاج جو کبھی کبھی جنونیت کی شکل بھی اختیار کرلیتا ہے، بغیر حقیقت جانے بغیر تحقیق کئے کتنی ہی زندگیوں کونگل چکا ہے۔ہمیں سب سے پہلے جب بھی رمضان آتا ہے تو سیالکوٹ میں ہجوم کے ڈنڈوں سے قتل ہونے والے دوبھائیوں کا خیال ضرور آتا ہے۔ پھرعبدالولی خان یونیورسٹی، مردان کے مشال خان کا بھی خیال آجاتا ہے۔ ابھی تازہ ترین واقع ملازم پر کتے چھوڑنے والا ہے۔ اور معلو م نہیں ایسے کتنے ہی ہیں جنہیں ہم سب کسی نا کسی طرح سے جانتے ہیں اور کتنے ہی ایسے واقعات دوردراز علاقوں میں ہوتے ہیں کہ جن  کے بارے میں ہمیں علم ہی نہیں ہوپاتا۔  یہ  واقعات جنونیت کی زد میں آتے ہیں چاہے وہ فرد واحد کی جنونیت ہو یا پھر واحد سے تبدیل ہوکر اجتماعی جنونیت میں  تبدیل ہوجائے۔

تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور کمزور کو کھاجانے کی چاہ میں مبتلارہا ہے اور مفادات کی خاطر کمزور طاقتور کی غیر مشروط حمایت بھی کرتا رہاہے۔ یہ صورت حال  اکیسویں صدی میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔  دنیا اگر مذہبی تعصب کو بالائے طاق رکھے تو تاریخ میں دو ایسی تحریکیں ہیں کہ جنہوں نے ناصرف سرحدیں تبدیل کیں بلکہ معاشرتی تبدیلی کی بھی داغ بیل ڈالی۔ ان دونوں تحریکوں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے ہجرت۔  خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے سلامتی کی تحریک چلائی تو آپ کو اور پیروکاروں کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا اور آپ نے ہجرت کی۔ اسی طرح سے ہندوستان کے مسلمانوں کی  تحریک آزادی  ہے۔ اس کے نتیجے میں بھی  بڑی ہجرت کی گئی۔ دونوں ہی تحریکوں کا محرک دوقومی نظریہ تھا۔مکہ سے مدینے ہجرت بھی نفاذ اسلام اور اسلام کی مکمل بحالی  و سربلندی کیلئے کی گئی اور پاکستان کیلئے کی جانے والی جدوجہد کے پیچھے بھی لاالہ اللہ کا نعرہ کار فرما  تھا۔

 اپنے پیاروں کی قربانیوں کی بدولت  پاک سر زمین حاصل کر لی گئی۔ ملک سے محبت کے اظہار کیلئے لکھنے والوں نے ملی نغمے لکھے، نظمیں لکھیں، ڈرامے لکھے اور آنے والی نسلوں کو یہ باور کرانے کیلئے کہ آج ہم جس آزاد سرزمین پر کھڑے ہیں اس کے پیچھے قربانیوں کی طویل داستان ہے۔  نسلوں کو آزادی کی اہمیت بتانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ ہم پاکستانی ہر سال آزادی کا جشن بھرپور طریقے سے مناتے ہیں یہ لکھوں کہ میرے پیارے دیس کا کوناکونا سبز ہلالی جھنڈیوں سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے،امیر کیا غریب کیا،وطن کی محبت سے ہر فرد ہی سرشار دکھائی دیتا ہے۔ساری رات چراغاں کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ ہے جو دیکھتی آنکھ دیکھ سکتی ہے اب بات کرلیتے ہیں ان تلخیوں کی جو اس طرح سے ناچتی گاتی  نظر  نہیں  آتیں۔ سوال یہ بنتا ہے کہ ہمارے ملک میں کچرے کا ایک بحران ہے جس کی وجہ سے ہمارے ملک کے گنجان آبادی والے علاقے گلی محلوں میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، جگہ جگہ نکاسی آب کی لائینیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔

ہم نے لفظ آزادی کو یاد رکھا ہے۔ شاید ہمارے بزرگوں نے ہمیں آزادی کی روح اور اس کی  جزیات سے روشناس نہیں کروایا۔آج ہماری  بہت بڑی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو آزادی کی روح کے بارے میں بتائیں۔  اسکول اسمبلیوں میں آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالی جائے۔ بچوں کو خود اس شعور سے آگاہ کیا جائے۔ تقریری مقابلے اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں ہونے والے واقعات اس بات کی کھلی گواہی ہیں کہ قدروں پر ڈاکہ پڑچکا ہے۔ محافظوں نے یہ ڈاکہ خود ڈلوایاہے یا ان اقدار کی پاسبانی کا احساس ناپید ہورہا ہے۔

 ہم روائتوں کی پاسداری کرنے والے لوگ تھے۔ ان تمام صفات کے بدلے ہمیں مادہ پرستی کی طرف راغب کردیا گیا۔ہم اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کے نتیجے میں ملنے والی عظیم آزادی کو کسی فریم میں سجا کر اسٹور کے کسی کونے میں رکھ آئے ہیں۔ اگر یوں لکھ دوں تو غلط نہیں کہ ہم نے اس آزادی کو قید کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم نے آزادسرزمین پر آنکھ تو کھولی لیکن اس کی آزادی کی حفاظت نہ کرسکے۔ خود کو  مفادات  اور ذاتی خواہشات کا غلام بنا لیا ۔ایسا نہیں کہ یہ قوم قربانی دینے سے ڈرتی ہے یا پیچھے ہٹتی ہے۔ہماری تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان  کے عوام نے  ہمیشہ ملک کی بقاکیلئے جان ومال ہر قسم کی قربانی دی ہے۔ لیکن ہماری  وہ معاشرتی اقدار جس کی بنیاد پر دوقومی نظریہ وجود میں آیا تھا وہ ہماری زندگیوں  کا حصہ نہیں رہیں۔ جب سوچ غلام ہوجائے یا غیروں کے تابع ہوجائے  تو  آزادی، آزادی تو نہیں کہلائے گی۔

کورونا نے معاشرتی اقدار پر، انسانی زندگیوں پر اپنے گہرے  اثرات چھوڑے ہیں۔  پاکستان میں اس وبا پر بہت حد تک قابو پانے کے بعد تدریسی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیاہے تو ہماری خصوصی التجاۂے کہ اساتذہ اب اپنی نسلوں کی بنیادوں پر کام کریں۔ سوچنا چاہئے کہ کیا ہمارے تعلیمی ادارے پاکستانیت اور  دوقومی نظریہ پر بھی کام کر رہے ہیں۔ کیا  ہم بظور پاکستانی اور خاص طور سے اساتذہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ ذرا سوچئے قربانیا ں، معاشرتی اقدار اور آزادی کی نعمت کہاں ہے۔یاد رکھیں نعمت کی قدر نہ کی جائے تو نعمت واپس لے لی جاتی ہے۔

باقی کشمیر اور فلسطین کی صورتحال سے کون واقف نہیں۔آئیں اس سال جشن آزادی پر یہ عہد کریں کہ اپنی آنے والی نسلوں کو پاکستان سے حقیقی محبت کرنا سکھائیں گے تاکہ ہمارے گلی محلے یونہی کچرے کا ڈھیر نہ بنے رہیں اور ان کے ساتھ  نشوونما پانے والی ہماری نسلوں کے ذہنوں میں بھی یہی کچرا  اور ی  غلاظت ہمیشہ کیلئے جگہ نہ بنالے (خاکم بدہن)۔