سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر لے گا: صدر ٹرمپ
- جمعرات 20 / اگست / 2020
- 5960
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لے گا۔ جب کہ سعودی عرب نے کہا ہے کہ فلسطین میں قیامِ امن تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں ہو سکتے۔
صدر ٹرمپ سے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا وہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حال ہی میں ہونے والے معاہدے میں سعودی عرب کی شمولیت کی توقع رکھتے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک اس معاہدے کا حصہ بننے والے ہیں اور جب کئی ممالک معاہدے میں شامل ہو جائیں گے تو ایران کو بھی بالآخر معاہدے کا حصہ بننا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ کے بقول اسرائیل سے معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا باعث بنے گا جو کہ خوش آئند ہے۔ 13 اگست کو ہونے والے اس معاہدے میں امریکہ نے بطور ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔ معاہدے کے تحت اسرائیل نے مغربی کنارے کے الحاق کے منصوبے کو منسوخ کرنے پر اتفاق کیا ہے جب کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنا بھی معاہدے کا حصہ ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے کئی روز کی خاموشی کے بعد بدھ کو امارات اسرائیل معاہدے پر ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے فلسطین کے تنازع کے حل تک اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کے قیام کو مسترد کر دیا ہے۔ جرمنی کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام سے قبل عالمی معاہدوں کے تحت فلسطین میں امن قائم ہونا چاہیے۔ اگر یہ کر لیا گیا تو کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں تعمیرات اور اس کے الحاق سے متعلق یک طرفہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسرائیل کے اس عمل کو غیر قانونی اور دو ریاستی حل کے فارمولے کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
یاد رہے کہ 2002 میں سعودی عرب نے عرب لیگ کی منظوری کے بعد اسرائیل، فلسطین تنازع کا حل پیش کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔
اس سے قبل امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی الگ فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا تھا۔ وہ ایسا اعلان کرنے والے امریکہ کے پہلے صدر تھے۔ انہوں نے اپنی تجویز میں کہا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین دو الگ الگ ریاستیں ہوں گی تاکہ خطے میں امن کا قیام یقینی بنایا جا سکے۔