سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات اچھے رہیں گے: وزیر خارجہ
- جمعہ 21 / اگست / 2020
- 6160
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے اچھے رہے ہیں اور انشااللہ اچھے ہی رہیں گے۔ سعودی عرب نے اسرائیل کے معاملے پر دوٹوک اور تاریخی مؤقف اپنایا ہے۔
دو روز قبل سعودی عرب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اس وقت تک متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرسکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کرلے۔ یہ بیان اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے معاہدے کے اعلان کے بعد سامنے آیا تھا۔
وزیر خارجہ نے اپنے دورہ چین کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں پاک چین اسٹریٹیجک مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کروں گا اور اس دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ ملاقات بھی ہوگی۔ پاکستان اور چین دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال پرتبادلہ خیال کے خواہشمند ہیں اور ملاقات میں اقتصادی راہداری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پربات ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی صورتحال دونوں ممالک کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔ گزشتہ ایک سال میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ سب کے علم میں ہے۔ چین کے تعاون سے ہم 55 سال بعد تین دفعہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں زیر بحث لانے میں کامیاب رہے۔
افغانستان اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تبدیلی آرہی ہے، چین اور پاکستان جانتے ہیں کہ خطے میں اہم تبدیلیاں ہوئی ہیں۔
نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات گہرے تھے اور گہرے رہیں گے۔ حال ہی میں سعودی عرب نے فلسطین کے معاملے پر جو موقف اپنایا ہے وہ واضح ہے اور پاکستان کے موقف سے مماثلت رکھتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور مستقبل قریب میں ہماری اور ملاقاتیں ہوں گی۔
وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی تنقید کے حوالے سے سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’میں ہر رائے کو احترام سے دیکھتا ہوں، اگر ہم پر کوئی مثبت تنقید کرتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں جیسے بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف نے تقریر کی تھیں۔ میں نے تجاویز کے لیے ان کو خط لکھا ہے کہ اگر آپ کے پاس کشمیر کے معاملے پر کوئی تجاویز ہیں تو ہمیں بتائیں مگر کوئی جواب نہیں ملا‘۔
خیال رہے کہ شیریں مزاری نے کہا تھا کہ کشمیر کا بیانیہ دفتر خارجہ موثر انداز میں دنیا کے آگے پیش نہیں کرسکا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات کو ایک سال مکمل ہونے پر شاہ محمود قریشی نے غیر معمولی طور پر تنبیہہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کشمیر سے متعلق وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس بلانے میں ٹال مٹول کرنا بند کرے۔
نجی چینل اے آر وائی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امید تھی کہ تنظیم، کشمیر کے حوالے سے اجلاس بلائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کشمیر پر او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس نہ بلایا گیا تو پاکستان، مسئلہ کشمیر اور مظلوم کشمیریوں کی مدد پر آمادہ اسلامی ممالک کا اجلاس بلانے پر مجبور ہوجائے گا۔