ایران ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے: متحدہ عرب امارات

  • سوموار 17 / اگست / 2020
  • 4760

اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے لیے پروازوں کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جب کہ اماراتی حکومت نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ ملک کے اندرونی معاملات اور فیصلوں میں مداخلت سے باز رہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ براہِ راست پروازوں کی بحالی کی تیاری کی جا رہی ہے جس کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال ہوں  گی۔  پروازوں کی بحالی اسرائیل اور امارات کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا حصہ ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پروازوں کی بحالی کے سلسلے میں اسرائیل کا ایک وفد آئندہ چند ہفتوں میں متحدہ عرب امارات جانے کی توقع ہے۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان پروازوں کے بحالی کے امور جائزہ لیا جائے گا۔ اسرائیل متحدہ عرب امارات کے لیے براہِ راست پروازوں کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کی فضائی حدود اسرائیل کے طیاروں کے لیے بند ہیں۔

اسرائیل سے تعلقات نہ ہونے کے باوجود سعودی عرب نے 2018 میں بھارت کو تل ابیب کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔  

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر ایران کی جانب سے تنقید پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امارات کے درمیان امن معاہدہ ایک خود مختار فیصلہ ہے جس کے لیے ایران کی ہدایات کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے پیر کو عربی زبان میں کیے گئے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اُن کا ملک اپنے فیصلوں میں مداخلت ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ متحدہ عرب امارات ایران کی دھمکیوں کو مسترد کرتا ہے۔ چاہے یہ دھمکیاں دھونس کے لیے یا پریشانی کا سبب ہوں۔  یاد رہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی نے ہفتے کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کر کے 'سنگین غلطی' کی ہے۔ حسن روحانی نے اس معاہدے کو متحدہ عرب امارات کی فلسطین سے غداری سے تعبیر کیا تھا۔

حسن روحانی کے اس بیان پر متحدہ عرب امارات نے اتوار کو ابوظہبی میں ایرانی نائب سفیر کو طلب کرکے ایک احتجاجی' میمو' اُن کے حوالے کیا۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی صدر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔

پیر کو امارات کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ نے کہا ہے کہ امارات اسرائیل معاہدے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ جب کہ اس سے یو اے ای کے مستقبل کی پوزیشن بھی واضح ہوتی ہے۔ دوسری جانب چھ خلیجی ممالک کی نمائندہ تنظیم 'خلیج تعاون کونسل' کے سیکریٹری جنرل نے اسرائیل امارات امن معاہدے کے بعد ایران کے صدر اور دیگر حکام کی جانب سے سامنے آںے والے بیانات کی مذمت کی ہے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے 13 اگست کو سفارتی تعلقات قائم کرنے کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں اس معاہدے سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا۔ معاہدے کے تحت دونوں ملک آنے والے دنوں میں باہمی تعلقات کے فروغ اور ایک دوسرے کے شہریوں کے میل جول کے لیے سیاحت، مواصلات، ثقافت اور تجارت سمیت دیگر شعبوں میں وسعت دیں گے۔

متحدہ عرب امارات پہلا خلیجی عرب ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔ اس سے قبل مصر اور اُردن وہ عرب ممالک ہیں جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیے ہیں۔