پاک ہند مشترکہ تہذیبی جڑیں؟

پاکستان اور انڈیا اس وقت بلاشبہ دو آزاد اور شاید خودمختار ممالک ہیں جن کے سات دہائیوں پر محیط تعلقات میں نشیب و فراز ہی نہیں رہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان کے بیچ شیرینیاں بانٹنے والے کمزور اور تلخیاں ابھارنے والے ہمیشہ طاقتور رہے ہیں۔

 چھوٹی بڑی چار جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں۔ ہر دو اطراف کے طاقتور سیاسی یا غیر سیاسی ادارے باہم منافرت پھیلانے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے اور ایک دوسرے پر الزامات کی اخیر کر دیتے ہیں۔ کئی ایسے طاقتور بھی ہیں جنہیں اس وقت تک کھانا ہضم ہوتاہے نہ نیند آتی ہے جب تک وہ دوسرے کو اپنے عوام کے سامنے اپنا ازلی دشمن بتانے یا ثابت کرنے کی گردان نہیں الاپ لیتے۔ غلط فہمیاں یا مفادات کا ٹکرا سگے بھائیوں میں بھی ہو جاتا ہے، خود کو ایک قوم کہنے والوں کے بیچ مذہبی، نسلی، لسانی یا طبقاتی ٹکرا انہیں ایک دوسرے کا جانی دشمن بھی بنا سکتا ہے۔ مشرقی پاکستان کے بنگالی 1947میں ہمارے ساتھ ایک قوم تھے لیکن جب طاقتور طبقات کے دلوں میں فتور آیا، مفادات کے پجاریوں نے عدم برداشت کی راہ اپنائی تو ایک مشترکہ مذہب پر بھی دو قومی نظریے کا کلہاڑا چل گیا اور خطے میں بنگلا دیش کی صورت ایک تیسری نیشن، قوم یا مملکت تشکیل پا گئی۔

ہمارا ابدی نظریہ تو یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت آدم ؑ کی اولاد ہیں اس لئے پروردگارِ عالم کے نزدیک وہ ایک کنبے کی طرح ہیں۔ جداگانہ توڑ پھوڑ کے منافرت بھرے نعرے تو وہ لوگ لگائیں جو ڈارون کے نظریے یا کسی اور مار دھاڑ یا چیڑ پھاڑ کے نظریے پر ایمان رکھتے ہوں۔ ہمارا تو دعویٰ ہے کہ ہمارا رب، رب المسلمین نہیں بلکہ رب العالمین ہے۔ ہمارا پیغمبر رحمة اللعالمین ہے۔ ہمارے متعلق تو کہا گیا ہے کہ ہم تمام اولادِ آدم یعنی پوری انسانیت کو جوڑنے والا گروہ ہیں۔ ہماری کتابِ مقدس نے بڑی سے بڑی جنگوں میں جیت کو فتح کا نام نہیں دیا بلکہ وہ معاہدہ جو مسلمانوں اور غیرمسلموں کو باہم ایک دوسرے کے خطوں میں کھلے بندوں آنے جانے اور باہم مکس ہونے کا موقع دیتا تھا، وہ چاہے کتنا کمزور اور کس قدر دب کر کیا گیا تھا، اسے اصل اور حقیقی فتح یعنی ”فتح مبین“ قرار دیا اور اسی پر کتاب مقدس میں سورة ”الفتح“ نازل ہوئی، جسے شک ہے وہ صلح حدیبیہ کی پوری تفصیلات ملاحظہ فرما لے۔

اگر کسی غیر کے ساتھ مل کر بھائیوں کی طرح رہنے کی نیت ہو تو اس کیلئے ایک سو ایک جواز یا وجوہ مل جائیں گی اور اگر سگے بھائی کے ساتھ خلفشار کرنا ہو تو نفرت کی آگ سلگانے میں کیا کوئی دیر لگتی ہے؟ من پاپی حجتاں ڈھیر،مثال کے طور پر آج ہم اپنے ایک ملک کو اپنا دوست قرار دیتے نہیں تھکتے ہیں، جس کے ساتھ عقیدہ تو دور کی بات ، زبان ملتی ہے نہ تہذیب، نہ کلچر نہ تاریخ ۔ عوام کو کچھ معلوم نہیں کہ ان کے اندرونی حالات کیا ہیں، وہاں کس قدر جبر و دہشت ہے؟ کسی جبر پر استوار سوسائٹی میں انسانی حقوق اور آزادیوں کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ لیکن چونکہ ہمارے گاں میں بڑے چوہدری صاحب کے فائدے کی بات ہے تو وہ چاہے ہمارے ہم عقیدہ بھائیوں کو درختوں کے ساتھ الٹا لٹکا کر صبح و شام جوتے ماریں یا ان کی ٹانگیں توڑتے ہوئے انہیں اپاہج بنا دیں تو ہمیں کوئی ملال نہیں ہو گا۔ بلکہ ایسی عالمی خبروں کو ہی ہم سنسر کر دیں گے۔جبکہ دوسری طرف جن کے ساتھ ہماری صدیوں کی ایکتا تھی، چپے چپے پر ہماری مشترکہ تہذیبی نشانیاں بکھری پڑی ہیں، ہماری نسلی، لسانی، تہذیبی اور تاریخی وحدتیں قدم قدم پر ابھرتی دکھائی دیتی ہیں ان کے خلاف جھوٹے سچے پروپیگنڈے کا شاید ہی کوئی موقع ہو جو ہر دو اطراف کے چوہدری صاحبان ضائع  نہیں ہونے دیتے۔

