پاکستانی عدالت میں کلبھوشن کو بھارتی وکیل فراہم کرنے کا مطالبہ

  • ہفتہ 22 / اگست / 2020
  • 4760

نئی دہلی نے پاکستان میں سزائے موت کے منتظر مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی نظر ثانی کی اپیل کے مقدمہ میں کسی بھارتی وکیل کی نامزدگی کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین اگست کو ایک فیصلے میں کہا تھا کہ بھارت کو عدالت میں کلبھوشن یادیو کا دفاع کرنے کے لیے وکیل مقرر کرنے کا ایک اور موقع دیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے بھارت کو اس معاملے میں قانونی نمائندہ مقرر کرنے کی پیشکش کی تھی۔ اس سلسلے کی اگلی سماعت تین ستمبر کو ہوگی۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے اپنی ہفتہ وار آن لائن بریفنگ میں کلبھوشن یادیو سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس معاملے پر ہم سفارتی ذرائع سے پاکستان سے رابطے میں ہیں۔ انوراگ سری واستو نے کہا کہ ہم نے پاکستان سے کہا ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے مطابق آزادانہ اور شفاف عدالتی کارروائی کے لیے کلبھوشن یادیو کی نمائندگی کے لیے ایک بھارتی وکیل نامزد کرنے دیا جائے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے بقول پاکستان کو پہلے اصل مسائل حل کرنا ہوں گے۔ یعنی اس کیس کی دستاویزات فراہم کرنے کے علاوہ کلبھوشن کو آزادانہ بلا تعطل قونصلر رسائی دینی ہو گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں اس معاملے میں تین سینئر وکلا کو عدالت کا معاون مقرر کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ حکومتِ پاکستان وکیل نامزد کرنے کے لیے بھارت کو ایک اور موقع دے۔

پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے جاسوسی کے الزام میں کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائی تھی۔ پاکستان نے اس معاملے میں ملکی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی وکیل نامزد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔  پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیس کے متعلق کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی یہ قانون ہے کہ وہی وکلا فاضل جج کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں جنہیں اس ملک میں پریکٹس کرنے کا لائسنس دیا گیا ہو۔

انہوں نے امید کا ظاہر کی کہ بھارت ایک ایسا وکیل نامزد کرے گا جو پاکستان میں قانونی پریکٹس کرنے کا مجاز ہو۔ زاہد حفیظ چوہدری نے مزید کہا کہ بھارت بہانے بازی کر رہا ہے اور ٹال مٹول کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ وہ پاکستانی عدالت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا اور پاکستان کو عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے بھی نہیں دے رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو الزام تراشی کی بجائے آگے آنا چاہیے اور پاکستانی عدالت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ ہم نے بھارت کو ایک اور قونصلر رسائی کی پیشکش کی ہے۔ امید ہے کہ نئی دہلی اس پر مثبت قدم اٹھائے گا۔

بھارتی سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل اور عالمی قوانین کے ماہر اے رحمٰن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے زاہد حفیظ چوہدری کی بات کی تائید کی اور کہا کہ ہر ملک کی بار کونسل اپنے ملک میں قانونی پریکٹس کرنے کے لیے اصول و قوانین وضع کرنے کی مجاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کوئی وکیل چوںکہ بھارت میں پریکٹس نہیں کر سکتا اس لیے پاکستان کی بار کونسل نے بھی یہ ضابطہ وضع کر رکھا ہے کہ بھارت کا کوئی وکیل ان کے ہاں قانونی پریکٹس نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ وہاں پریکٹس کرنے کے لیے رجسٹرڈ نہ ہو۔

اے رحمٰن کے بقول تاہم دونوں ملکوں میں ایک قانونی ضابطہ موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ بھارت کا وکیل پاکستان جا سکتا ہے اور کسی مقامی وکیل کی خدمات حاصل کر کے اسے ہدایات دے سکتا ہے اور خاموشی سے عدالت میں موجود رہ سکتا ہے۔ اس کی موجودگی میں مقامی وکیل کیس لڑ سکتا ہے۔ یہ انتظام دونوں ممالک میں ہے۔

انہوں نے اپنی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جیلوں میں بند پاکستانی ماہی گیروں کا مقدمہ انہوں نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے تین سال تک لڑا تھا۔ اس سلسلے میں پاکستان سے انہیں اتھارٹی لیٹر ملا تھا اور انہیں پاکستانی ہائی کمیشن سے ہدایات ملتی تھیں۔ لیکن اس کی اطلاع حکومت کو دینی ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت کو یہاں کا وکیل نامزد کرنے کی بات کرنے کی بجائے پاکستان کے کسی سینئر وکیل کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں جو بھارتی وکیل کی موجودگی میں عدالت میں کلبھوشن کا مقدمہ لڑ سکے۔

بھارت نے یادیو تک قونصلر رسائی اور سزائے موت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے 2017 میں عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کیا تھا۔ عالمی عدالت انصاف نے جولائی 2019 میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پاکستان سزائے موت کے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور یادیو کو بلا تاخیر قونصلر رسائی فراہم کرے۔

پاکستان کے صدر عارف علوی نے مئی میں حکومت کی سفارش پر ایک خصوصی آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت کلبھوشن کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا تھا۔ لیکن پاکستان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن نے سزائے موت پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے سے انکار کیا ہے اور انہیں رحم کی درخواست پر فیصلے کا انتظار ہے۔

بھارت نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یادیو پر دباؤ ڈال کر اسے ایسا کہنے پر مجبور کیا گیا ہے۔