پارلیمان کا مشترکہ اجلاس: صدر نے دہشت گردی سے نمٹنے کو اہم ترین کایابی قرار دیا

  • جمعرات 20 / اگست / 2020
  • 4480

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان تاریخ کے اہم ترین موڑ پر موجود ہے۔ موجودہ حکومت نے دو سال میں قابل قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

مشترکہ اجلاس کے آغاز پر حمد و ثنا کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ تاہم صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنا خطاب جاری رکھا اور اس دوران تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے۔

عارف علوی نے کہا کہ یہ موقع اچھا ہے کہ ماضی قریب کے واقعات سے ان پر ایک نظر ڈالیں اور گزشتہ دو برس کے اندر جو کچھ ہوا اس پر نظر ڈالیں، کیا کیا، کیا کرنا چاہیے تھا، اور مستقبل میں کیا کرنا چاہیے۔  تین چیزیں ایسی ہیں جو اس قوم نے ماضی سے سیکھی ہیں۔ پہلا یہ کہ آپ لوگوں نے مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا، پاکستان وہ واحد قوم ہے جس نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا، میں فوجیوں، سیاستدانوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی دوسری جیت افغان مہاجرین کو پناہ دینا ہے۔ 35 لاکھ افغان مہاجرین کو دل سے پناہ دی، کسی حکومت یا اپوزیشن نے اس کے خلاف بات نہیں کی۔  مغربی طاقتیں جو انسانی حقوق پر تبصرہ کرتے ہیں وہ 100 مہاجرین کو اپنے ملک میں آنے نہیں دیتے لیکن پاکستان 35 لاکھ مہاجرین کو دل سے لگائے بیٹھا ہے۔  ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ تیسری بڑی جیت انتہا پسندی کے خلاف ہے، جب ہم اپنے پڑوسی ملک میں دیکھتے ہیں جہاں انتہاپسندی قوت پکڑ رہی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو قرضوں کا بوجھ تھا اور کرپشن کا بازار گرم تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ معیشت تیزی سے زوال پذیر تھی۔  پاکستان میں اچھی خبروں کا پرچار نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر سے ساڑے 8 ارب ڈالر پر آگیا۔  اگر کورونا وائرس کی وبا نہ ہوتی کہ پالیسی کے نتیجے میں معیشت کو چار چاند لگ چکے ہوتے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 7 ارب سے بڑھ کر 12 ارب تک ہوگئے اور محصولات ساڑھے 3 فیصد تک بڑھائے۔  ڈاکٹر عارف علوی نے وزرا پر زور دیا کہ وہ اسمگلنگ کی روک تھام، گردشی قرضے اور پاور سیکٹر پر توجہ دیں۔

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، وزیر صنعت حماد اظہر، وزیراطلاعات شبلی فراز، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر برائے ادارہ جاتی ڈاکٹر عشرت حسین سمیت دیگر وفاقی وزرا نے شرکت کی۔