سعودی عرب سے دوستی ہمارا ایمان

قیام پاکستان کے بعد سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایک جان اور دو قالب جیسے رہے ہیں۔ پاکستان کا ہر نیا حکمران حلف اٹھانے کے بعد زیارت حرمین شریفین کے بعد سعودی شاہ کی خدمت میں پیش ہونا ایسے ہی سعادت سمجھتا ہے۔ جیسے ایک زمانے میں خلیفہ سے سلطانی کی مہر لگوائی جاتی تھی۔

 یہ ہمالہ سے اونچی، بحر ہند سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستی تو اس مقام پر کافی مدت بعد پہنچی جب ہم نے کشمیر کا ایک متنازع خطہ دریا دلی سے اپنے اس جگری دوست کے حوالے کر دیا۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم نے ہر مشکل اور الجھاﺅ کی گھڑی میں سعودی ریالوں پر اپنا حق سمجھا ہے۔ بدلے میں ہم نے نہ صرف اپنے مسلح سکیورٹی گارڈ فراہم کرنے میں کبھی کوتاہی برتی ہے نہ اپنی لیبر مقدس سرزمین تک پہنچانے میں کبھی سستی دکھائی ہے۔ ہم سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر ہی نہیں سمجھتے ہیں بلکہ وہاں مرنا بھی ہمارے لئے نشان امتیاز سے کم نہیں ہے۔

ہمارے یہاں فوجی حکمرانی آئی یا جمہوری، سعودیوں کی دریادلی میں کبھی کمی نہیں دیکھی۔ جب ہم نے ایٹمی دھماکے کئے اور ہم پر کچھ پابندیاں آئیں تو سعودیوں نے ہماری معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے نوازشات کی بارش کر دی۔ کوئی زلزلہ آئے یا طوفان سعودی عرب نے ہمیشہ دوستی کا حق ادا کیا۔ ہمارے ایک سابق ڈکٹیٹر سے پوچھا گیا کہ آپ نے جو لندن اور دوبئی میں اتنے مہنگے بنگلے خرید رکھے ہیں، ان کی بھاری ادائیگی کیسے کی ہے؟ بولے سعودی شاہ عبداللہ نے مجھے اپنا چھوٹا بھائی قرار دے رکھا تھا۔ اس لئے تمام ادائیگی انہوں نے کی۔ ضیاالحق کا مارشل لا لگنے سے پہلے جب پاکستانی سیاست میں ایک احتجاجی طوفان آیا ہوا تھا اس وقت بھی سعودی عرب نے اپنے سفیر ریاض الخطیب کے ذریعے سمجھوتہ کروانے کی بھرپور کاوشیں کیں جو کامیابی کے قریب پہنچ گئی تھیں کہ ایک فریق نے سوچے سمجھے پلان کے تحت انہیں سبوتاژ کر دیا۔

پرویز مشرف نے مارشل لا لگانے کے بعد جب منتخب وزیراعظم کو جیل میں ڈال رکھا تھا اور پاکستان میں محاذ آرائی کا بدترین ماحول تھا سعودیوں نے سعد حریری سے مل کر حکومت اور اپوزیشن قیادت میں ڈیل کروائی، جس کے تحت سابق وزیراعظم اور ان کے خاندان نے کئی برس جدہ کے محل میں قیام رکھا۔ جنرل ضیاالحق بھی اپنی ٹینکی چارج کروانے اکثر حرمین شریفین پہنچے ہوتے تھے۔ سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں جب جہاد کا آغاز ہو رہا تھا تب بھی سعودیوں کے رول کی ایک پوری تاریخ ہے۔

درویش کو پہلی حیرت اس روز ہوئی جب نواز شریف کے دور میں ہماری پارلیمنٹ نے یمن کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی کہ ہم سعودیوں کے ساتھ غیر جانبدار رہیں گے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سب کیوں اور کیسے ہو گیا؟ شامی صاحب سے کہا کہ وزیراعظم سے پوچھیں چند روز بعد جواب ملا کہ میاں صاحب کہہ رہے ہیں کہ مجھے بھی نہیں پتا کہ یہ سب کیسے ہو گیا میں تو اسمبلی میں گیا ہی نہیں تھا۔ آج دوسری حیرت وزیر خارجہ کی سعودی عرب کے حوالے سے بیان بازی سن کر ہوئی۔ سچی بات ہے کہ یقین اب بھی نہیں آ رہا تھا کہ موصوف جتنے بھی ”ذمہ دار“ ہیں لیکن یہ کہہ کیا رہے ہیں؟

