امارات اسرائیل معاہدے پر پاکستان کا محتاط ردِ عمل، وزیرِ اعظم و وزرا کی خاموشی

  • منگل 18 / اگست / 2020
  • 4990

پاکستان نے اسرائیل امارات تعلقات کی بحالی پر محتاط ردِ عمل دیا ہے جب کہ وزیرِ اعظم سمیت کسی بھی وفاقی وزیر کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو امارات اسرائیل معاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے بڑے چیلنجز کا سامنا ہو گا۔ عرب ممالک کی خارجہ پالیسی کا محور مسئلہ فلسطین پر مذہب کی بنیاد پر تھا لیکن اب معاشی مفادات کی بنیاد پر ہو گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے دور رس اثرات ہوں گے۔ اُن کے بقول فلسطینیوں کی خودمختاری کا حق  اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام  پاکستان کی اہم ترجیح ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے انصاف پر مبنی جامع اور پائیدار امن کے لیے اقوامِ متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی قراردادوں اور عالمی قوانین کے مطابق ہمیشہ دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت کسی بھی وفاقی وزیر کی جانب سے اس معاہدے پر کوئی بیان نہیں دیا گیا۔ تاہم بعض مذہبی جماعتوں نے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے فیصلے کو مسلم دنیا یا امت کا فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔

ایران اور سعودی عرب میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی کہتے ہیں کہ اس وقت امارات اسرائیل معاہدہ صرف قومی مفاد کا معاملہ ہے، اُمّتِ مسلمہ کا کہیں کوئی معاملہ نہیں۔ اگر امہ کا کوئی معاملہ ہوتا تو اب تک بہت کچھ ہو چکا ہوتا۔ آصف دررانی کے مطابق مستقبل کے حوالے سے پاکستان کو جو بھی فیصلہ کرنا ہو گا وہ قومی مفاد کو دیکھ کر کرنا ہو گا۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار اویس توحید نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کو اس معاہدے کی وجہ سے بہت سے چیلنجز درپیش ہوں گے۔ ایک طرف اسرائیل، امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اتحاد نظر آ رہا ہے جو پاکستان کے لیے بڑا چیلنج ہو گا جب کہ دوسری طرف چین، ایران اور پاکستان کی دوستی کئی ملکوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔

بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے فلسطینی کاز کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم پاکستان کو کشمیر اور فلسطین پر اپنے اصولی مؤقف پر کھڑا رہنا چاہیے۔ عبدالباسط کہتے ہیں کہ دنیا میں 193 ملکوں میں سے 163 ممالک نے تو اسرائیل کو پہلے ہی تسلیم کیا ہوا ہے لیکن بہرحال کچھ مسلم ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق خدشات ہیں۔ اسی طرح پاکستان کو بھی خدشات ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالباسط نے بتایا کہ بحرین اور عمان پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کرتے رہے ہیں اور متحدہ عرب امارات نے معاہدہ کرنے سے قبل سعودی عرب کو اعتماد میں لیا ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کر لے گا۔ لیکن اس معاہدے سے فلسطین کو نقصان ہو گا یا فائدہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات پر سابق سفارت کار عبدالباسط کا کہنا تھا کہ یہ درست نہیں کہ عرب ممالک پاکستان کی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر پر ہمارے مؤقف کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کے بقول پاکستان کو جلد بازی سے نہیں بلکہ خطے کی بدلتی صورت حال کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔

تجریہ کار لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے کہا کہ پاکستان کو خطے میں بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ اسرائیل کو تسلیم کریں یا نہ کریں یہ متفقہ قومی فیصلہ پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی اختلاف ہوتا ہے کہ تو پھر اس پر ہمیں آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ فلسطین پر اس کا مؤقف اصولی ہے یا نہیں۔ اگر اصولی ہے تو پھر اس پر ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ پاکستان میں اسرائیل سے متعلق دو مؤقف پائے جاتے ہیں، ایک یہ کہ اسرائیل فسلطین پر بہت ظلم کر رہا ہے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کر رہا ہے اس لیے ہمیں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے اور دوسری رائے یہ ہے کہ اسرائیل سے تعلقات نہ بڑھانے پر کون سا ہم نے مسئلہ فلسطین حل کر لیا۔

امارات اسرائیل معاہدے پر اب تک پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے امارات اسرائیل معاہدے پر کہا تھا کہ یہ معاہدہ فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی کی نفی کرتا ہے۔ کمزور مسلمان ممالک کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں۔