ایگزیکٹو اختیار شیئر نہیں ہوں گے: وزیراعلیٰ سندھ

  • سوموار 17 / اگست / 2020
  • 4380

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت  آئین میں موجود ایگزیکٹو اختیارات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرے گی اور کسی کے دماغ میں یہ  فتور ہے تو وہ نکال دے۔

کراچی میں پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میڈیا مثبت کردار ادا کرے ۔ صوبہ سندھ میں ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم نے سب سے پہلے کورونا کے خطرے کا احساس کیا جبکہ وفاقی حکومت اور باقی صوبے اس بارے میں زیادہ سنجیدہ نہیں تھے لیکن ہماری کارکردگی دیکھ کر سب نے اس کی پیروی کی۔ انہوں نے میڈیا کے مالکان اور نمائندوں سے درخواست کی کہ اس ملک کے لوگوں کی جان بچانے کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔

 انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے کچھ دوست کبھی آئین کو پامال کرنے کی بات کرتے ہیں، جو آئین میں چیزیں نہیں ہیں، جو ہو نہیں سکتیں، ان کی بات کرتے ہیں اور میری اس پیاری دھرتی پاکستان کو نقصان پہنچانے کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان چاروں صوبوں پر مشتمل ہے اور آئین میں صوبوں کی حدود کے بارے میں بھی باتیں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہماری ماں ہے اور جو ہماری ماں کے ٹکڑے کرنے کی بات کرے گا ہم سب اس کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ میں اس طرح کی باتیں کرنے والوں کو سندھ کا نہیں بلکہ پاکستان کا دشمن کہوں گا۔ کچھ لوگ اپنی کم عقلی میں یہ باتیں کر جاتے ہیں۔ ان کو سمجھ نہیں آتی لیکن میں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کسی بھی حالت میں صوبہ سندھ، سندھ اسمبلی اور حکومت سندھ کی آئین میں موجود ایگزیکٹو پاورز کسی کے ساتھ شیئر نہیں ہوں گی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ کیا ہمیں پتہ نہیں ہے کہ ہندوستان کشمیر میں کیا کر رہا ہے، بین الاقوامی سطح پر آپ نے سفارتی لحاظ سے غلطیاں کی ہیں لیکن اس سے توجہ ہٹانی ہے اور توجہ ہٹانے کے لیے سندھ حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور کراچی کے علاوہ کوئی چیز نہیں ملتی۔

حالیہ باتیں اس وقت شروع ہوئیں جب کراچی میں برسات ہوئی اور حالات خراب ہوئے، ملک کے اور حصوں میں بھی برسات ہوئی اور وہاں بھی یہی حالت تھی بلکہ اس سے زیادہ خراب تھی۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے سرمایہ کاری کی ہے اور اس سے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ یہ باتیں چیف جسٹس تک گئیں اور انہوں نے کچھ ہدایات بھی دیں۔ اس کے بعد وزیر اعظم کو خیال آیا اور انہوں نے این ڈی ایم اے سے کہا کہ آپ کراچی جائیں اور سندھ حکومت کی مدد کریں۔ جبکہ این ڈی ایم اے کو بھیجنے کا مطلب یہی تھا کہ کراچی میں تباہ کن صورتحال تھی اور پچھلے برسوں کے مقابلے میں کئی گنا بارش ہوئی تھی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے چیئرمین جنرل افضل سے اسی کمرے میں بیٹھ کر بات ہوئی۔ کراچی میں کُل 38 بڑے نالے ہیں جو پہلی بار حکومت سندھ خود صاف کر رہی ہے، اس سے پہلے یہ نالے کے ایم سی صاف کرتی تھی اور انہیں سندھ حکومت ایڈیشنل گرانٹ دیتی رہی ہے اور میئر صاحب کا کہنا ہے کہ ہم ان نالوں کی صفائی کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم عالمی بینک کا بڑا پروگرام دیکھ رہے ہیں جس کے تحت ناصرف ان نالوں کی صفائی ہونی ہے بلکہ وہ انتظام کرنا ہے کہ دوبارہ ان نالوں میں گندگی نہ جائے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے ایک سسٹم بنایا، 200 کے قریب چھوٹے نالے ڈی ای سی صاف کر رہی تھی اور 38 بڑے نالوں پر حکومت سندھ نے یکم جولائی سے کام شروع کردیا، یہ کام مکمل نہیں ہوا تھا کہ بارش ہو گئی اور کچھ مسائل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تو وفاق سے کہہ رہے تھے آپ آئیں اور اس صوبے کے لیے اپنا حصہ ڈالیں، صرف اور صوبوں میں کام اور افتتاح کر کے اس صوبے کو نظرانداز نہ کریں، اس کے بعد کچھ صوبائی وزرا کے ساتھ میں نے وفاقی وزرا سے باتیں کی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کے بعد باتیں چلیں کہ تینوں جماعتیں ایک ہو گئیں لیکن سب اپنے دماغ میں ایک بات ڈال لیں کہ ایگزیکٹو رول میں سیاسی جماعتوں کا کردار نہیں ہے، ایگزیکٹو رول حکومتوں کا کام ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے درمیان کراچی کے بارے میں مل کر کام کرنے کے حوالے سے اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف مذاکرات ہوئے ہیں، کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہوا۔ ہم صرف ایک بات کہتے ہیں کہ ہم آئین اور قانون کے حساب سے کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ  کوئی کمیٹی نہیں بنی ہے، کمیٹی بننے کی بات ہوئی ہے، وہ کمیٹی بنے گی تو صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کی ہوگی کیونکہ ایگزیکٹو رول کے لیے سیاسی جماعتوں کی کمیٹی نہیں بنتی۔ سیاسی جماعتوں کی کمیٹیاں سیاسی کاموں کے لیے بنتی ہیں۔