ہر دو اطراف کے اصل وارثان یعنی غریب عوام اس حوالے سے کس طرح سوچتے ہیں؟ عوام الناس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ ”الناس علیٰ دین ملوکہم“ یعنی وہ تو اپنے بادشاہوں کے دین یا پروپیگنڈے پر چلتے ہیں۔ دیگر پکانے والے جیسا مسالا ڈالیں گے، ویسی ہی چیز تیار ہو گی۔ اس تمام تر ہیجان خیزی کے باوجود پاکستانی عوام پر آفرین ہے کہ وہ متذکرہ بالا تمام تر جکڑ بندیوں اور منافرت بھرے مسموم پروپیگنڈے کی موجودگی میں بھی ہندوستانی عوام، ان کے کلچر، ان کی زبان، ان کے رہن سہن اور ان کی تاریخ میں کتنی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ درویش پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ ہر دو اطراف کے طاقتور لوگ اگر ریاستی بندشیں ہٹا دیں اور عوام کو بغیر کسی ویزے یا روک ٹوک کے آنے جانے دیں تو تمامتر مصنوعی منافرتیں بحر ہند میں ڈوب کر رہ جائیں گی۔

تحریر ہٰذا کا شانِ نزول ایک جواں سال انڈین اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی بے وقت موت پر پاکستانی عوام کی گہری دلچسپی اور سوشل میڈیا پر پھیلے ہوئے دکھ درد کا اظہار ہے۔ شاہ رخ خان نے اس فنکار کے نام پر کہا تھا کہ یہ نام ہے یا پورا ایڈریس؟ راجپوت تو ہمارے ملک کی شاید سب سے بڑی برادری ہے اور انڈیا میں بھی یہ معزز برادری ہم سے کم نہیں۔ ہمارے لوگ اسے اپنا بچہ سمجھ کر اظہارِ افسوس کر رہے تھے یا فنکار ہونے کی وجہ سے، وجوہ جو بھی ہوں ہمیں اس سچائی کو مان لینا چاہئے کہ ہر دو خطوں کی تہذیبی اقدار باہم اس قدر ملی ہوئی ہیں جیسے ایک جان دو قالب۔ کئی زیادہ سیانوں نے یہ کہا کہ  (آر آئی پی) نہ لکھو اس میں فلاں حوالے سے گناہ آ جائے گا مگر آوازِ خلق تو نقارہ خدا ہوتی ہے۔

 مسئلہ صرف سوشانت سنگھ راجپوت یا اس کی ناگہانی موت کا نہیں، انڈیا کے جتنے بھی نامور فنکار، ادیب، مصنف، اداکار یا گلوکار ہیں ہمارے عوام ان کے ساتھ اس قدر اپنائیت اور والہانہ پن رکھتے ہیں کہ جیسے وہ ان کے فیملی ممبر ہوں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں، عام سی حرکتوں کو بھی ہمارے پاکستانی اتنی دلچسپی سے دیکھتے ہیں اور اتنی آگاہی رکھتے ہیں کہ جتنی شاید خود اپنے ملک کے فنکاروں سے بھی نہ رکھتے ہوں گے۔ جبکہ انڈیا کے بالمقابل بڑا ہمسایہ ملک چین تو رہا ایک طرف اپنے اسلامی ممالک افغانستان، ایران حتیٰ کہ سعودی عرب اور جمہوریہ مصر و شام کے حوالوں سے بھی شاذ ہی کبھی کسی کو اتنی دلچسپی ہوئی ہو۔

 آج کل ہماری حکومت ترک ڈراموں کے حوالے سے بڑی محنت کر رہی ہے لیکن یہ محض وقتی سی چیز ہے۔ زبان کی رکاوٹ ہی دیوارِ چین جتنی بڑی ہے جبکہ اردو اور ہندی زبانیں بولنے میں تو وقت کے ساتھ قطعی ایک جیسی ہو چکی ہیں۔ ہمارے پڑھے لکھے لوگ جتنا ترک اداکاروں کو جانتے ہیں اس سے کہیں زیادہ تو ہالی وڈ کے فنکاروں سے آگاہ ہیں۔ (جاری ہے)