چینی ویکسین کو پاکستانی شہریوں پر آزمایا جائے گا
- تحریر بی بی سی اردو
- منگل 18 / اگست / 2020
- 7310
پاکستان نے کووڈ 19 کی ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کی منظوری دے دی ہے اور چین کی دو کمپنیاں حکومت پاکستان کے اشتراک سے اس ویکسین کی تیاری پر کام کر رہی ہیں۔
ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی نے اس ویکسین کی انسانی آزمائش کی اجازت دی ہے اور نیشنل انسٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز، اسلام آباد اور کراچی یونیورسٹی میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولاجیکل سائنس میں ان آزمائشی مرحلوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال، شوکت خانم اور انڈس ہسپتال بھی اس آزمائشی تجربے کا حصہ ہیں۔
انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر باری نے بی بی سی کو بتایا کہ کلینیکل ٹرائل سے پہلے اس ویکیسن کا لیبارٹری میں ٹرائل کیا گیا اور دوسرے مرحلے میں جانوروں پر آزمائش کی گئی۔ ان کے مطابق اب تیسرے مرحلے میں اس کی انسانوں پر آزمائش ہوگی۔ ’آزمائش کے لیے صحت مند رضاکاروں کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کے لیے تشہیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد ان میں سے رضاکار منتخب کر کے انہیں آزمائشی ویکیسن لگائی جاتی ہے۔‘
آغا خان ہسپتال کے متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر فیصل محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے چند لوگوں پر آزمائش ہوتی ہے جس کے بعد کچھ سو اور اس کے بعد ہزاروں پر تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس ویکسین کے نتائج کیا آ رہے ہیں اور کیا اس کا کوئی سائیڈ افیکٹ تو نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی ویکیسن یا دوائی ہو، اس کی آزمائش میں شامل رضاکاروں کو عام طور پر ہسپتال میں نہیں رکھا جاتا۔ وہ ہر دوسرے روز یا ہفتے میں ہسپتال آتے ہیں جہاں ان کے خون کے نمونے اور دیگر ٹیسٹ لیے جاتے ہیں جن میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ویکسین یا دوائی کس حد تک موثر ہو رہی ہے۔
این آئی ایچ کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر میجر جنرل عامر اکرام نے بیان میں کہا ہے کہ یہ کثیر الملکی اور ملٹی سینٹر ٹرائل ہے۔ کین سینو بائولوجکس اس سے قبل چین، روس اور سعودی عرب میں ایسے تجربے کر چکی ہے۔ ایک ویکسین کی آزمائش میں تعاون کے لیے اے جے ایم فارما این آئی ایچ سے گذشتہ ماہ معاہدہ کرچکی ہے۔
اس سے پہلے آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے بنائی گئی کورونا وائرس کی ویکسین کے بھی انسانی ٹرائل کیے گئے جن کے ابتدائی نتائج کو بظاہر محفوظ اور مدافعت کے نظام کو بیماری کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے والا پایا گیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کا تجربہ 1077 افراد پر کیا گیا اور انہیں انجیکشن لگائے گئے تاکہ وہ اپنے جسم میں اینٹی باڈیز اور وائٹ بلڈ سیل بنائیں جو کورونا وائرس کا مقابلہ کر سکیں۔
اس ویکسین کو جنیاتی طور پر تبدیل کیے گئے ایسے وائرس سے بنایا جا رہا ہے جو بندروں کو نزلہ زکام میں مبتلا کرتا ہے۔ اس وائرس کو بہت زیادہ تبدیل کیا گیا ہے تا کہ یہ انسانوں کو بیمار نہ کر سکے اور یہ دیکھنے میں کورونا وائرس جیسا ہو جائے۔ سائنسدانوں نے ایسا کرنے کے لیے کورونا وائرس کے جسم میں نوکوں کی طرح نکلے ہوئے پروٹین کی جننیاتی خصوصیات کو اس ویکسین میں منتقل کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ویکسین کورونا وائرس سے ملتی جلتی ہوگی اور انسانوں کا مدافعتی نظام یہ سیکھ لے گا کہ کورونا وائرس پر کیسے حملہ کرنا ہے۔
کورونا وائرس سے بچاؤ سے متعلق گفتگو میں زیادہ توجہ اینٹی باڈیز پر مرکوز رہی ہے لیکن یہ انسانوں کے مدافعتی نظام کا صرف ایک حصہ ہیں۔ اینٹی باڈیز مدافعتی نظام میں چھوٹے پروٹین ہوتے ہیں جو وائرس کی بیرونی سطح پر چپک جاتے ہیں۔ نیوٹرلائزنگ اینٹی باڈیز کورونا وائرس کو ناکارہ بنا سکتی ہیں۔ نیوٹرلائزنگ اینٹی باڈی وہ اینٹی باڈی ہوتی ہے جو کسی بھی پیتھوجن یا نقصان دہ چیز کو بے اثر کرکے خلیوں کو محفوظ رکھتی ہے۔
ٹی سیل ایک قسم کے وائٹ بلڈ سیل ہوتے ہیں، یہ خلیے مدافعی نظام کے اہم سپاہی ہوتے ہیں۔ یہ جسم میں موجود ایسے خلیوں کو ڈھونڈ کر تباہ کر دیتے ہیں جو وائرس سے متاثر ہو چکے ہو تے ہیں۔ تقریباً تمام موثر ویکسینز کے ذریعے اینٹی باڈیز اور ٹی سیل کا ردعمل شروع ہو جاتا ہے۔