لا الہ کی تلاش میں
- تحریر مسعود مُنّور
- اتوار 16 / اگست / 2020
- 16610
اصغر سودائی کی نظم پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ اللہ ، ماقبلِ تقسیم کے زمانے میں مسلم لیگ کے جلسوں میں گونجی اور بالآخر پاکستان کے قومی منشور کا عنوان بن گئی ۔ لا الہ وہ کلمہ ہے جو ایک کوڈ ورڈ کی طرح کائنات کی تخلیق کے اسرار رموز کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔
اس کوڈ ورڈ سے مذہب کے سر بستہ راز کھلتے ہیں مگر اس کوڈ ورڈ کے استعمال کی ٹیکنیک بہت کم لوگوں کے پاس ہے ۔ وہ بہت کم لوگ کون سے ہیں؟ وہ لوگ عارفانِ باللہ ہیں جو اللہ کے دوست ہیں ۔ مجھے یہ بات میری ماں نے بتائی تھی جو میری ماں کی وفات کے بعد ہمیشہ سے میری روز مرہ زندگی میں شامل رہی ہے ۔ چنانچہ میں نے مذہب کو تاریخ کی کتابوں ، مفسروں کی تفسیروں اور ملاؤں کے خُطبوں میں کبھی تلاش نہیں کیا اور ہمیشہ یہی چاہا کہ میں غارِ حِرا میں گونجنے والی اقراء کی باز گشت خود اپنے کانوں سے سُن سکوں ۔ اس لیے میں نے ہمیشہ اپنے مشاہدات پر بھروسہ کیا اور میں نے حضرت فضل شاہ نوروالے علیہ رحمت کے طرزِ زندگی میں اُس کی رمق دیکھی اور اب اگرچہ حضرت نور والے لاہور میں اپنے مرقدِ نور میں مقیم ہیں ، مگر اُن کی زندہ قبر مجھے وہ صدا یاد الاتی رہتی ہے، جس کے اثر سے میں اُن کےمکتبِ علم و محبت کے اسباق کی روشن ترین یادداشتوں کے حلقے میں مقیم ہوں ۔وہ تمام حالات و واقعات جنہیں نور والوں کے ڈیرے پر میری آنکھوں نے دیکھا ، میرے کانوں نے سُنا اور میرے حواسِ خمسہ نے جمع کر کے میری اربعہ عناصر کی لوح پر رقم کیا ، میرے وجود کا متن ہیں ۔
میں نے جب پہلی بار نوروالوں کے ڈیرے کے بے ترتیب باغچے میں قدم رکھا تو میں سُخن سازی کے نشے میں مست تھا مگر وہاں جا کر چند ہی دنوں میں محسوس ہوا کہ وہ شخص جو ایک دن حلقہ ء اربابِ ذوق کی روایت ِ سُخن کا بریف کیس تھامے یہاں آیا تھا ، اب مجھ میں موجود نہیں ہے ۔ ٹُکڑے ٹُکڑے ہوگیا ہے ۔مگر میں نور والوں کے ڈیرے پر گیا ہی کیوں؟
لوگ فقیروں ، درویشوں ، عارفوں اور ولیوں کے پاس کرامتوں کی تلاش میں جاتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ مٹی کو سونا بنانے کی کیمیا گری سیکھنے کی خواہش میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن میں قلم کا گھسیارہ ، لفظوں کی گھاس کاٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں جانتا تھا ۔ چنانچہ میں نے خود سے کہا کہ اے ادبی حلقوں کے باتونی اور اے پنجابی سنگت کے بُلھے شاہی ملنگ ! یہ دوسری دنیا ہے اور تو اس دنیا کی زبان نہیں جانتا ۔ تیرا کیا ہوگا رے کتابوں کے کاغذی بنجارے؟ یہاں ان فقیروں اور درویشوں کے درمیان تیرا تو تیا پائنچہ ہو جائے گا ۔ یہاں تیرا رول بدل جائے گا ۔
میں لفط و لُغت کی جس دنیا میں رہا تھا وہاں کمیونی کیشن کا مطلب دو طرفہ ابلاغ نہیں تھا بلکہ بہروں کا بہروں سے مکالمہ تھا ۔ میں اندھوں کی بات نہیں کر رہا کیونکہ عقل کا نابینا پن دوطرفہ جہالت کا زیادہ گہرا تاثر مرتب کرتا ہے لیکن یہاں مجھے ایک دوسری طرح کا غیرمعمولی چیلنج درپیش تھا ۔ شاید چیلنج کے بجائے اسے حقیقی ایڈونچر کہنا زیادہ موزوں ہوگا ۔ اس ایڈونچر میں بے پناہ جرات مندی درکار تھی کہ کوئی کس طرح اپنے باطن میں لاشعور کی اتھاہ گہرائیوں میں غوطہ زن ہو ۔ تو میں نے سوچا کہ کیا بُلھے شاہ کی طرح میں اپنے باطن کی بھول بھلیوں میں داخل ہو سکوں گا ؟ اور ایک بار اگر لاشعور کی گہری تاریکی میں اُتر گیا تو کیا دن کی روشنی دوبارہ دیکھ سکوں گا کیونکہ وہاں تو بھانت بھانت کی ان گنت آوازوں کی باز گشت سنائی دے گی جو ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوگا ۔
