کراچی میں سول سہولتوں کی بحالی کے لئے وفاقی و صوبائی حکومت میں اتفاق، کمیٹی بنادی گئی
- اتوار 16 / اگست / 2020
- 7450
کراچی کی ترقی اور خوشحالی کے لیے شہر کی 3 بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان اتفاق ہوگیا ہے۔ معاملات کی نگرانی کے لئے کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
تینوں جماعتوں نے شہر کی ترقی کے لیے ایک پیج پر آتے ہوئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ مزید معاملات پر عملدرآمد کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔Skip ذرائع نے بتایا ہے کہ 13 اگست کو اسلام آباد میں وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے دو وزرا کے ہمراہ، ایک اہم شخصیت اور تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ جس کے بعد فیصلوں کی منظوری پر مشاورت کے لیے وقت مانگا گیا تھا۔
پیپلزپارٹی کی قیادت کی منظوری کے بعد تینوں جماعتوں کے درمیان ملاقات کا دوسرا دور کراچی میں ہوا اور اس میں اتحاد پر اتفاق ہوگیا اور معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔ سندھ کے وزیر بلدیات و اطلاعات اس اتحاد و اتفاق کی تصدیق کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کا کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے اتحاد و اتفاق خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ تینوں جماعتوں کا کراچی کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم عوام کے لیے خوش خبری ہے۔ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا اتحاد کراچی کی تعمیر و ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراطلاعات سندھ کے مطابق کراچی دشمن عناصر کو یہ اتحاد ایک آنکھ نہ بھائے گا۔
ناصر شاہ کے مطابق حکومت سندھ نے نالوں کی صفائی کے حوالے سے وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کو خوش آمدید کہا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر کراچی کی ترقی کے لیے جو اقدامات کیے وہ ناقابل فراموش ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے ایک دن میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا جس کی مثال ملک کے کسی صوبے میں نہیں ملتی۔
کراچی سمیت سندھ بھر کی ترقی کے لیے کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین وزیراعلیٰ سندھ ہوں گے۔ ان کے علاوہ وفاقی وزیر اسد عمر، علی زیدی اور امین الحق کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ سعید غنی، ناصر شاہ کمیٹی میں صوبائی حکومت کی نمائندگی کریں گے۔
شہر کراچی اس وقت مختلف مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر میں نالوں اور علاقوں کی صفائی نہ ہونے کے بعد صورتحال انتہائی خراب ہوگئی تھی۔ کراچی کے معاملے پر اتفاق ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے ہی سپریم کورٹ نے کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کرتے ہوئے شہریوں کی مدد کے لیے وفاقی حکومت کے آنے کو سندھ حکومت کی ناکامی قرار دیا تھا۔
ایک طویل عرصے سے کراچی کے معاملات پر یہ تینوں جماعتیں ایک دوسرے پر الزام لگاتی آرہی تھیں۔ کراچی سے 14 نشستیں جیتنے والی تحریک انصاف اس وقت وفاقی حکومت میں ہے جبکہ سندھ کی حکومت پیپلزپارٹی کے پاس ہے۔ کراچی کے بلدیاتی نمائندے اور میئر متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ہی وفاق کی نمائندگی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان نے کہا تھا کہ انہوں نے کراچی کے مختلف شہری اور دیگر مسائل پر وزیراعظم عمران خان سے بات کی ہے اور وفاقی حکومت کا صوبائی حکومت کے معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا تھا کہ صوبائی دارالحکومت کی خراب صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت تمام دستیاب قانونی اور آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ کراچی میٹرو پولیٹن شہر ہے، کوئی بھی ملک اپنے میٹروپولیٹن شہر کو تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔
سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی اور سندھ حکومت ایک پیج پر آگئے۔ ’جیو نیوز‘ سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے مشاورتی کمیٹی بنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں وفاق اور سندھ حکومت کے تین تین نمائندے شامل ہوں گے۔