ڈیموکریٹک کے کنونشن میں صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کا سلسلہ جاری

  • جمعرات 20 / اگست / 2020
  • 4410

امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی نے ریاست کیلی فورنیا سے منتخب سینیٹر کاملا ہیرس کو آئندہ صدارتی انتخاب میں باضابطہ طور پر نائب صدر کا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔

کاملا ہیرس تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کے امیدوار جو بائیڈن کے ہمراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے نائب صدر مائیک پینس کا مقابلہ کریں گی۔ سینیٹر کاملا ہیرس نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف اپنی نامزدگی قبول کرنے کا باضابطہ اعلان بدھ کو پارٹی کے قومی کنونشن میں کیا۔

55 سالہ کاملا ہیرس امریکہ کی قومی سطح کی کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر صدارتی انتخاب لڑنے والی امریکی تاریخ کی چوتھی، لیکن پہلی سیاہ فام خاتون ہیں۔ کاملا ہیرس سرکاری وکیل رہ چکی ہیں۔ ان کی والدہ ایک میڈیکل ریسرچر تھیں جنہوں نے بھارت سے امریکہ  ہجرت کی تھی۔ کاملا کے والد ایک ماہرِ معاشیات تھے جو جمیکا سے ہجرت کر کے امریکہ آئے تھے۔

بدھ کو اپنی نامزدگی کے باضابطہ اعلان کے بعد ڈیموکریٹک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کاملا ہیرس نے کرونا کی وبا پر قابو پانے اور معیشت سے متعلق صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے حالات بدلنے کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کا راستہ مشکل اور دشواریوں سے بھرا ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ وہ اور جو بائیڈن پوری دیانت اور جرأت کے ساتھ مسائل کا سامنا کریں گے۔ کاملا ہیرس کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کو ایک ایسے صدر کی ضرورت ہے جو ملک میں بسنے والی تمام قوموں کو یکجا کرے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کا چار روزہ کنونشن کورونا کی جاری وبا کی وجہ سے آن لائن ہو رہا ہے۔ بدھ کو کنونشن کے تیسرے روز خطاب کرنے والوں میں سابق صدر باراک اوباما اور  سابق خاتونِ اول ہلری کلنٹن بھی شامل تھیں۔ ہلری کلنٹن نے اپنے خطاب میں امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ اس انتخاب کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔

کنونشن سے باراک اوباما کا خطاب امریکہ کے تاریخی شہر فلاڈیلفیا سے آن لائن نشر کیا گیا، جس میں انہوں نے صدر ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سابق صدر نے الزام لگایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی صدارت کو "ایک ریئلیٹی شو" کی طرح چلا رہے ہیں اور اپنی طرزِ سیاست اور اطوار کی وجہ سے جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

باراک اوباما کی یہ تقریر خاصی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے، کیوںکہ امریکہ میں سابق صدور کم ہی  عہدے فائز صدر کو یوں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ صدر اوباما کی تقریر کا مسودہ صحافیوں کو جاری کیے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردِ عمل میں باراک اوباما کو ایک غیر مؤثر صدر قرار دیا اور ان پر امریکہ کی جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔

چار روزہ ڈیموکریٹک کنونشن کے دوران صدر ٹرمپ بھی مختلف انتخابی سرگرمیوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ پیر کو صدر نے ریاست منی سوٹا اور وسکانسن اور منگل کو آئیووا اور ایریزونا کے دورے کیے تھے اور انتخابی جلسوں میں شرکت کی تھی۔