کاروبار کرنا آسان کیوں نہیں؟
- تحریر
- ہفتہ 15 / اگست / 2020
- 3730
آپ نوجوان کاروبار کرنے والے بنیں، حکومت آپ کے ساتھ ہے۔ آپ کو دس لاکھ روپے چاہئیں ہم دس لاکھ دیں گے، آپ کو ایک کروڑ روپے چاہئیں ہم ایک کروڑ دیں گے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی جانب سے کاروبار کے متلاشی نوجوانوں کو یہ چیلنج بھی تھا اور حوصلہ افزائی بھی۔
تین روز قبل مشیرِ خزانہ کے پہلو میں بیٹھے اسی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم کے مشیر عثمان ڈار نے روا روی میں ان نوجوانوں کے لئے ایک انکشاف بھی کیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے انتخابی وعدے کی تکمیل کے لئے آتے ہی گزشتہ سال نوجوانوں کے روزگار کے لئے کامیاب جوان کے نام سے ایک پروگرام کا اعلان کیا:
Youth Enterpreneurship scheme (YES!)
کاروبار کے لئے اس قرض اسکیم کے لئے تین کیٹیگریز بنائی گئیں۔ میڈیا پر اس پروگرام کو خوب پروموٹ کیا گیا۔ رسپانس بھی بہت اچھا رہا۔ پہلے روز ہی ہزاروں لاکھوں لوگوں نے فارم ڈاؤن لوڈ کئے۔ جب ان درخوستوں کی پرکھ پرچول اور انتخاب کا عمل شروع ہوا تو بقول عثمان ڈار یہ انکشاف ہوا کہ 95 فی صد نوجوانوں کے پاس کاروبار کے لئے کوئی واضح منصوبہ ہی نہیں تھا۔ وہ شاید یہ سمجھے کہ یہ کوئی گرانٹ اسکیم ہے۔ یہ اہم نکتہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں نے کاروبار کا کوئی واضح خاکہ یا منصوبہ بنائے بغیر ہی اس پروگرام میں عرضی داغ دی۔ جن پانچ فیصد لوگوں کی درخواستوں کو قابلِ غور سمجھا گیا اور وہ شرائط و ضوابط کی چھلنی میں سے گزرے ان کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ ایک سال کی چھان پھٹک کے بعد ابھی تک صرف 2900 افراد کو ایک ارب روپے کے قرضے دئے جا سکے۔ 7,500 افراد کی درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں، جنہیں جلد ہی قرض کی رقوم فراہم ہو سکیں گی۔ اس پروگرام کے لئے دو سو ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس اعتبار سے سال بھر میں صرف ایک ارب روپے کی فراہمی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کی فراخ دلانہ پیش کش اور تمام تر حوصلہ افزائی کے باوجود اس قدر کم لوگوں کی اہلیت اور منظوری! آخر کیوں؟
روزگار اسکیمیں اور بالخصوص نوجوانوں کے لئے ایسے پروگرام ہر حکومت کی خصوصی دلچسپی کے حامل ہوتے ہیں۔ گزشتہ حکومت نے بھی اقتدار سنبھالتے ہی وزیر اعظم یوتھ لون پروگرام کا بڑے زور شور سے اعلان کیا۔اس سے قبل بھی ن لگ سمیت دیگر حکومتوں نے نوجوانوں کے لئے بالخصوص اور عوام کے لئے نئے کاروبار کے لئے کئی پروگرام لانچ کئے۔ اگر یہ پروگرام اپنے اعلان کردہ اہداف کا نصف بھی حاصل کر لیتے تو اب تک سمال ایند میڈیم سائز کاروبار کی ملک میں ایک بڑی بنیاد پڑ چکی ہوتی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا۔ حالت کچھ ایسی ہے کہ زمین جنبد نہ جند گل محمد، حکومت نے سمال اینڈ میڈیم کاروبار کی راہ میں حائل دشواریوں اور رکاوٹوں کی نشاندہی اور حل تجویز کرنے کے لئے اسی ہفتے ایک اور ہائی پاور کمیٹی بنائی ہے؛ نیشنل کو آرڈی نیشن کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ستم ظریفی کہئے یا المیے کا تسلسل کہ اس کمیٹی میں وہی تمام ادارے اور شناسا نوکرشاہی نام ہیں کہ جن کی موجودگی میں سمال اور میڈیم کاروبار ماضی میں ایڑیاں رگڑتے رہے مگر یہ اجلاسوں کی لا یعنی دلدل میں پھنسے رہے۔
