لاک ڈاؤن کے بعد زندگی کا نیا معمول
- تحریر آبیناز جان علی
- منگل 18 / اگست / 2020
- 11060
کرونا نے پوری دنیاکو ایک ہی طوفان میں الگ الگ کشتیوں میں سوار ہونے پر مجبور کردیا۔ لاک ڈاؤن میں وبا سے متاثر ہونے کاشدیدخوف سب پرحاوی تھا۔ نوکری کے کھونے کے ڈر سے راتوں کی نیند غائب ہوگئی۔ گھر کی الجھنوں سے کچھ پل کا چین پانے کے لئے بھی باہر جانا ممکن نہیں ہوپایا۔
لوگ اپنے خیالات کے غلام بن گئے۔ عالمی صورتِ حال نے ذہن کو پریشان کیا۔ آدمی کونئے ہنرسیکھنے پڑے۔ اس نے نئے شوق پیدا کئے۔اسے آرام کرنے کا زیادہ وقت بھی ملا۔ بچوں کو اپنی پڑھائی اور امتحان کی فکر ستاتی رہی۔ غرض کہ کووڈ ۹۱ نے زندگی کا رخ بدل دیا۔ دنیا کا سارا کاروباراچانک رک گیا اور لوگوں کی دنیا گھر کی چہار دیواری تک محدود ہو کے رہ گئی۔ قفل بندی اور وزارتِ صحت کی کرم فرمائی سے یہ وبا قابو میں آپائی ہے۔ اب دنیا میں واپس جانے کا وقت آگیا ہے۔ لیکن باہر جانے سے پہلے ماسک پہننا، سماجی فاصلہ برقرار رکھنا اور کسی جگہ میں داخل ہونے سے پہلے ہینڈ سنی ٹائزر کا استعمال ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ہر عمارت کی گزرگاہ کے سامنے ہاتھ میں حرارت پیما لئے منتظر آدمی ہمیں یاد دلانے کے لئے کافی ہے کہ ابھی خطرہ پوری طرح سے نہیں گیا ہے۔ اعلیٰ سطح پر کئی بحث و مباحثے کے بعد اسکولوں کے لئے نئے قوانین عائد کئے گئے ہیں۔اسکول کے شروع سے پہلے تمام اساتذہ کو کووڈ ٹیسٹ کرانے کی شرط منظور کرنی پڑی۔ اسکولوں میں بڑے گریڈ کے طلبہ و طالبات اور چھوٹی جماعت کے طلبہ و طالبات کے لئے الگ الگ نظامِ اوقات بنائے گئے تاکہ اسکول کے آنگن میں ایک ساتھ کم طلبہ جمع ہوں۔
ز ندگی میں خیالات بدلتے ہیں اور منصوبے بھی بدلتے ہیں۔ نشیب و فراز کو جتنی جلدی قبول کیا جائے آدمی کے لئے اتنا ہی بہتر ہے۔ اسی لئے بنی آدم خود کو وقت کے حساب سے برسا برس ڈھالتاآیا ہے۔ لاک ڈاؤن میں بھی آن لائن کلاسز، گھر پر روٹی بنانا اور ماسک پہننا اسی تبدل کی مثالیں ہیں۔ اس تبدیلی سے بچے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائے۔ کسی وجہ سے آن لائن کلاس میں شرکت نہ کر پانے کا انہیں افسوس ہوا۔ اپنے والدین کو تناؤ میں دیکھ کر انہیں بھی ذہنی پریشانی ہوئی۔ آج وقت کا یہ تقاضہ ہے کہ اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کو خود مختار بنایا جائے تا کہ وہ خود اپنی پڑھائی کی ذمہ داری لے سکیں۔ اساتذہ کو سبق پڑھاتے وقت، کام میں ڈھیل دینے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو مسلسل پڑھائی کے لئے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ انہیں سماجی اور جذباتی ذہانت سکھانا ضروری ہے۔
