پاکستان میں سیاحتی مقامات کھل گئے، احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہوگا
- اتوار 16 / اگست / 2020
- 5710
حکومتِ پاکستان کی طرف سے کورونا وائرس کے باعث سیاحتی مقامات پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد صوبہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے پر فضا علاقوں کا رُخ کر رہی ہے۔
گلگت بلتستان کی انتظامیہ نے سیاحوں کے لیے کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ لازمی قرار دے دی ہے۔ جب کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے 'ببل ٹورازم' کے تحت مخصوص افراد کو مخصوص علاقوں تک سیاحت کے لیے رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے سبب ہر قسم کی سیاحت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے سیاحت کی صنعت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔ خیال رہے کہ پندرہ لاکھ کی آبادی اور 28 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا گلگت بلتستان کا علاقہ نہ صرف مقامی بلکہ دیگر ممالک سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی اولین ترجیح ہوتا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل 'ٹورازم کلچر اینڈ اسپورٹس' جنید خان کے مطابق صوبائی انتظامیہ تمام سیاحوں کو خوش آمدید کہتی ہے۔ تاہم سیاحوں کو صوبائی انتظامیہ کے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق مکمل تعاون کرنا چاہیے۔ ببل ٹورازم کی وضاحت کرتے ہوئے جنید خان کا کہنا تھا کہ عام حالات میں تمام افراد کو ہر جگہ جانے کی اجازت ہوتی ہے لیکن مخصوص تعداد میں افراد کو مخصوص علاقوں تک رسائی ‘ببل ٹورازم’ کہلاتی ہے۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے جنید خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دور افتادہ علاقوں میں جو ہوٹل اور ریسٹورنٹ انڈسٹری ہے، حکومت ان کے عملے کے لیے تربیت کا اہتمام بھی کر رہی ہے۔ اس ٹریینگ میں ہوٹل انڈسٹری کے علاوہ ٹور آپریٹرز اور ٹریول ایجنٹس کو بھی شامل کیا جائے گا جس میں انہیں ایس او پیز پر عمل کرانے کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔
گلگت بلتستان کے ایک ہوٹل منیجر رانا سلیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تمام احتیاطی تدابیر پر نہ صرف وہ خود عمل کر رہے ہیں۔ بلکہ سیاحوں سے بھی ان پر عمل درآمد کرا رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے رانا سلیم نے بتایا کہ ہوٹل میں ہر فرد کے لیے ماسک لازمی ہے۔ اس کے علاوہ مناسب فاصلہ، سینیٹائزر کا استعمال اور مہمانوں کی آمد سے قبل کمرے کو ڈس انفیکٹ کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول اس کے علاوہ ڈائننگ ہال کو بند کیا ہوا ہے اور کھانے کے لیے روم سروس دی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابھی بیرونی ممالک سے سیاح نہیں آ رہے اور زیادہ تر سیاح کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے آ رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کی انتظامیہ کے مطابق وہ حکومتی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان کی معیشت کا 80 فی صد دار و مدار سیاحت پر ہے۔ تاہم وہ اپنے عوام کی صحت کا بھی مکمل خیال رکھنا چاہتے ہیں۔
وزیر اعلٰی گلگت بلتستان کے ترجمان فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ اب تک گلگت بلتستان میں تین ہزار سے زائد گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں نے شمالی علاقہ جات کا رُخ کیا ہے۔