متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ مسلمانوں کے ساتھ غداری ہے: ایران
- اتوار 16 / اگست / 2020
- 5960
ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ کر کے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ایک تقریر میں متحدہ عرب امارات کو نشانہ بناتے ہوئے صدر روحانی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے دھوکہ دیا ہے۔
جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین معاہدے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کیے جائیں گے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد خطے میں ایران کے خلاف قوتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
صدر روحانی نے ٹی وی پر تقریر میں متحدہ عرب امارات کو متنبہ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے پاؤں مضبوط کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا ’وہ (یو اے ای) ہوشیار رہے۔ انہوں نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ایک غداری کا قدم اٹھایا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور وہ اس غلط راستے کو چھوڑ دیں گے۔‘
صدر روحانی نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد نومبر میں ہونے والے امریکی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی نامزدگی کو مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے اس معاہدے کا اعلان واشنگٹن سے کیا گیا ہے۔ روحانی نے کہا ’اب یہ معاہدہ کیوں ہوا ہے؟ اگر یہ معاہدہ غلط نہیں ہے تو پھر کسی تیسرے ملک میں اس کا اعلان کیوں کیا گیا ہے؟ وہ بھی امریکہ میں؟ تاکہ واشنگٹن میں بیٹھا شخص ووٹ جمع کرسکے۔ آپ نے اپنے ملک، اپنے لوگوں، مسلمانوں اور عرب دنیا کے ساتھ غداری کی‘۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے کے بعد ’بچوں کو ہلاک کرنے والی صیہونی حکومت کی تباہی کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔‘ ادھر متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے معاہدے کا مقصد ایران کو جواب دینا نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ترکی کی جانب سے بھی اس معاہدے پر تنقید کو مسترد کردیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور گرگش نے خبر رساں ادارے بلومبرگ کو بتایا ’یہ معاہدہ ایران کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکہ کے بارے میں ہے۔ اس کا مقصد ایران کے خلاف کسی بھی طرح سے گروپ بنانا نہیں ہے۔‘