کراچی کے بحران کا المیہ
- تحریر سلمان عابد
- منگل 18 / اگست / 2020
- 5000
کراچی کا بحران بہت پیچیدہ اور مشکل بھی ہے۔ کراچی میں موجود سیاسی فریقین خود بھی اس بحران کے حقیقی ذمہ دار ہیں اور بحران کے حل میں کوئی کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایم کیوایم، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی وہاں کے حقیقی فریق سمجھے جاتے ہیں۔
ان تمام فریقین کے درمیان جاری سیاسی محاذ آرائی اور بداعتمادی کے علاوہ کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار،تشدد و لاقانونیت نے کراچی کی شہری سیاست کا منظر نامہ ہی تبدیل کردیا ہے۔اس وقت کراچی کا سیاسی مینڈیٹ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے پاس ہے۔تحریک انصاف وفاق میں حکومت اور ایم کیو ایم وفاقی حکومت میں اس کی اہم اتحادی جماعت ہے۔لیکن اس کے باوجود کراچی کا بحران کم نہیں بلکہ شدت کے ساتھ خرابیاں پیدا کررہا ہے۔ ایک وجہ وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تناؤ یا بداعتمادی کی فضا ہے تو دوسری طرف سندھ میں پیپلز پارٹی اور کراچی کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم کے درمیان بھی ایک دوسرے کی قبولیت سے جڑے مسائل ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کو سب سے گلہ یہ ہی ہے کہ سندھ کی حکومت نے کراچی کی شہری یعنی مقامی حکومت کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ ان کے بقول تمام تر اختیارات کا مرکز وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ ہیں،جبکہ شہری حکومت عدم اختیارات کا شکار ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی 18ویں ترمیم کی نہ صرف حمایتی ہے بلکہ اس کے بقول اس ترمیم نے وفاق کے مقابلے میں صوبوں کو زیادہ بااختیار او رخود مختار بنادیا ہے۔لیکن پیپلز پارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سندھ میں موجود مقامی حکومتوں کے نظام کو کسی بھی سطح پر 1973کے دستور کی شق 140 اے کے تحت سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں، جو عملًا 18ویں ترمیم وجمہوری روح کے منافی ہے۔
دنیا بھر میں بڑے میگا شہروں کا نظام عمومی شہری انتظام سے بہت زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ کیونکہ بڑے شہروں کے مسائل دیگر شہروں کے برعکس مختلف ہوتے ہیں او ریہاں روائتی نظام سے نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بڑے شہروں کے مسائل کو غیر معمولی طریقے سے چلایا جاتا ہے۔ جبکہ ہم چھوٹے اور بڑے شہروں کے نظام کو یکساں بنیادوں پر چلا کر مسائل کو حل کرنے کی بجائے اس میں اور زیادہ مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے 18ویں ترمیم تو کرلی لیکن نظام کو چلانے کی جو سیاسی روش ماضی میں مرکزیت کے نظام کی بنیاد پر قائم تھی وہی آج بھی قائم ہے۔ اسلام آباد وہاں سے بیٹھ کر پورے ملک کا نظام اور صوبے اپنے دارالحکومت سے پورے صوبے کا نظام چلانا چاہتے ہیں۔ایسے نظام کو مرکزیت کا نظام کہتے ہیں جہاں سیاسی، انتظامی او رمالی طور پر وسائل کی تقسیم کے عمل کو ایک خاص دائرہ تک محدود کرکے حکمرانی کے نظام کو مفلوج رکھا جاتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی سندھ میں یہ تیسری حکومت ہے۔ یعنی پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت پچھلے تیرہ برسوں سے قائم ہے لیکن اس نے 2010میں 18ویں ترمیم کی منظوری کے باوجود سندھ کی سیاست میں اختیارات کو تقسیم کرنے کی بجائے وہی غلطیاں دہرائی ہیں جو ماضی کی سیاست کا حصہ تھا۔اگرچہ مقامی حکومتوں کا نظام صوبائی معاملہ ہے اور صوبوں کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی اور ضرورت کو بنیاد بنا کر مقامی نظام کی تشکیل اور مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔لیکن سندھ ہی نہیں بلکہ چاروں صوبوں کی صوبائی حکومتیں مقامی نظام کو مضبوط بنانے کی بجائے اس کی تشکیل یا اسے خودمختاری دینے کے خلاف ہے۔ اس لیے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ محض صوبائی سطح پر موجود حکومتیں مقامی نظام کو تن تنہا مضبوط بناسکیں گی، وہ غلطی پر ہیں۔ وفاق کا کردار تین صورتوں میں موجود ہونا چاہیے۔ اول مقامی حکومتوں کے انتخابات کا تسلسل او ر بروقت انتخابات، دوئم آئین کی شق 140 اے کے تحت صوبے ان اداروں کو سیاسی، انتظامی او رمالی اختیارات کو یقینی بنائیں او راگر آئین کی اس شق سے انحراف کیا جائے تو صوبوں کی جوابدہی کو ممکن بنایا جائے۔ سوئم وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شہریوں یا خاص طور پر محروم طبقات کی اس مقامی نظام میں آئین کی شق32کے تحت بھرپور شمولیت۔یعنی وفاق کو ایک بڑا فریم ورک صوبوں کو مقامی نظام کی صورت میں دینا ہوگا کہ وہ اس دائر ہ کار میں نظام کی تشکیل نو کریں۔