معلوم ہوا کہ جس طرح پہلی حیرت کا حقیقی باعث کوئی اور تھے، اس دوسری حیرت کے شاخسانے بھی کہیں اور ہیں۔ یہ ایک سٹریٹجی کا حصہ ہیں، سنبھالنے والے سنبھال لیں گے۔ اگر وقتی طور پر سنبھل بھی جائیں تو کیا جومیل آ گئی ہے وہ صاف ہو پائے گی؟ کیا شاہ جی اپنی سیٹ پر قائم رہ سکیں گے؟ کیا دوبارہ تعلقات اسی لیول پر آ سکیں گے؟ ہاں ضرورتیں انسانوں سے بہت کچھ کروا لیتی ہیں، لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کون کس کی کتنی ضرورت ہے؟ کہیں ہم دوسروں کے یا اپنے بارے میں غلط اندازے تو نہیں لگا رہے ہیں۔

ماشااللہ موجودہ سیٹ اپ میں سب کچھ ممکن ہے۔ جب بڑے شاہ جی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ”ترک ڈرامہ“ دیکھنا ہے یا ”لارنس آف عریبہ“ کی فلم دیکھنی ہے تو پھر بیچارے چھوٹے سے شکایت کیسی؟ ہم ملائیشیا آ رہے ہیں، نہیں آ رہے اور پھر اعلان کیا جا رہا ہے، غلطی ہو گئی آئندہ آئیں گے۔ او بھائی جان! ہمارا کوئی پیندا بھی ہے کہ نہیں؟ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ سارے انڈے جس ایک مرغی کے نیچے رکھتے ہوئے فراغت کی لڈیاں ڈال رہے ہیں اگر وہ گندے ہو گئے یا ان میں سے متوقع بچے نہ نکلے تو کیا سوچ رکھا ہے؟ پھر کیا کرنا ہے؟ اور کرنے کیلئے ہمارے پاس بچے گا کیا؟ اور متوقع بھاری نقصان کا مداوا کیا ہے؟

جب بڑی خرابیاں پڑتی ہیں تو آغاز چھوٹی خرابیوں سے ہی ہوتا ہے۔ درویش دیکھ رہا ہے کہ احمد میاں فاختہ اڑاتے ہوئے ادھر کے رہیں گے نہ ادھر کے۔ حضور! ہم کون سا نیا بلاک بنانے جا رہے ہیں چار دوستوں کا؟ ایک تو عرب ہے اس کی جو بھی رنجشییں ہیں بڑے صاحب کی بیٹھک میں تو وہ دب جاتی ہیں جو بڑے کے کہنے پر اپنے آنگن میں طالبانی معاہدے کراتے ہیں۔ وہ بھلا آپ کے کیمپ کا حصہ کیوں بنیں گے؟ خوردنی تیل بیچنے والے تو خود اپنے گھر میں ہی فارغ ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کی اپنی پارٹی نے ان کے ساتھ کھڑے ہونا پسند نہیں کیا تو پھر پیچھے بچا کون ہے سوائے ارطغرل بنانے والوں کے؟ مشہد مقدس والوں کے تو ایشوز ہی اور ہیں۔

انہی کے گرد تو گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے تو کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس گھیراﺅ میں آ جائیں۔ ان کے پاس تو ہمالہ کے اس پار بیچنے کیلئے کچھ ہے ہمارے پاس کیا ہے؟ کیا ہم نے سوچا ہے کہ یہ بگاڑ مزید آگے بڑھے گا تو اور کون کون سے مسائل سر اٹھائیں گے، اتنی بڑی لیبر ہی گھر واپس آنے کا مسئلہ نہیں ہے، جو تھوڑی بہت کاٹن انڈسٹری چل رہی ہے کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر کسی دن ہمسائے جیسی بندشیں آئیں تو اس کا کیا حال ہو گا؟ کیا ہم مغرب کا ایسا کوئی ایک جھٹکا سہ پائیں گے؟ کیا کبھی غور کیا کہ ہمارا سارا اسلحہ اور اس کی ٹیکنالوجی سات دہائیوں میں کہاں سے آئے ہیں؟ صرف پرزوں پر ہی پابندی لگ گئی تو کس قدر نہتے ہو سکتے ہیں؟ انسان کو اتنا بول بولنا چاہیے جسے سہنے کی شکتی ہو۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اسے پاکستانی عوام، جی ہاں! بائیس کروڑ عوام کی سلامتی اور ترقی و استحکام سے جوڑ کر دیکھیں۔ اگر ہم ہمالہ کو نہیں توڑ سکتے تو توڑنے کی حسرت و خواہش بھی چھوڑ دیں۔ کیا غربت، جہالت، جنونیت اور ظلم و جبر سے بڑی بلائیں بھی ہوں گی دنیا میں، جو آج ہمیں درپیش ہیں۔ ہم کیوں نہ سب سے پہلے اپنی اس مشکل سے نکلیں اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی کو محور بنا کر اپنی خارجہ پالیسی اس کی مطابقت میں تشکیل دیں۔ وطن عزیز کی خارجہ پالیسی میں اس وقت جتنی بھی مشکلات ہیں ان کی بنیادی وجہ ملک میں آزادی اظہار رائے کا فقدان ہے۔ اگر یہاں کھل کر بات کرنے کی اجازت دے دی جائے تو بہت سی غلط سوچیں، شیخ چلی کے خواب بن کرفارغ ہو جائیں گی۔