ان تمام ظاہری تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ایک فردکے اندر بھی کافی کچھ بدل گیا ہے۔ اب ملازمت کی دنیا میں واپس جانے سے پہلے خود کو جذباتی طور پر تیار کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اس وبا کے باعث اب نئے نظام کی پابندی کرنی ہے۔ آفس اور کلاس کے نظام میں تبدیلی آگئی ہے۔ بس میں لوگ ایک دوسرے کے قریب نہیں بیٹھ سکتے۔ جسمانی قربت سے جہاں پہلے احساس تحفظ پیدا ہوتا تھا اب دوسروں سے دور رہنے میں ہی بھلائی سمجھی جارہی ہے۔ اب لوگ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ کیا فلاں شخص کے پاس جانے سے میں بیمار ہوسکتا ہوں؟ کچھ لوگ گھر سے ہی نوکری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ایسی باتیں ذہن پر اثر کرتی ہیں۔
ایک طرف تو ہم کام پر جانے کی خوشی محسوس کرتے ہیں تو دوسری طرف نئے معمول کے متعلق چند خدشات قلب وذہن پر دستک بھی دے رہے ہیں۔ اس بات کی مایوسی ہے کہ اپنی دنیا کوپہلے جیسے بننے میں ذرا وقت لگے گا۔ چند ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔نئے معمول کو اپنانے کے لئے اپنے جذبات اور خوف کا کھل کر بیان کرنا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اس اثنا میں خود کو وقت دینا ضروری ہے تاکہ نئے نظام کی عادت ہوجائے۔ یہ ماننے میں ہی ذہانت ہے کہ حالات ابھی ناسازگار ہیں اور ہم ہر چیز پر قابو نہیں پاسکتے۔ ماضی کے کرب ناک تجربات کو بھول کر اور مستقبل کی فکر کئے بغیر حال پر توجہ دیں۔ مثبت چیزوں کی طرف اپنے ذہن کو راغب کریں۔ نوکری کی جگہ پر ایک مثبت ماحول کا قیام ضروی ہے۔ نیا نصب العین پیدا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ملازمین کو ان کی طاقت یاد دلانے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ مالک کوان سے مثبت رشتہ نبھانا ہے۔ سب کو اپنے جذبات کا محاسبہ کرنا ہے۔ تبادلۂ خیالات کے لئے وقت نکالناچاہئے اور دوسروں کو اپنی ناکامی سے سیکھنے کا موقع بھی دیا جائے۔
کرونا کے منفی تجربات سے باہر نکلنے کا وقت آگیا ہے تاکہ لوگ اپنے کام پر دھیان دے سکیں۔ وہ ذہنی کشمکش سے بیمار نہ ہوں اور انہیں اپنے کام سے ناغہ کرنا نہ پڑے۔ وہ تناؤ کی وجہ سے سگریٹ یا شراب اور منشیات کا سہارا لینے پر مجبور نہ ہوں اور وہ اپنے معاشرے اور اپنے خاندان سے مضبوط رشتہ استوارکر سکیں۔ اس طرح اموات کی تعداد میں کمی آئے گی اور جسمانی صحت برقرار رہے گی۔ لوگ اپنے جذبات کو قابو میں رکھ پائیں گے اور اپنی ذہانت کو کام میں لا سکیں گے۔تنقید کا سامنا کرتے ہوئے اور دوسروں کی رائے لیتے ہوئے آگے بڑھتے جائیں۔ وہ کام کریں جو آپ کے لئے ممکن ہے۔ اگر آپ گھر سے کام کر رہے ہیں تو اپنے لئے بھی وقت نکالیں۔ اس بات کو قبول کریں کہ اآپ کے منصوبے میں تبدیلی آسکتی ہے۔ نتیجہ معلوم نہ ہو تب بھی مثبت رائے رکھیں۔ ہر وقت شکر ادا کرتے جائیں۔ اپنی طاقت اور کمزوریوں کا خیال رکھیں۔ اپنے اور دوسروں کے ساتھ صبر سے کام لیں۔
