مجھے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں: شیریں مزاری
- بدھ 19 / اگست / 2020
- 6950
پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ اقلیتی حقوق کمیشن کی تشکیل کی حمایت کرنے پر انہیں قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے بتایا کہ اقلیتوں کی حمایت کرنے اور اقلیتی کمیشن تشکیل دینے پر انہیں گزشتہ کئی ہفتوں سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں ہوا۔ یہ اجلاس سوشل میڈیا پر خواتین صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے معاملے پر طلب کیا گیا تھا۔
حکومت نے حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقلیتی حقوق کمیشن تشکیل دیا ہے جس میں ہندو، سکھ اور مسیحی برادری سمیت پاکستان میں بسنے والی دیگر اقلیتیوں کی نمائندگی موجود ہے۔
خواتین صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے معاملے پر بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ ان کی جماعت تحریک انصاف کا میڈیا سیل خواتین صحافیوں پر حملوں میں ملوث نہیں ہے۔ ان کے بقول سیاسی قیادت کو اپنے کارکنان کو سخت پیغام دینا ہو گا کہ وہ گالم گلوچ بند کریں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کی بیٹی کو اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر ہراساں کیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی نے خواتین صحافیوں کے مشترکہ بیان کا نوٹس لیا تھا۔ اس بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ایسے افراد جو سوشل میڈیا پر حکمران جماعت تحریک انصاف کی حمایت کرتے ہیں وہی حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے خواتین صحافیوں کے خلاف مہم چلاتے ہیں۔
انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کا ملبہ کسی ایک جماعت پر نہیں ڈالا جا سکتا بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست نے خواتین سے نفرت کو ہوا دے کر اسے سنسر شپ کے آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔
دریں اثنا شیریں مزاری نے اسلام آباد مین ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جمہوریت کے لیے جبری گمشدگی کا مسئلہ حل کرنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ کسی جمہوریت میں آپ جبری گمشدگیاں نہیں کر سکتے۔