توہین مذہب کے ملزم کو قتل کرنے والے نوجوان کو پستول دینے والا وکیل گرفتار

  • جمعرات 20 / اگست / 2020
  • 6020

پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس میں توہین مذہب کے ملزم امریکی شہری کے قاتل کو پستول دینے والے وکیل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق تفتیشی افسر لال زادہ خان نے بتایا کہ جونیئر وکیل کو طاہر نسیم کو قتل کرنے کے لیے نوجوان کو مبینہ طور پر پستول دینے کے الزام میں منگل کو گرفتار کیا گیا۔ وکیل کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کے روبرو پیش کیا گیا جنہوں نے وکیل کا 3 روزہ ریمانڈ دے دیا۔

انتظامیہ کا کہنا تھا کہ نوجوان نے دوران تفتیش قتل کا اعتراف کیا اور دعویٰ کیا کہ وکیل نے اسے پستول فراہم کیا تھا۔  اس سے قبل کمرہ عدالت میں قتل کے الزام کا سامنا کرنے والے نوجوان نے پیر کو انسداد دہشت گردی عدالت سے ضمانت کی درخواست واپس لے لی تھی۔

ملزم کے وکلا کا ایک پینل عدالت میں پیش ہوا اور آگاہ کیا تھا کہ ان کے موکل ضمانت کی درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے اور وہ صرف کیس کا ٹرائل جلد مکمل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ عدالتوں میں جانے سے قبل وکلا کی عام طور پر تلاشی نہیں لی جاتی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار وکیل نے خفیہ طور پر قاتل نوجوان کو پستول دی تھی۔

واضح رہے کہ 29 جولائی کو 57 سالہ طاہر احمد نسیم کو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں سماعت کے دوران قریب سے متعدد گولیاں ماری گئی تھیں۔ حکام و عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ جب جج کے سامنے طاہر نسیم کے خلاف چارجز پڑھ کر سنائے جارہے تھے اس وقت وہاں موجود ایک نوجوان نے پستول نکالی اور طاہر کے سر پر گولی ماری۔

امریکا نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ امریکی شہری کے قتل کے معاملے پر کارروائی کرے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ 'ہم امریکی شہری طاہر نسیم کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں، جنہیں پاکستان کی کمرہ عدالت میں قتل کردیا گیا۔ ہم پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوری کارروائی کرے اور دوبارہ ایسے شرمناک سانحات کی روک تھام کے لیے اصلاحات کرے۔'