قومی اسمبلی و سینیٹ میں حاصل بزنجو کو خراج عقیدت، تعزیتی قرارداد منظور کی گئی

  • جمعہ 21 / اگست / 2020
  • 5370

سینئر سیاستدان میر حاصل بزنجو کے انتقال پر سینیٹ میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس میں اراکین سینیٹ نے جمہوریت کے عملبردار سیاستدان کو شاندار انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔

سینئر سیاستدان حاصل بزنجو پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھے اور گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے تھے۔Skip جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت شروع ہوا تومیرحاصل بزنجو کے انتقال کے باعث اجلاس کا تمام ایجنڈا مؤخر کردیا گیا اور انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حاصل بزنجو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان عظیم لیڈر سے محروم ہوگیا اور آج کا اجلاس تعزیتی اجلاس ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید نے کہا کہ یقیناً آج ہم اپنے ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گئے کیونکہ حاصل بزنجو کی سیاست کی ابتدا اس وقت سے ہوئی  تھی جب لوگوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہر فرد کو ووٹ کا حق دلانے کی کوشش میں حاصل بزنجو شامل رہے اور وہ آزادی کی تحریکوں اور امن کے داعی تھے۔ پرویز رشید نے کہا کہ جن اصولوں کے لیے میر حاصل بزنجو نے جدوجہد کی انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ چیئرمین سینٹ کے انتخابات میں میری صفوں میں سے 14 لوگوں نے ان کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ اس پر میں اپنے مرحوم دوست سے معافی چاہتا ہوں۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میر حاصل بزنجو کی موت سے ملک کا بڑا نقصان ہوا ہے اور ان کو ہم جتنا خراج عقیدت پیش کریں وہ کم ہو گا۔ میر حاصل بزنجو جو فیصلہ کرتے تھے وہ اس پر چلتے تھے اور جمہوریت کا جو سفر میر حاصل بزنجو نے طے کیا اس میں ہم اکثر ان کے ساتھ  تھے۔

سینیٹر مولانا عطاالرحمن نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میر حاصل بزنجو کے والد کا بھی سیاست میں بڑا نام تھا۔ میر غوث بزنجو جس طرح اپنی قوم اور ملک کے ساتھ مخلص تھے، میر حاصل بزنجو نے اپنے والد کے حقیقی جانشین ہونے کا حق ادا کیا۔ میر حاصل بزنجو نے اپنے والد، خاندان اور جماعت کے نام کو جلا بخشی، وہ ایک عظیم انسان تھے۔ میں دعا گو ہوں کہ میر حاصل بزنجو کی اولاد بھی اپنے والد کی طرح آگے بڑھے اور ان کا نام روشن کرے۔