اپنے نصب العین پر توجہ دیتے ہوئے طے کریں کہ آپ کیا چاہتے ہیں اور یاد رکھیں کہ چیزیں بدل بھی سکتی ہیں۔ ہم جس صفائی سے کام کیا کرتے تھے ممکن ہے اب اس میں زیادہ وقت لگے جیسے بنک کے کام یا دواخانے کے کام میں اب نئے آئین و آداب کا احترام کرنا ہے۔ یہ یاد رہے کہ علم میں طاقت ہے اور لاعلمی ایک جنت ہے۔ اپنے حافظہ کواپنا دشمن سمجھیں۔ لوگ پہلے لفٹ سے جاتے تھے لیکن اب سیڑھیاں استعمال کی جارہی ہیں۔ معلومات میں تصورات کی مدد سے توازن پیدا کریں۔ اپنے عقیدے پر مثبت خیال رکھیں۔ حقیقت اب وہی ہے جو آنکھوں سے دیکھی جاتی ہے۔ نئی چیزیں سیکھنے کا وقت آگیا ہے۔ تبدیلی کی مناسبت سے اپنے رویے کو بدلیں۔ تغیر سے اکثر ڈر لگتا ہے اور اس کو قبول کرنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ بدلتی دنیا میں چند ایسے اوزار ہیں جو ہمیں حالات کا سامنا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ جیسے کہ حالات پر غور وتدبر کرنا، تنقیدی رویہ اختیار کرنا، مسائل کو حل کرنا، دوسروں سے میل جول بڑھانا، قیادت، پیسوں کا حساب کرنا، تخلیقی کام کرنا، پڑھنے کی ضرورت اور معاون چیزوں کو پڑھنا، صاف ستھرا رہنا، اپنا خیال رکھنا اور خود کو بہتر بنانا ایسی قابلِ قدر چیزیں ہیں۔
اپنے جذبات کا ہر وقت حساب رکھیں۔ بنیادی سوال کریں۔ جن چیزوں کو ہم صحیح مان کر چل رہے تھے، ان پر سوالیہ نشان لگائیں اورموجودہ ثبوت کی جانچ کریں۔ لاک ڈاؤن میں کئی طرح کی خبریں بھی عام ہوئی ہیں۔ جن میں سے کچھ بے بنیاد بھی ثابت ہوئی ہیں۔ دوسروں کی رائے اور حقیقت کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔اس طرح تنقیدی رائے کو جلا ملے گی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے عام کی ہوئی باتوں کو سائنس دانوں کی تحقیق کی روشنی میں دیکھناضروری ہے۔
علم کی تحصیل صرف جماعت کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ عمر بھر جاری و ساری رہتی ہے۔ قفل بندی میں بحسن و خوبی اس بات کی نشان دہی ہوئی ہے۔ لوگوں کونئے سافٹ ویئر سے واقفیت حاصل کرنی پڑی۔ غرض کہ ذاتی اور پیشہ ورانہ کامیابی پانے کے لئے مسلسل علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ اپنے رفیقِ کار کے تعاون سے نیا علم حاصل کریں۔ نئے مقاصد کے حصول میں خود کو مصروف رکھیں۔
سماجی اور جذباتی پختگی وہ ہنر ہے جس کے ذریعہ دوسروں کو سمجھنے کی نصیرت ملتی ہے اور اپنے رشتے برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح روزمرہ کی مشکلات دورہوتی ہیں اور ذاتی نشونما کے مطالبات پورے ہوتے ہیں۔ لوگ سمجھ پاتے ہیں کہ تما م مسائل کیسے پیدا ہوتے ہیں اورکس طرح مضبوط رشتوں کی مدد سے وہ اپنے کام کو با معنی بنا سکتے ہیں اوراسے ایک چیلینج کے طور پر لے سکتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے حسن سلوک کر پائیں گے اور آفس کا ماحول زیادہ سازگاربھی بنے گا۔ تناؤ اور مایوسی کم ہوگی۔