یہاں ، سوچ کے اس موڑ پر ( بُلھیا کیہ جاناں میں کون) کا سوال کسی شیش ناگ کی طرح اپنا پھن لہراتا مجھے ڈرا رہا تھا ۔ اس صورتِ حال میں جو مجھے درپیش تھی ، اگر اللہ نے اپنا فضل کیا تو میں اپنے اَنا کے انبار کو روند کر ، اپنے ضمیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عرفانِ نفس کے مراحل طے کروں گا ۔ اور انا کے عفریت سے سچ مچ رہائی نصیب ہوگئی تو میں مر کر دوبارہ جی اٹھوں گا ۔ لیکن اس تربیتی عمل کی سب سے پہلی شرط سوچ بچار کے مشینی عمل سے نجات تھی جس میں اپنے باطن کے شور سے قطع تعلق کر کے خاموشی اختیار کرنی تھی۔ ایسی خامشی جس میں خودکار خیالات کی آمدورفت معطل ہو کر رہ جائے ۔مگر اپنے خود کار خیالات کے آگے بند باندھنے کا عمل کوئی ایسی کیفیت نہ تھی جو کسی حکیم کی دوائی سے افاقے جیسی ہو ۔ اور پھر اس ڈیرے کی آب و ہوا اور ماحول بالکل مختلف تھے ۔ یہاں آنے والوں میں اہلِ علم و فن ، امیر امرا ء اور غریب غرباء سب یکساں سہولت سے اس ماحول میں رچے بسے ہوئے تھے ۔ یہاں اقبال کا وہ فارمولا نافذ تھا جس میں کہا گیا ہے:
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
یہاں تو جامعہ اسلامیہ بہاولپور کا علامہ اور ایک ان پڑھ ملنگ پہلو بہ پہلو بیٹھے تھے ، اُدھر مسجد کے چبوترے پر ایک ددریدہ پیرہن میں لپٹی غریب عورت اور ایک بیگم صاحبہ قسم کی خاتون ایک دوسری کے روبرو چٹائی پر بیٹھی لنگر کی پلیٹیں تھامے ایک دوسری سے شیروشکر تھیں ۔ ایک چارپائی پر قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی بیٹھے حضرت نور والے کی گفتگو سن رہے تھے اور اس ماحول میں طبقاتی فرق کہیں نظر نہیں آرہا تھا ۔ میں نے تاریخ کی آنکھ سے دیکھا تو مجھے ابو ذر غفاری ؓ دکھائی دیے جنہیں عبدالرحمان بن عوف ؓ پنکھا جھل رہے تھے ۔ اور یہ تھا نوروالوں کے ڈیرے کا منظر نامہ ۔ یہ سب کچھ تو ظاہری آنکھ دیکھ رہی تھی مگر کسی بھی صورت حال کی اصل حقیقت جاننے کے لیے بالغ نظری کی ضرورت ہوتی ہے جو مجھ جیسے مبتدی کے پاس نہیں تھی ۔ تب میں نے محسوس کیا کہ صرف میں ہی نہیں بہت سے لوگ خود آگاہ نہیں ہیں اور نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ کس قابل ہیں اور یہ کہ انہیں کس قابل ہونا چاہیے ۔ اس لیے اُن کا کسی دین کو قبول کرنے کا عمل بے بضاعت ہوتا ہے ۔
ایسے لوگ دین سے وابستہ ہو کر بھی ناوابستہ ہوتے ہیں۔ وہ پل میں تولہ ہوتے ہیں اور پل میں ماشہ ۔ اس لیے مذہب سے اُن کی وابستگی بے معنی ہوتی ہے ۔ وہ مذہب میں رہیں یا نہ رہیں ، اُن کا ہونا یا نہ ہونا یکساں ہے ۔ کوئی بھی شخص مسلمان پیدا نہیں ہوتا خواہ وہ مسلمان ماں باپ کی اولاد ہی کیوں نہ ہو ۔مسلمان ہونے کے کے لیے دین کو پوری لگن کے ساتھ بقائمی ء ہوش و حواس سمجھنا ہوتا ہے اور یہ سمجھنا ، آیات کا رٹنا اور اھادیث کا حفظ کر کے بیان کرنا نہیں بلکہ یہ ایک وجودی اور موضوعی کیفیت ہے جس میں فرد تغیر کے مراحل طے کر کے مٹی سے کندن بن جاتا ہے ۔ لیکن مذہب کی حقیقی صورتِ حال میں جو شخص خود کو نہیں جانتا وہ مذہب سے رشتہ استور کر ہی نہیں سکتا ۔ یہ اُس کے بس کی بات ہی نہیں ہے ۔ و علیٰ ہذالقیاس ، پاکستانیت بھی ایک مذہب ہے اور پاکستانی ہونا لا الہ کے راز سے آگاہ ہونا ہے۔ مستند پاکستانی ہونے اور اس کا اظہار کرنے کے لیے یہی نعرہ کافی نہیں کہ:
پاکستان کا مطلب کیا: لا الہ اللہ