پاکستان کی گیارہ فی صد آبادی میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو چکی ہے: تحقیق
- ہفتہ 22 / اگست / 2020
- 5960
پاکستان میں حکومت کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ کورونا وائرس کی صورتِ حال میں بہتری آ رہی ہے۔ ملک میں مصدقہ کیسز میں سے تقریباً 93 فی صد افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
وزارتِ صحت کی معاونت سے کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 11 فی صد شہریوں میں کورونا وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو گئی ہے۔ آغا خان یونیورسٹی سمیت متعدد شراکت داروں اور عالمی ادارۂ صحت کی تیکنیکی مدد کے ساتھ 'ہیلتھ سروسز اکیڈمی' نے گزشتہ ماہ جولائی میں 'نیشنل سیروپریویلینس اسٹڈی' کا آغاز کیا۔ جس کے مطالعے میں یہ پتا چلا کہ شہری علاقوں کی آبادی اور درمیانی عمر کے افراد کورونا وائرس سے زیادہ محفوظ ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان علاقوں میں جہاں لوگوں میں عالمی وبا کے خلاف قوتِ مدافعت کی سطح کم ہے، وہاں مستقبل میں وبا پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ یہ مطالعاتی جائزہ پاکستان کے 25 شہروں میں کیا گیا، جس کے مطابق میں تقریباً 11 فی صد پاکستانیوں میں کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوئی ہے۔
تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ ملک میں ہر 10ویں شخص میں کرونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہو چکی ہیں۔ جب کہ اینٹی باڈیز کی سطح نوجوانوں میں بڑھی ہے لیکن بچوں اور بوڑھوں میں کم رہی ہے۔
اس تحقیق کے دوران وبا سے بچاؤ سے متعلق حکومت کی آگاہی مہم کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا جس سے پتا چلا کہ جولائی میں دن میں کئی بار ہاتھ دھونے اور ماسک کے استعمال کی شرح تقریباً 60 سے 70 فی صد رہی۔ جون یہ سطح بہت کم تھی۔
رپورٹ میں حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے صحت کی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے۔ اور دیہی اضلاع میں صحت کی سہولیات کے دائرہ کار میں اضافہ کیا جائے۔