کراچی میں مسئلہ محض گندے نالوں کی صفائی کا ہی نہیں ہے بلکہ شہری نظام سے جڑے تمام مسائل جن میں ناجائز تجاوازت، صفائی کا نظام، صاف پانی کی فراہمی، سیوریج کا نظام، بے ہنگم ٹریفک، سٹریٹ کرائم، امن و امان، پارکوں کی تعمیر، پارکنگ کے مسائل، تعلیم او رصحت کی بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی، روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا، ملاوٹ، زخیرہ اندوذی، پولیس وعدم سیکورٹی نظام، منشیات کی خریدو فروخت سمیت بنیادی سوک ایجوکیشن کی بنیاد پر شہری حکومتی نظام بڑے مسائل ہیں۔یہ تمام مسائل یقینی طو رپر ایک مضبوط او رمربوط مقامی حکومتی نظام سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔تحریک انصاف جو خود مقامی نظام کی بڑی حمایتی سمجھی جاتی ہے لیکن اس کا بھی مجموعی کردار عملاً مقامی نظام کے خلاف نظر آتا ہے۔
وفاقی سطح سے کراچی کے مسائل کے حوالے سے ہمیں مختلف خبریں سننے کو ملتی ہیں جن میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کراچی کے نظام کو وفاق اپنے کنٹرول میں لے سکتی ہے، جو بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔اصل مسئلہ مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ سندھ کا مقامی حکومتوں کا نظام فرسود ہے۔ موجودہ مقامی نظام کے تحت حکمرانی کو موثر اور شفاف بنانایا عام لوگوں کے مسائل کو حل کرنا ممکن نہیں۔ اسی طرح جب صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں ہی مقامی نظام کی مضبوطی نہیں تو پھر اس نظام کی کامیابی کے امکانات اور زیادہ محدود ہوجاتے ہیں۔ بڑی رکاوٹ ہمارے ارکان اسمبلی ہیں جو ترقیاتی فنڈ کی سیاست میں الجھ کر رہ گئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ترقیاتی فنڈز کا حصول ان کا استحقاق ہے۔ اسی طرح بیوروکریسی مقامی نظام حکومت میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ مقامی نظام کی موجودگی سے ان کے اختیارات محدود ہوتے ہیں اور وہ بھی نظام کو کمزور رکھنا چاہتی ہے۔
کراچی کی سیاست کو تباہ کرنے میں سیاسی اور فوجی دونوں حکومتوں کا کردار ہے۔ خاص طور پر جنرل مشرف او راس کے بعد ایم کیو ایم سمیت پیپلزپارٹی خرابیوں کی ذمہ دار ہیں۔اب تحریک انصاف بھی ان خرابیوں کو برقرار رکھنے میں ایک فریق بن گئی ہے۔این ڈی ایم اے کو جب کراچی کے نالوں کی صفائی کے لیے بلایا گیا تو ان کا پہلا قدم ہی کافی حد تک درست تھا۔ان کے بقول ہماری آمد عارضی ہے، اصل مسئلہ وفاق، سندھ اور کراچی کی شہری حکومت کا بیٹھنا اور شہر کے ماسٹر پلان کو ترتیب دینا او رعملدرآمد کرنا ہے۔اب کہا جارہا ہے کہ اسٹبلیشمنٹ کی مداخلت پر وفاق اور سندھ حکومت ایک میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ ایک چھ رکنی نگران کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں وفاق کی جانب سے تحریک انصاف کے وفاقی وزیر اسد عمر، علی زیدی او رایم کیو ایم کے امین الحق شامل ہیں۔ جبکہ سندھ حکومت کی نمائندگی پیپلز پارٹی کے دو صوبائی وزرا ناصر شاہ اور سعید غنی کریں گے۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اس مشاورتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔اچھی بات ہوگی کہ اگر تینوں جماعتوں پر مشتمل یہ کمیٹی حقیقی معنوں میں کراچی کے مسائل کے حل میں کوئی کلیدی اور شفاف کردار ادا کرسکے۔لیکن یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ کمیٹی خود وفاق اور سندھ نے نہیں بنائی بلکہ ان پر اوپر سے دباؤ ڈالا گیا ہے کہ مزید تنازعات پیدا کرنے کی بجائے مل بیٹھ کر کراچی کے بحران کا حل تلاش کریں، کاش یہ ممکن ہوسکے۔
اصل مسئلہ کراچی کے بحران کے تناظر میں کمیٹی کی تشکیل نہیں بلکہ وفاق کو سندھ سمیت تمام صوبوں کو اس نکتہ پر لانا ہوگا کہ وہ مقامی حکومتوں کے نظام کی نئے سرے سے تشکیل نو کریں او رنظام میں روائتی انداز فکر اختیار کرنے کی بجائے اس میں جدت بھی پیدا کریں اور دنیا سے سیکھیں کہ انہوں نے بڑے شہروں کی حکمرانی کے نظام کو کیسے موثر اور شفاف بنایا ہے۔ موجودہ سیاسی تقسیم میں ان تمام سیاسی جماعتوں کا مل بیٹھ کر کراچی کے بحران کو حل کرنا مشکل او رناممکن نظر آتا ہے۔