دنیا بھر میں حالیہ چالیس پچاس سالوں میں نجی کاروبار ہی معاشی ترقی کا چہرہ رہا ہے۔ انگریزی میں کاروبار کے لئے معروف اصطلاح انٹرپرائز استعمال ہو تی ہے، اور اس کے قائم کرنے اور انتظام و اہتمام کرنے کے عمل کو انٹرپرینیورشپ یعنی Enterpreneurship
کا نام دیا جاتا ہے۔ اس عمل کو ممکن بنانے والے کیلئے انٹرپرینیور یعنی
Enterpreneur
کی اصطلاح معروف ہے۔ یہ عمل اور ا سے انجام دینے والے کسی بھی اکونومی میں اس قدر اہم اور معتبر سمجھے جاتے ہیں کہ یونیورسٹیوں کالجوں میں اس موضوع پر درجنوں مضامین پڑھائے جاتے ہیں، بے تحاشا ادارے اور میڈیا اس عمل اور عملداروں کے لئے مختص ہیں۔ کامیاب انٹر پرینیور ترقی یافتہ معاشی ممالک میں ایک سیلیبریٹی کی طرح جانے جاتے ہیں۔ اخبارات، میگیزین، ٹی وی، کانفرنسوں اور سیمینارز میں یہ لوگ ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں اور اداروں کا فوکس ہوتا ہے کہ ملک میں کاروبار کو آسان بنایا جائے اور ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے جو سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ گلوبل اکونومی میں ممالک کا اایک دوسرے پر انحصار، بہتر مسابقت اور ڈبلیو ٹی او کی تشکیل کے بعد عالمی تجارت اور صنعت میں انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ ملکوں کی ترقی میں انٹر پرینیورشپ کا بنیادی کردار ہے۔ پاکستان اس پیمانے پر کہاں کھڑا ہے؟
گلوبل انٹرپرینیورشپ انڈکس 2019 کے مطابق دنیا کے 137 ممالک کی فہرست میں پاکستان 120ویں نمبر پر تھا۔ ترکی 37ویں، ایران 72 ویں، بھارت 68ویں، ویت نام 87ویں اور سری لنکا 90 نمبر پر رہا۔ اس انڈکس کی بنیاد ملکوں میں انٹرپرینیورشپ کی طرف رجحان ، اہلیت، شوق و ذوق اور موجود سوشل اکنامک انفراسٹرکچر کے ڈھانچے کو انٹرپرینیورشپ ایکو سسٹم
(Ecosystem)
قرار دیا جاتا ہے۔ ہماری پوزیشن بہت سے سوالوں کا جواب دیتی ہے کہ صرف قرض پروگرام ہی اصل رکاوٹ نہیں ہے، مسائل کچھ اور بھی ہیں!
دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے، سن سن کر کان پک گئے مگر ہم بہ حیثیت ملک اس گلوبل ویلیج میں اپنا سکہ جمانے کے عمل میں کہاں کھڑے ہیں؟ اس کا اندازہ ایک اور انڈکس سے ہو جاتا ہے، عالمی مسابقتی انڈکس میں گذشتہ سال ہمارا نمبر 141 ممالک میں 110واں رہا۔ اس سے پچھلے سال ہماری پوزیشن107 تھی یعنی ایک سال میں تین پوائنٹس نیچے آ گئے۔ ورلڈ بنک کے سالانہ کاروبار آسانی انڈکس میں البتہ ایک سال میں قدرے بہتری کے بعد 190 ممالک میں 108 ویں نمبر پر آئے۔
عثمان ڈار کی نشاندہی کہ 95 فی صد نوجوانوں کے پاس کاروبار کا کوئی واضح منصوبہ نہیں، یہ انکشاف کوئی حادثاتی نہیں۔ بقول شاعر فلک برسوں پرورش کرتا ہے تب جا کر کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کرنا قوانین اور ضوابط کے جنگل میں راستہ بنانے کے مترادف ہے، درجنوں ادارے چلتے کاروبار کو دبوچنے کے لئے ہمہ وقت تیار اور مصروف عمل رہتے ہیں۔ دستاویزی کاروبار کرنے والوں کے اردگرد ہر حکومت نے گھیرا تنگ کیا، البتہ بلیک اکونومی کی اوٹ میں ستّے خیراں ہیں۔ ایسے میں شاید ہوسکتا ہے جو ہو رہا ہے۔