سماجی اور جذباتی پختگی سے پریشانیاں حل ہوں گی۔ لوگ مشکلات سے ابھرپائیں گے۔ انہیں اندرونی حوصلہ ملے گا۔ وہ کام کی ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے نبھائیں گے اورمسائل کا حل تلاش کر پائیں گے۔ وہ اتحاد و اتفاق سے کام کرپائیں گے۔ وہ مختلف حالات میں کامیابی سے اپنے جذبات، افکار اور عادات کو ترتیب دے پائیں گے۔ اپنے جذبات اور افکار کو صحیح وقت پرپہچاننے سے دوسروں پراس کے غلط اثر نہیں پڑیں گے۔ مختلف تہذیب اور رنگ و نسل کے لوگوں کے نظریات کو سمجھنا اور خود کو ان کی جگہ پر رکھ کر ان کو سمجھنا ضروری ہے۔ دوسروں کے ساتھ صحت مند رشتے برقرار رکھنا موجودہ سماج کے لئے نہایت ضروری ہے۔ آج کے دور میں سماجی آئین و آداب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حفاظتی ضروریات اوراخلاقی اقدار کے ترازو میں ذاتی رویہ اورسماجی میل جول کے مطابق صحیح فیصلہ لینا ہے۔
ا اساتذہ کو پہلے سے زیادہ سماجی بیداری کی ضرورت پڑے گی تاکہ وہ اپنے طلبہ و طالبات کے رویہ کو سمجھ سکیں۔ بچوں میں مایوسی کے امکانات بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔ جن بچوں کو پہلے سے پریشانیاں تھیں لاک ڈاؤن کے بعد انہیں مزید پریشانیاں ہوسکتی ہیں۔ بچوں کو ایک محفوظ ماحول کی ضرورت ہے جہاں محبت سے ان کا خیال رکھا جاسکے۔ وبا کے دنوں میں بچوں اور ان کے خاندان کو ایک جان لیوا بیماری کا ڈر تھا۔ کئی لوگ وفات بھی پاگئے۔ آس پاس لوگ مشکل سے اپنے غصّے کو قابو میں رکھ پائے اور بات بات پر آپے سے باہربھی ہوئے۔ قفل بندی کے بعددوسروں سے ملنے جلنے اور خاندانی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لئے کم توانائی باقی رہ گئی ہے۔
لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کی خبر سے ایک طرف حددرجہ خوشی ہے کہ آخرکار قید خانے سے رہائی مل رہی ہے۔ تودوسری طرف گذشتہ ایام کے بارے میں سوچتے ہوئے اداسی چھانے لگتی ہے۔ دھیرے دھیرے اپنے لئے، گھر والوں کے لئے اور اپنے اغزاء و اقربا کے کھونے کا ماتم منانے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔اس اثنا میں زندگی کو معمول تک لانے کے لئے چھوٹوں اور بڑوں کے درمیان بات چیت ضروری ہے۔ ان کو نئے فیصلے اور آئین و آداب سمجھانے میں وقت درکار ہے۔ صفائی کاخاص خیال رکھتے ہوئے، سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے اور ماسک پہننے کے باوجود زندگی کے کارواں کو آگے بڑھانا ہے۔ معمول تک آنے میں یقینا وقت لگے گا۔
قفل بندی کے بعد ایک نیا باب شروع ہواہے۔ دوسروں سے ہمدردی سے ملنا ہے۔ آپ کی مسکراہٹ ان تاریک دنوں کی کڑوی یادوں کو مٹا سکتی ہے۔ دوسروں کی باتوں پر غورو خوض کریں۔ اسکول میں بچوں کو سوال کرنے پر اور اپنی بات کہنے کے لئے مدد کریں۔ کووڈ ۹۱ کے بعد لوگ زیادہ حساس بھی ہوگئے ہیں۔ کچھ لوگوں کی عادتیں اب ناقابلِ برداشت معلوم ہوسکتی ہیں۔اس لئے کام ختم کرنے کی جلدی نہ کی جائے۔ انسانی اور سماجی پہلوؤں کی طرف زیادہ دھیان دیا جائے۔ بات چیت کے ذریعہ معاملات کا حل تلاش کریں۔ ایسے حالات میں اپنے جذبات اور سماجی ساخت کو ترجیح دینا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