مقبوضہ کشمیر :ہم کیا کرسکتے ہیں
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 16 / اگست / 2020
- 4830
بنیادی مسئلہ مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں پاکستان کی پالیسی کا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کی بحالی میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو بنیادی مسئلہ سمجھتا ہے۔پاک بھارت تعلقات میں جو بگاڑ یا بداعتمادی ہے اس میں دیگر وجوہات کے علاوہ کشمیر ایک اہم نکتہ ہے۔
بالخصوص آرٹیکل 370اور 35-Aکے تعطل کے بعد جو صورتحال مقبوضہ کشمیر کی پیدا ہوئی ہے وہ حالات کی سنگینی اور پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔پاکستان میں بہت سے لوگ مقبوضہ کشمیر پرجذباتی کیفیت رکھتے ہیں اور واقعی سمجھتے ہیں کہ بھارت کا رویہ درست نہیں۔ بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر ہمارے سمیت دنیا کا سخت ردعمل موجود ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ سے کیسے نمٹے اور کیسے اسے اپنی داخلی اور خارجی سیاست کا حصہ بنا کر آگے بڑھے۔
پاکستان کے پاس کیا آپشن ہیں ہمیں اس پر پہلے تجزیہ کرنا چاہیے۔ اول ایک جذباتی مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں کشمیر کے معاملہ پر ایک سخت گیر یا جنگ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔اس طبقہ کے بقول اگر ہم براہ راست جنگ نہیں کرسکتے تو ہمیں مقبوضہ کشمیر میں جاری جنگ میں سیاسی، انتظامی، قانونی، مالی ہر طور مدد کرنی چاہیے۔دوئم ہمیں یہ کہ سیاسی راستہ اختیار کرنا ہوگا اور سفارت کاری کے محاذ یا ڈپلومیسی فرنٹ پر متحرک اور جاندار قسم کی پالیسی اختیار کرکے دنیا کی توجہ حاصل کرنی چاہیے تاکہ ہم طاقت ور ممالک پر دباؤ ڈال سکیں کہ وہ بھارت کی مزاحمت کریں۔
دنیا کے حالات اب عملی جنگوں کے نہیں ہیں۔ خاص طور پر ہمارے جیسے ممالک جو اپنی سیاسی او را قتصادی کمزوری کے باعث جنگ کے کسی بھی طور پر متحمل نہیں ہوسکتے۔ ویسے بھی جنگیں مسائل کا حل کم اور حالات کو زیادہ خراب کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ عالمی رائے سمیت دنیا کے ممالک بھی جنگوں کی حمایت یا اس میں پہل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے۔ اس لیے جو لوگ بھی ہمیں یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہم جنگ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، درست حکمت عملی نہیں۔ اسی طرح ہم کشمیر کی سیاسی اور سفارتی حمایت تو کرسکتے ہیں مگر ایسی کسی حمایت کی بھی ہمیں ضرورت نہیں جو اس تاثر کو نمایاں کرے کہ ہم مقبوضہ کشمیر کی داخلی سیاست میں مداخلت کررہے ہیں یا وہاں پر موجود مزاحمت کو کسی مسلح جدوجہد میں تبدیل کررہے ہیں۔ماضی میں اس پالیسی کے باعث ہمیں دنیا میں سیاسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا تھا او رکوئی بھی اس نکتہ پر ہماری حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔بھارت بھی اسی نکتہ کو بنیاد بنا کر ہمیں تنہا کرتا رہا ہے کہ پاکستانی براہ راست مقبوضہ کشمیر میں جہاد یا مسلح جدوجہد کو تقویت دیتے رہے ہیں۔
پاکستان کے پاس ایک بڑا ہتھیار سفارت کاری یا ڈپلومیسی کا محاذ ہے۔ ویسے تو سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر وہی ملک کامیاب ہوتے ہیں جو داخلی سطح پر سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم جہاں بھی کھڑے ہیں ہمارے پاس فی الحال سفارت کاری اور ڈپلومیسی کا راستہ ہی بچتا ہے۔ اسی نکتہ کو بنیاد بنا کر ہمیں اصولی طور پر پاک بھارت تعلقات ہوں یا مقبوضہ کشمیر سمیت علاقائی یا دنیا ہمیں سفارتی پالیسی پر ہی چلنا ہوگا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں ڈپلومیسی کے محاذ پر بہت سے مسائل ہیں اور ہم وہ کچھ نہیں کرسکے جو ہم کرسکتے تھے۔اس کی وجہ جو سمجھ آتی ہے وہ ہماری داخلی سیاست کا عدم استحکام اور پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے۔
یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اگرچہ ہمیں داخلی محاذ پر بہت سی کمزوریاں موجود ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے اپنی خارجہ پالیسی میں کشمیر کو بنیادی فوقیت دی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ دنیا کی سیاست میں اپنی حیثیت منوارہا ہے تو اس میں ایک وجہ یقینی طور پر خود مقبوضہ کشمیری لوگوں کی جرات مندانہ جدوجہد ہے جس کا اب دنیا میں اعتراف کیاجارہا ہے۔ لیکن دنیا میں اسی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے میں پاکستان کی سیاسی اور سفارتی یا خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔کیونکہ پاکستان نے جس اندازمیں اس مسئلہ کو دنیا کے سامنے تسلسل کے ساتھ پیش کیا ہے وہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔
سیاسی اور سفارتی محاذ پر یقینا اس وقت جو کچھ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کررہا ہے اس میں انسانی حقوق کی پامالی سمیت ایسے لاتعداد مسائل ہیں جو ہماری سفارت کاری کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ بالخصوص انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ ایسا ہے جس کو بنیاد بنا کر ہم بھارت کو ہر سطح پر دفاعی پوزیشن پر لاسکتے ہیں۔ دنیا بھی مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر سیاست سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی کو زیادہ سنجیدگی سے لیتی ہے۔ خود مقبوضہ کشمیر میں لوگ بھارت کی کشمیر پالیسی پر سخت تنقید کررہے ہیں یا جو وہاں مظالم ہورہے ہیں ان کی خبریں، اداریے،فیچرز، رپورٹس، ویڈیو ز کو سفارت کاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بھارت میں بڑے بڑے نام اور سکہ بند شخصیات مودی کی کشمیر پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں اس کا بھی ہم بہتر طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔
دنیا میں ایک بڑی جنگ سوشل یا ڈیجیٹل میڈیا کے محاذ پر لڑی جارہی ہے ہمیں اس کو بنیاد بنا کر اپنا او ر مقبوضہ کشمیر کے بیانیہ کو زیادہ سے زیادہ مضبوط انداز میں جس میں جذباتیت بھی ہو مگر دلیل اور شواہد بھی پیش کرناہوگا۔ہمیں اپنی بات عالمی میڈیا میں پہنچانی ہے اور اس میں ہم بہت پیچھے ہیں جبکہ بھارت ہم سے بہت آگے ہے۔ اس میں ہمیں ہر صورت ایک بڑی لیڈ لینی ہوگی اور اپنا اور کشمیریوں کا موقف دنیا کے میڈیا، تھنک ٹینک، انسانی حقو ق کے اداروں، فورمز، پارلیمنٹس تک پہنچانا ہوگا۔ اسی طرح پاکستان کو چین کی مدد سے علاقائی تعاون کو بنیاد بناناہوگا تاکہ بھارت پر دباؤ بڑھایا جاسکے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی جیسے اداروں پر اپنی فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خاص طور پر ہمیں امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی پر دباوؤبڑھانا ہوگا کہ وہ اس مشکل صورتحال میں بھارت
پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر اپنا سفارتی کردار اداکرے۔ ہمیں اسلامی ممالک جن کے معاشی مفادات بھارت سے وابستہ ہیں ان کو بھی ساتھ ملانے کے لیے کچھ نیا کرنا چاہیے او رکم ازکم انسانی حقوق کی پامالی پر ان کے کردار کو فعال کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔اسی طرح پاکستان
میں بھی ہمیں پارلیمانی وفود، صحافی اور دانشوروں کے گروہ، تھنک ٹینک کے قیام، سیاسی جماعتوں میں کشمیر پالیسی پر واضح حکمت عملی سمیت نوجوان نسل کو کشمیر کے مسئلہ پر ایک سفیر کے کردار کے طور پر پیش کرنے پر خاص توجہ دینی ہوگی۔
ہمیں سفارتی پالیسی میں اپنے سفارت کاروں، سفارت خانوں کو زیادہ متحرک او رفعال کرنا ہوگا۔ کشمیر کمیٹی سمیت کشمیر کے معاملات پر علمی و فکری کام کو آگے بڑھانا ہوگا۔ اسی طر ح اس نکتہ پر بھی فوقیت دینی ہوگی کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ ہیں اور جو بھی وہ فیصلہ کریں گے ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے او ر پاکستان یا بھارت کا فیصلہ ان پر مسلط نہیں کیا جائے گا۔اسی طرح یہ نکتہ بھی ہماری سفارت کاری کی بنیاد ہونا چاہیے کہ کشمیر کے مسئلہ پر ڈیڈلاک او رمذاکرات کے تما م دروازے ہم نے نہیں بلکہ بھارت نے بند رکھے ہوئے ہیں۔بھارت کی سخت گیرپالیسی نے ہی مقبوضہ کشمیر سمیت خطہ کی سیاست کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔
ہم سفارتی محاذ پر آگے بڑھ کر بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگراصل مسئلہ سفارتی کاری میں جدت اورنئی جہت اختیار کرنے کا ہے تاکہ بھارت پر دباؤ بڑھیا جاسکے۔